افغانستان کی قدرتی دولت دو دھاری تلوار /قادر خان یوسف زئی

افغانستان میں قبضے کے دوران امریکی فوجی سائنسدانوں نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ افغانستان، ایک مسلسل جنگ اور اقتصادی تباہی کے ساتھ بطور ملک، اصل میں ایک ”کارنوکوپیا” ہے، جس میں لوہے، تانبے، سونے اور لیتھیم کے ذخائر اور دیگر اہم وسائل سمیت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے ثابت شدہ لیکن غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کے مجموعی قیمتی ذخائر موجود ہیں جسے آج بھی افغان عوام اپنے سنہرے خواب کی  صورت میں دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر معدنیات افغانستان کے پہاڑوں میں پائی جاتی ہیں اور کچھ علاقے روایتی طور پر افغان طالبان فورسز کے کنٹرول میں تھے، جس کی وجہ سے امریکہ اور نیٹو  فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ افغانستان پر قبضے کے مفادات میں جہاں امریکہ کے عالمگیر مفادات تھے وہیں امریکی اسلحہ ساز ادارے اور تیل کے مفادات رکھنے والے گروہ اصل میں افغانستان کے معدنی وسائل کو نگلنا بھی چاہتے تھے، لیکن توقع نہیں تھی کہ افغانستان سے لڑنا اتنا مشکل ہو جائے گا۔

افغانستان میں معدنی وسائل کا تعین کرنے کا کام بنیادی طور پر امریکی فوج کے خصوصی دستے نے مکمل کیا تھا، اس سے قبل آگاہ کیا جا چکا تھا کہ افغانستان روایتی دستکاری اور زرعی مصنوعات کی برآمد پر حاوی ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد در حقیقت اگر ملک مستحکم بھی ہو تو بھی افغانستان کے معدنی وسائل کو ترقی دینا ممکن نہیں ہو رہا کیونکہ عالمی سطح پر افغان طالبان کی بنائی گئی حکومت کو عالمی قوتوں اور حلیف ممالک کی جانب سے بھی تسلیم کئے جانے میں احتیاط اور مفادات حائل ہیں۔ افغانستان میں تیز رفتاری سے ترقی نہ کرنے میں بنیادی طور پر ریل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے نظام کی کمی بھی ایک اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ بجلی کی فراہمی کی بھی شدید کمی کی وجہ سے مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ امریکی حکام کی رپورٹس کے مطابق اب تک دریافت ہونے والے گراں ترین ذخائر تانبے اور لوہے کے ہیں جو افغانستان سے دنیا میں تانبے اور لوہا  فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ، افغانستان کے لیتھیم کے ذخائر بولیو یا کے مقابلے میں ہیں۔مؤخر الذ کر افغانستان میں لیتھیم کے ذخائر دنیا میں سب سے زیادہ بتائے گئے ہیں۔

ایک نایاب معدنیات کے طور پر، لتھیم ریچارج ایبل بیٹریوں کی تیاری کے لئے ایک اہم خام مال ہے، اور موبائل فونز، کمپیوٹرز اور یہاں تک کہ برقی گاڑیوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کچھ مغربی حکومتوں کا خیال ہے کہ اگر وہ افغان طالبان کے خلاف مزید فوج بھیجتے تو  وہ آج افغانستان کے معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے انتہائی فائدہ مند پوزیشن میں ہوتے۔ تاہم مقامی جنگجو گروپ معدنی وسائل پر قبضے کی جنگ میں الجھتے تو یہ ملک کو ایک نئی خانہ جنگی   کا باعث بن سکتا ہے لہذا پینٹاگون کے ”تھنک ٹینکس” نے فالو اپ کام کی ہموار پیشرفت کو یقینی بنانے کے لئے فوجیوں میں اضافہ جاری رکھنے کی وکالت کرتے رہے۔ امریکی حکام کو اب بھی خدشہ  ہے کہ ‘ قدرتی دولت’ دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے لیکن کان کن اور افغان طالبان حکومت قدرتی ذخائر کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

اس حقیقت کے علاوہ کہ افغان طالبان کا ملک پر کنٹرول مستحکم ہو گیا تو مغربی قوتوں کے مفادات پر کاری ضرب پڑ سکتی ہے۔ افغانستان کو تسلیم نہ کئے جانے میں یہ ایک اہم عنصر بھی ہے معدنی ذخائر سے مالا مال علاقوں میں  مرکزی حکومت  مقامی حکومتوں اور قبائلی سربراہوں کے درمیان ”کھیل” آنے والے وقت میں ناگزیر ہو سکتا ہے۔

مفروضہ یہی ہے کہ افغانستان کو غیر مستحکم رکھا جائے، پڑوسی ممالک سے الجھائے رکھنے کی پالیسی جاری رہے۔ افغانستان کے افغان طالبان مخالف دھڑوں کو وقت آنے پر استعمال کیا جاسکے۔جن میں طالبان کو تقسیم کرنا بھی شامل ہے، ان معدنیات کو امریکی فوج نے دریافت کیا، مستقبل میں فوائد اٹھانے کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی، اس کے علاوہ معدنیات کی کان کنی، پروسسنگ اور ایکسپورٹ اور دیگر خصوصی کاروبار، افغان مقامی فورسز نے آسانی سے حاصل کیا، اگر افغانستان امریکہ کے ساتھ تعاون کے علاوہ فوائد کو منقسم کرنا چاہتے ہیں تو ان کی تمام جد وجہد کو بدترین نقصان پہنچتا ہے اور افغان طالبان کو ملک میں سرخ آنکھوں والے جنگجوؤں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors

حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہوتا تو شاید جنگ بہت پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی ،افغانستان کی زندگی مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہو جائے، یہ مغرب کی خواہش رہی اور ہوگی اور اس کے لئے افغان طالبان کی سخت گیر پالیسیاں بھی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ افغانستان، روس، چین اور ایران کی مدد سے امریکی سامراج کے خلاف مزید نہیں لڑ سکتا اور ان معدنیات کو بالآخر مغرب کے ہی حوالے کرنے پر  مجبور ہو سکتا ہے۔ مندرجہ بالا مفروضہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ یہ معدنیات قیمتی ترین ذخائر ہیں اور کوئی دو رائے نہیں، افغان حکومت کو دوحہ معاہدے کے مطابق نظم و نسق اور انصرام کو یقینی بنائے بغیر عالمی سطح پر تعاون نہیں مل سکتا۔ پڑوسیوں سے الجھنے کے بجائے افغان طالبان کو عوام کو ریلیف دینے کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت تعاون کو آگے بڑھانا ہوگا کیونکہ یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply