پاکستان شدید آبی بحران کی زد میں۔۔ انس انیس

وطن عزیز میں وہ کون سی نعمت خداوندی ہے جو یہاں پائی نہیں جاتی،قدرت خداوندی کا یہ عظیم گلدستہ خطے کی ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں تمام تر نعمتیں پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں.لیکن ہماری مسلسل بےحسی، لاپرواہی ،عدم دلچسپی و بدذوقی کو داد دینی بنتی ہے جس نے اس مملکت خداداد کو نت نئے بحرانوں سے دوچار کر دیا ہے.باد سموم کے تھپیڑے لگاتار ہمارے درودیوار پر دستک دے کر ممکنہ نتائج سے خبردار کر رہے ہیں لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ۔۔
زمین جنبد نہ جنبد گل محمد!

ہم معاشرتی طور پر ایسی بےحسی ،لاپرواہی ولاعلمی کے مقام پر فائز ہیں جہاں سے نکلنے کی کوئی کڑھن و جستجو تک پیدا نہیں ہو رہی.
ہر معاملے میں اغیار کی سازشوں اور حکمرانوں کی عیاریوں کا پلندہ اٹھائے پھرتے ہیں ہر جگہ سازش کی بو محسوس کر لیتے ہیں لیکن جو چیزیں انفرادی و معاشرتی طور پر ہمیں گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں ان کی طرف کبھی اک نظر تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے.آئے روز نت نئے بحرانوں کے حوالے سے خبریں تواتر کے ساتھ ہماری نظروں سے گزرتی ہیں لیکن عمل ندادر.اک جانب ہمیں آبی بحران کا سامنا ہے تو دوسری طرف درختوں کی دھڑادھڑ کٹائی نے موسمیاتی قحط بھی پیدا کر دیا ہے.

کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے  برائے موسمیاتی  ادارے  کی رپورٹ نے پاکستان کو آبی بحران کے شکار پندرہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا تھا جبکہ بین الاقوامی ادارے کی اب  تک  کی  رپورٹ  کے  مطابق  پاکستان  کا  شمار  ان چند بدنصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے سرکاری اعداد و شمار  کے مطابق گزشتہ 60 برسوں کے دوران پاکستان میں ہر شخص کو سالانہ 5260 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جبکہ 2016 میں مزید کم ہو کر فی کس سالانہ پانی کی دستیابی محض 900 کیوبک رہ گئی ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی کے ذخائر نہ بنائے اور سیلابی پانی کا دانشمندانہ اقدام نہ کیا تو 2035 تک فی کس پانی کی دستیابی کی شرح مزید کم ہو کر 500 کیوبک میٹر رہ جائے گی.موسمیاتی تغیر سے دوچار ممالک میں پاکستان کو آٹھویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے جبکہ پانی کی کثرت استعمال کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر موجود ہے. ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی پینے کے صاف اور محفوظ پانی سے محروم ہو چکی ہے.

ابھی حال ہی  میں  واپڈا کے چیئرمین نے سینٹ میں فورم فار  پالیسی  ریسرچ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان میں 75 فیصد پانی گلیشیئر اور 25 فیصد بارشوں سے حاصل ہوتا ہے پاکستان میں آبی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں 15 نمبر پر موجود ہے. بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے. پاکستان کے درجہ حرارت میں 10 فیصد اوسطاً اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے گلیشیئر پر برف تیزی سے پگھل رہی ہے. مستقبل میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے تدارک کے لئے بروقت ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے.

حال ہی میں   اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ترقیاتی پروگرام نے حکومت پاکستان کو ایک مراسلے کے ذریعے قلت آب کے اس شدید بحران سے خبردار کیا رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے قحط سالی پیدا ہونے والی ہے. پاکستان کے بڑے دریا دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے جس کے نتیجے میں زراعت متاثر ہونی شروع ہو جائے گی اور آئندہ کے تین سالوں میں پانی کی کمی اس قدر واقع ہو جائے گی کہ جس سے بجلی کی پیداوار محال ہو جائے گی دریائے سندھ میں 25 سے 30 فیصد پانی گلیشئر کے پگھلنے سے جبکہ 30 سے 40 فیصد پہاڑوں کی برف پگھلنے سے آتا ہے اور دریائے سندھ کی باقی معاونت دریا اور ندی نالے کرتے ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں دریا سندھ میں ان تینوں ذرائع سے پانی میں کمی واقع ہو جائے گی جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح نیچے ہوتی چلی جائے گی جس کا براہ راست اثر کراچی پر پڑے گا.

موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر یہاں کے دریاؤں بالخصوص بلوچستان کے دریاؤں پر بھی پڑا ہے. بلوچستان میں عرصہ دراز سے جاری قحط سالی کا باعث وہ موسمی دریا ہیں جنکا منبع بارشیں یا چشمے ہیں خشک سالی کی وجہ سے اکثر چشمے خشکی کا منظر پیش کر رہے ہیں اور زمین بنجر ہوتی چلی جا رہی ہے.موسمیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجہ درختوں کی بےدریغ کٹائی ہے جس سے موسمیاتی اور آبی تغیر و تبدل برپا ہو رہا ہے اس حوالے سے وفاق کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وزارت گھوٹا پی کر سوئی پڑی ہے. موسمیاتی وزارت کے وزیر مشاہد اللہ خان صاحب سے جب اس بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ہم فی الوقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں درخت تو دنیا بھر میں کاٹے جا رہے ہیں.

موسمیاتی تغیر و تبدل کا ہلکا سا تھپیڑا ملک بھر میں دھند کی چادر میں لپٹی سموگ نامی بیماری ہے، یاد رہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک ہلکا سا جھٹکا ہے. صورتحال کا عملی ادارک نہ کرنے کی صورت میں ایسے مزید شدید جھٹکنے لگنے کا بھی امکان پایا جاتا ہے
بین الاقوامی پینل برائے موسمی تغیرات نے کہا ہے کہ آب و ہوا میں رونما ہونے والی تبدیلیاں شدید موسمی تغیرات کے باعث پانی کا انتظام یقیناً ایک چیلنج ہے سامراجی طاقتیں دیگر وسائل کے ساتھ ساتھ اب پانی پر بھی قبضہ جمانے کی سوچ میں ہیں بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کیا جا چکا ہے عالمی تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں قلت آب خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے. پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی محدود ہے.

بین الاقوامی پینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ ہونا لازمی ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں اس وقت محض 30 دنوں کے لیے ہی ذخیرہ شدہ پانی موجود ہے جبکہ اسکے مقابل انڈیا کی اوسط ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 220 دنوں کا پانی ذخیرہ ہے.بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر اترا ہوا ہے مشرقی دریاؤں کے پانی سے پاکستان کو محروم کرنے کے درپے ہے.پاکستان میں چھوٹے بڑے ڈیموں اور بیراجوں کی تعداد ملکر ڈیڑھ سو بنتی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں بھارت میں چار ہزار چھوٹے بڑے ڈیم اور بیراج بنائے جا چکے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو زیر تعمیر ہیں۔بھارت نے مختصر سے عرصے میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے 60 سے زائد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی ہے.جبکہ ہمارا عظیم الشان کالا باغ ڈیم کا منصوبہ عرصہ دراز سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے اور نہ ہی ہم اس کے علاوہ کسی متبادل طریقے پر توجہ دے رہے ہیں.

موسمی تغیرات کے باعث ہمالیہ سے نکلنے والے دریائے سندھ کے بہاؤ میں واضح کمی واقع ہوئی ہے جو پاکستان میں تازہ پانی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بہاؤ میں مسلسل کمی کی وجہ سے دریائے سندھ کا طاس سکڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں پانی کھارا اور آلودہ ہو رہا ہے. نمکیات سطح بڑھنے کی وجہ سے مینگروو کے جنگلات اور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے.پاکستان میں زرعی شعبے کا دارومدار پانی پر ہے جو کسانوں کو بآسانی دستیاب ہو جاتا ہے. پاکستانی نہری نظام کی ممتاز اور بنیادی حیثیت کے باوجود یہاں کے کسانوں کو پھر بھی قلت آب کا سامنا کرنا پڑتا ہے.آبی ذخائر کی شدید کمی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کیوسک پانی سمندر کے حوالے کر دیا جاتا ہے.ایک تو ڈیمز کی تعداد نہایت کم ہے اور جو ڈیم موجود بھی ہیں ان میں پانی کا لیول مسلسل کم ہونے کی وجہ سے نہریں سوکھے پن کا شکار ہیں.میٹھے پانی کے ذخائر شدید بدانتظامی،موسمی تغیرات،بےہنگم طور پر زمین کی نکاسی، بڑھتی ہوئی آبادی، کھلے طور پر عمارتوں سڑکوں گاڑیوں پر میٹھے پانی کے کثرت استعمال اور انسانی وحیوانی فضلہ جات کی وجہ سے مسلسل کم ہوتے چلے جا رہے ہیں.

ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ میٹھے پانی کا 70 فیصد حصہ زراعت 22 فیصد صنعتوں اور 8 فیصد گھریلو ضروریات پر استعمال ہو رہا ہے بھارت نے چھوٹے ڈیمز کے ذریعے 285 ملین ایکڑ میٹھا پانی جمع کر کے اپنا 60 فیصد کام مکمل کر لیا ہے جبکہ پاکستان صرف دس فیصد کا ہی ابھی تک کام کیا ہے.جھیلوں ندیوں سے دریاؤں میں بہنے والا پانی ذخیرہ نہ کیے جانے کے باعث سمندر کے پانی میں مل کر تلف ہو جاتا ہے.پاکستان میں قلت آب کی بنیادی وجہ ڈیمز کا تعمیر نہ ہونا ہے بارشوں اور سیلابی پانی کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ پانی سمندر میں چلا جاتا ہے ماہرین کے مطابق پانی کے ضیاع کی وجہ سے ملکی معیشت کو سالانہ 36 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے.حکمرانوں کی عدم توجہی و لاپرواہی نے آج وطن عزیز کو ایک بہت بڑے اور خطرناک بحران کا شکار بنا دیا ہے کاش سیاسی و جز وقتی مسائل سے ہٹ کر ہم اصل اور حقیقی ایشوز پر بات چیت کریں اور نت نئے خطرناک بحرانوں کا ادارک کریں تو شاید ایسی بلائیں آنے سے پہلے ہی ٹل جایا کریں لیکن۔۔۔ایں بسا آرزو کہ خاک شد!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *