• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • زیادتی کے واقعات: عمومی غلط فہمیاں اور حل ۔۔۔ حافظ صفوان

زیادتی کے واقعات: عمومی غلط فہمیاں اور حل ۔۔۔ حافظ صفوان

جنسی زیادتی کے واقعات آج کل بہت رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اہم سماجی مسئلہ ہے جس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ضروری ہے۔ آئیے کوشش کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ مرد عورت کا ایک دوسرے کی طرف لپکنا بنی آدم کے خمیر میں شامل ہے۔ جب تک انسان موجود ہے یہ جذبہ باقی اور توانا رہے گا۔ روایتی تاریخ کا پہلا قتل بھی عورت کے لیے ہوا تھا، یعنی یہ لپک اس قدر شدید تھی کہ عورت موجود رہی اور اس کے پیچھے ایک مرد زندگی کی بازی ہار گیا۔

جنسی جانوریت کیوں ہوتی ہے، اس کا جائزہ لینے کے لیے آئیے ذرا ان عمومی غلط فہمیوں کا ایک جائزہ لے لیں جن کے بارے میں یہ خوش فہمی رہتی ہے کہ فلاں فلاں چیز اگر کرلی جائے تو یہ جرائم کم ہو جائیں۔

پہلی چیز سزا ہے۔ کچھ لوگ یہ دلائل دیتے ہیں کہ سرِ عام پھانسی یا اسی نوع کی کوئی عوامی عبرت والی سزا دی جائے تو یہ جرائم پیش نہیں آئیں گے۔ یہ ایک تاریخی غلط فہمی ہے۔ تاریخ کے سرسری مطالعے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ قدیم ترین مذاہب میں جنسی درندگی پر یا غیر عورت سے تعلق رکھنے پر سنگساری اور آگ میں جلانے نیز پہاڑ سے گرانے کی سزا بھی ملتی ہے۔ ان سزاؤں کے باوجود یہ واقعات پیش آتے رہے۔ چنانچہ سزا اور سخت ترین کھلے عام سزا بھی ان جرائم کے روکنے یا ان میں قرار واقعی کمی لانے کا حتمی سبب نہیں بنی، اور چنانچہ اب بھی نہیں بن سکتی۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد مذہب کا تعلق جنسی جرائم کا تعلق سے جوڑتی ہے۔ یہ لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ مذہب سے دوری یا مذہبی اعتقادات کی کمزوری یہ اور اس قسم کے جرائم کراتی ہے۔ یہ خیال بھی ازسر غلط اور تاریخی حقائق کو جھٹلاتا ہے۔ مذہبی معاشروں میں بھی یہ جرائم ہوتے آئے ہیں۔ نبی جیسے نیک ترین انسانوں کے موجود ہوتے ہوئے بھی یہ جرم رپورٹ ہوا ہے اور بعض اوقات اس پر سنگساری جیسی عبرت آموز سزا بھی نافذ کی گئی ہے۔

تعلیم اور تہذیب سے بھی جنسی زیادتی کا تعلق جوڑا جاتا ہے، کہ انسان تعلیم یافتہ ہوجائے اور معاشرہ مہذب ہوجائے تو یہ جرائم کم یا ختم ہوجائیں گے۔ یہ خیال بھی تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے درست نہیں۔ آج کے تعلیم یافتہ اور مہذب ممالک میں بھی یہ جرم ہوتا ہے اور بڑی شرح پر ہوتا ہے۔ جنسی جرائم کی شرح اب تو ہر ملک کی سالانہ Yearbook میں باقاعدہ شائع ہوتی ہے۔

کچھ لوگوں کے ہاں مذہبی تعلیم اور یومِ آخرت کا یقین نہ ہونا یا یہ یقین کمزور ہونا بھی جنسی زیادتی کے واقعات کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ یومِ آخرت کے تصور والے ادیان کے ماننے والے اور مذہبی تعلیم کے باقاعدہ اداروں والے معاشرے بھی اس جرم میں کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔

محرمات سے ہونے والی جنسی درندگی کے واقعات کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ ہماری فقہ میں ان جرائم پر سزاؤں کا جتنا مواد ملتا ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جب یہ مسائل لکھے گئے اس وقت معاشرے میں ایسے جرائم ہو رہے تھے تبھی ان کے لیے Legislation کی گئی تھی۔ سیدالقوم سر سید احمد خاں نے تہذیب الاخلاق کے ابتدائی کسی شمارے (1871 کے آس پاس کا زمانہ) میں اس مضمون کا جملہ لکھا تھا کہ اگر طوائفیں نہ ہوں تو مسلمان مرد محرمات میں کود پڑیں گے۔ معلوم ہوا کہ مغل بادشاہت کے دور میں بھی یہ جرم موجود تھا اور معاشرہ اس سے تنگ تھا، نیز اس جرم کا انگریز کے یہاں آنے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت اس سماج میں ہمارے بڑے بڑے دین دار علما اور صوفیائے کرام موجود تھے۔ یہیں سے یہ شدید مغالطہ بھی الم نشرح ہوجاتا ہے کہ عورت کو پردے میں اور گھر پہ بٹھایا جائے کیونکہ سارا فساد اور جنسی جرائم عورت کے گھر سے نکلنے سے شروع ہوتے ہیں، تو اس کا دو جمع دو برابر چار جیسا واضح جواب یہ ہے کہ عورت گھر میں کون سی محفوظ ہے؟

لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس قسم کے دلائل رکھتی ہے کہ ناول، شاعری، ریڈیو، ٹی وی، فلموں، سنیماؤں، وی سی آر، ڈش انٹینا اور ازاں بعد سوشل میڈیا بشمول فیسبک، وھاٹس ایپ اور ٹویٹر وغیرہ کی آمد نے ہمارا خاندانی نظام برباد کر دیا ہے جس کی وجہ سے جنسی جرائم اور دیگر فحاشیاں کثرت سے ہونے لگی ہیں۔ یہ دلیل بھی ازسر پادر ہوا ہے۔ یہ تمام جرم ان سب ایجادات سے پہلے سے ہوتے آ رہے ہیں۔

نیز کچھ مغالطے بہت کثرت سے دوہرائے جاتے ہیں۔ مثلًا فلاں جگہ ناچ گانا ہو رہا تھا جس نے فلاں کے جذبات مشتعل کر دیے اور وہ فلاں جنسی جرم کر گزرا یا کر گزری۔ یا مثلًا کھیل کے میدان میں لڑکی نے چست لباس پہنا تھا جس کے جسم کے ابھار ایسے دِکھتے تھے کہ فحاشی پھیل رہی تھی جس سے فلاں کے جذبات بھڑکے اور وہ بے چارہ معصوم یہ جرم کرنے پر مجبور ہوگیا۔ سوشل میڈیا اور فلاں فلاں چینل اور فلاں ملک کے ڈرامے اور فلاں ملک کی فلمیں بند کر دی جائیں جس نے ہماری نوجوان نسل کو جلد جوان کر دیا ہے اور وہ زنا کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ سادہ سا سوال ہے کہ کیا جنسی جرائم صرف ناچ گانے، کھیل کود اور ٹی وی ڈرامے دیکھنے والے کر رہے ہیں؟

اسی طرح یہ ایک شدید مغالطہ ہے کہ نکاح آسان ہوجائے تو زنا مشکل ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ نکاح اور زنا کے درمیان معکوس تناسب والا یہ فارمولہ اس وقت کیوں کام نہیں کرتا جب ایک شادی شدہ عالمِ دین اپنے دوستوں کے ساتھ چلتی گاڑی میں ایک جوان لڑکی سے اجتماعی زنا کرتا ہے؟ کئی بیویوں والے مولویوں کے مدرسوں میں سیکڑوں لڑکیاں ان کی باندیاں بن کے کیوں رہ رہی ہوتی ہیں؟ نکاح اور زنا کے درمیان معکوس تناسب کا یہ فارمولہ تب کہاں ہوتا ہے جب ایک شادی شدہ شخص 2 ماہ کی یا 3 سال کی بچی سے زیادتی کرتا ہے؟ اس شادی شدہ مرد کو 2 ماہ کی بچی کے جسم میں فحاشی کیسے نظر آگئی؟ ایک ڈاڑھی والا مسجد کا پکا نمازی باپ اپنی 5 سال کی بچی سے مہینوں زیادتی کرتا ہے اور اس کی بیوی بھی گھر موجود ہے۔ بیوی کے ہوتے ہوئے پانچ سال کی بچی میں جنسی کشش موجود ہے اور بیوی میں نہیں؟ ایک بڑی درگاہ کے ہمسائے میں رہنے والے تین ڈاڑھی والے شادی شدہ بھائی اپنی نابالغ بہن کے ساتھ سالہا سال اجتماعی زیادتی کرتے ہیں اور اب ضمانت پر رہا ہوکر اسی گھر میں اسی بہن کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ تینوں بھائیوں کی بیویوں میں جنسی کشش نہیں ہے اور نابالغ بہن میں موجود ہے، اور یہ تینوں مل کر اس پر ہوس پوری کرتے ہیں۔ وہ درگاہ جہاں کے سالانہ عرس میں ساری دنیا سے مسلمان آتے ہیں اس کے ہمسائے میں یہ کام ہو رہا ہے۔ جو لوگ دلوں کی دنیا روشن کرتے ہیں ان کے ہاں روزانہ آکر نماز پڑھنے والے لوگ اس قدر سیاہ دل کیوں ہیں؟ نماز ان کو برائی اور فحاشی سے کیوں نہیں روکتی؟ نکاح اور زنا میں معکوس تناسب کا فارمولہ کس حد تک درست ہے؟

یہ وہ چند زندہ سوال ہیں جن کا جواب نہ مذہب کے پاس ہے نہ خدا کے پاس ہے اور نہ معاشرے کے پاس۔ ان سب واقعات نے خدا کے وجود، خدا کےخوف، خدا کے گھر، خدا کے کلام، بلکہ خود خدا ہی کو مذاق بنا دیا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ دن میں کئی مرتبہ خدا کے گھر میں آنے والے اور خدا فروشی کا کاروبار کرنے والے مذہبی حلیے والے لوگ جب یہ جنسی درندگی کرتے ہیں تو خدا ان کو روکتا کیوں نہیں، تو اس کا جواب سوائے آئیں بائیں شائیں کے کچھ نہیں ہوتا۔ خوب واضح رہے کہ یہ اور ایسے سوالات صرف اسلام کے ماننے والوں کو درپیش نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو برابر درپیش ہیں۔

ایک یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ جنسی زیادتی کے جرائم کے واقعات آج کل زیادہ سننے میں آنے کی وجہ یہ نہیں کہ لوگ بہت خراب ہوگئے ہیں یا معاشرہ تباہ ہوگیا ہے۔ یہ جرائم آج بھی پہلے ہی جتنے تناسب سے ہو رہے ہیں۔ ان جرائم کے رونما ہونے کی شرح کا تعلق آبادی سے ہے۔ جہاں پانچ چھہ ہزار آبادی کے ایک قصبے میں مہینے میں دو واقعات کی اوسط تھی، آج وہاں پانچ لاکھ آبادی ہے تو جرائم کے واقعات کی شرح بھی اسی اوسط سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری وجہ ذرائع ابلاغ کی کثرت اور اور زودیابی ہے۔ وہ خبر جو ایک محلے سے دوسرے میں نہ پہنچتی تھی، آج ہمسائے کو معلوم ہونے سے پہلے ساری دنیا میں پھیل چکی ہوتی ہے چنانچہ ایک منفی تاثر والی خبر کے بار بار دیکھنے سننے سے دماغ صرف برا ہی برا سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

یاد رہنا چاہیے کہ جنس دیگر بنیادی ضروریات کی طرح ایک انسانی ضرورت ہے۔ ایک نارمل انسان کی تمام بنیادی ضروریات بہ طریق احسن پوری ہو رہی ہوں اور ضرورت سے زیادہ پر مکمل انسانی اختیار ہو تو معاشرہ فساد و انتشار کا شکار نہیں ہوتا۔ جرائم دو صورتوں میں جنم لیتے ہیں: اول، کسی سبب ضرورت پوری ہی نہ ہو پانا، اور ثانیًا، ضرورت سے زیادہ پر اختیار نہ ہونا۔ یہی مسئلہ قابلِ غور ہے۔ اگر ایسا ہو تو یہ مخصوص نفسیاتی مرض شمار کیا جانا چاہیے اور اس کا باقاعدہ علاج ضروری ہے۔ اکثر اسے مرض ہی نہ سمجھتے ہوئے انسان کو ذلت کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ کسی بھی بنیادی ضرورت کے ازدیاد پر اختیار نہ ہونے کے سبب ہوتا ہے۔ چنانچہ جس سماج میں انسان (مرد عورت دونوں) کی جنس والی بنیادی ضرورت پوری نہ ہوگی اس سماج میں بگاڑ ہی بگاڑ ہوگا اور یہ بگاڑ ہمہ جہت ہوگا۔

اوپر کی گئی باتوں سے یہ نتائج نکالنا مشکل نہیں کہ جنسی زیادتی کا کوئی تعلق کسی نسل، مذہب یا جنس سے نہیں ہے اور نہ غربت، امارت، تعلیم، تہذیب، اقتدار یا طاقت و حیثیت سے ہے اور نہ خدائیت، لاخدائیت یا دہریت سے۔ جنسی زیادتی ایک انسانی جرم ہے جو ہبوطِ آدم سے ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔ جنسی جرم سے روکنے یا اس کی سزا نافذ کرنے کے لیے خدا کبھی آسمان سے نہیں اترے گا اور نہ خدا کے خوف سے کوئی مجرم یہ جرم چھوڑے گا۔ معاشرے میں جنسی جرائم سمیت سبھی جرائم کو کم کرنے کی وہی ترتیب آج بھی کارگر ہوگی جو حضرت محمد علیہ السلام نے اپنے دور میں چلائی، یعنی ہر مرد و عورت کے لیے کماکر کھانے کے ذرائع معاش پیدا کرنا اور پیہم متبادل مصروفیت پیدا کرنا۔ نبی کریم کے دور میں مرد عورت دونوں کماتے کھاتے تھے۔ نیز آپ نے مردوں عورتوں کو بڑے خواب دکھاکر بڑے اہداف کے حصول میں لگا دیا تھا جن میں وہ اس جانفشانی سے لگ گئے تھے کہ منفیت کی طرف ان کا ذہن کم سے کم چلتا تھا اور جرائم کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہ بچتا تھا۔

حضرت محمد علیہ السلام کے اسوہ سے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ سماجی جرائم سے بچانے کے لیے سماج کے ہر فردِ بشر کا کمائی میں لگے ہونا اور کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے پیہم مصروف ہونا ضروری ہے کیونکہ جرم مرد و عورت دونوں کرتے ہیں۔ سماج میں جو بھی فارغ ہوگا اسی کا دماغ شیطان کی ورکشاپ بنے گا۔ خدا سمجھ دے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *