یوم یکجہتی کشمیر ( سو لفظوں کی کہانی )

میں نے اپنے دوست کاشف سے دریافت کیا ۔
یار ! کشمیر مسلسل 70 سال سے آگ میں جُھلس رہا ہے
مگر ہمارے حکمران کشمیر کی آزادی کیلئے آواز بلند کیوں نہیں کرتے ؟
آئے دن بھارتی سورماؤں کے ہاتھوں مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہو جاتیں ہیں ،
عورتیں بیوہ ہورہی ہیں ، اور کبھی قوم کی بیٹیوں کو بے آبرو کردیا جاتا ہے مگر حکمران خاموش کیوں ہیں ؟
کاشف کا رنگ غصے سے لال پیلا ہوگیا ، پھر بولا
اوئے بھائی!
جدھر کے حکمران خود بیرونی طاقتوں کے غلام ہوں اُن کے ڈالروں پر پلتے ہوں بھلا وہ کشمیر کی آزادی کیلئے خاک آواز اُٹھائیں گے ۔

ثقلین مشتاق کونٹا
ثقلین مشتاق کونٹا
آپ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اسلام آباد میں کیمیکل انجنیئرنگ کے طالبعلم ہیں۔صحافت سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں ۔ پاکستان کو ایسی ریاست بنانے کے خوہاں ہیں جہاں اللہ کے بعد عوام کی حکمرانی ہو نہ کہ جمہوری آمروں کی آمریت قائم ہو ۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر صحافی برداری عوام میں شعور بیدار کرنا کا بیڑہ اُٹھا لیں تو یہ مشکل کام جلد ممکن ہوسکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *