نوٹنکی باز۔۔۔صبغت وائیں

ساڈھے وچوں جہڑا بولیا مریا اے۔۔۔۔۔۔ باگے کُوکن والی گھُگھی ساڈھی نئیں
منیر عصریؔ
(ہم لوگوں میں سے جو بولتا ہے، مار دیا جاتا ہے۔۔۔ باغ میں جو فاختہ بول رہی ہے، اس کا بولنا ہی دلیل ہے، کہ وہ ہماری نہیں ہے)
دادا جان نے ایک بار گرو نانک کی ایک کہانی سنائی جو کچھ یوں تھی:

ایک کہانی میں گرو نانک جی ایک گاؤں میں جاتے ہیں، تو سب گاؤں میں شور مچ جاتا ہے کہ ایک بڑے مہان رشی منی نے ان کے گاؤں کی شوبھا بڑھائی ہے۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، سبھی لوگ خوش خوش گروجی کے آشیر باد کی خاطر بڑھ چڑھ کر درشن کو جانے کی تیاری کرتے ہیں۔ سب لوگ اپنے نذررانے، بھینٹیں لے کر گرو جی کی کرپا پانے پہنچے۔ ان میں گاؤں کا مُکھیا بھی آیا جو کہ وہاں کا مہاجن بھی تھا۔ اس نے بھی گرو نانک جی کے لیے روٹی کا بندوبست کیا تھا۔روٹی کیا تھی اچھی خاصی دعوت کا سماں تھا، خوبصورت، خوانوں میں، قیمتی قابیں، چاندی کی طشتریوں میں اڑتی بھاپوں میں دھندلاتے، دیسی گھی میں پکے دنبوں کے کڑاہی گوشت، مختلف کباب اور انواع و اقسام کے نان اور پکوان۔ گرو جی کے چیلے تو چاہتے تھے کہ بس دسترخوان بچھائیں اور جھپٹ پڑیں، جانے کتنے دنوں سے بھوکے تھے، سفر کر کے آئے تھے، لیکن گروُ جی کی آگیا بھی ضروری تھی، اور بھلا ان سے پہلے کیسے شروع کر سکتے تھے، لہٰذا منہ اٹھا کر گرو جی کو دیکھا کیے، اور گرو جی تھے کہ آنکھیں بند کر کے جہاں پدھارے تھے، وہیں پتھر بن کر جمے رہے۔
آخر جب سارا گاؤں وہاں پہنچ گیا، تو گرو جی نے آنکھیں کھولیں اور ان تمام کھانوں میں سے ایک کھانا چنا جو کہ اسی گاؤں کا ایک غریب لکڑہارا لایا تھا، سُوکھی روٹی اور پیاز۔۔۔ اور گرو جی نے اس کھانے کو اپنی جانب کھسکایا اور باقی کو اٹھا لینے کو کہہ دیا۔ اور چیلوں سے کہا کہ وہ بھی یہ کھانا گرو نانک جی کے ساتھ کھا لیں۔

چیلے بہت سٹپٹائے کہ یہ گرو جی کو آخر ہو کیا گیا ہے، خدا کی دی گئی نعمتوں کو ٹھکرا کر کفرانِ نعمت کیوں کر رہے ہیں، ویسے بھی مہینوں سے انہیں اس طرح کے کھانے نصیب نہیں ہوئے تھے، جو مکھیا کی جانب سے آئے ان کا منہ چڑا رہے تھے۔ انہوں نے جھجھکتے، ڈرتے اپنا احتجاج گرو جی کے سامنے رکھ ہی دیا۔ کہ آخر کھانا تو کھانا ہے، اس کھانے میں کیا برائی ہے، جو کہ ساہوُ کار کے گھر سے آیا تھا۔
گرو جی نے کوشش کی کہ وہ ان کی بات سمجھ جائیں لیکن چیلے مصر تھے کہ ان کو وہ کھانا نہ کھانے کی وجہ بتائی جائے۔

گرو جی نے ہاتھ آگے بڑھایا اور لکڑہارے کی روٹی کو پکڑ کر ہاتھ میں دبا کے نچوڑ دیا۔ ان کے نچوڑنے سے روٹی میں سے دودھ نکل کر بہنے لگا۔ اسی کے ساتھ گرو جی نے اس مہاجن کے نان کو اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے اس کو نچوڑ دیا۔ اس کو نچوڑنے سے اس نان میں سے خون ٹپک ٹپک کر گرنے لگا۔
چیلے یہ سب دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا گرو جی یہ آخر ماجرا کیا ہے، تو گرو جی نے بتایا کہ لکڑہارے کے کھانے سے ان کو اس کی محنت کی خوشبو آئی تھی، جب کہ مہاجن کے کھانے میں سے ان غریبوں کے خون کی بوُ آ رہی تھی، جن کو قرض دے کر ان سے سُود لے کر اس نے مال بنایا ہے، اور یہ کھانا جس میں سے لیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے ایک بحث چل رہی تھی جس میں ہمارے سوشلسٹ کامریڈز کا ہدفِ تنقید وہ لوگ تھے جنہوں نے این جی اوز بنائی ہیں اور اس سے لوگوں کی بھوک، ننگ، جہالت، ظلم اور استحصال کو بیچ کر پیسا کما رہے ہیں۔

بہت سے لوگ اس بات کو جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ہم لوگوں کو این جی اوز سے کیا مسئلہ ہے۔
لیکن بہت سے لوگ ان NGO والوں کو سوشلسٹ بھی سمجھتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ان کو بے نقاب کیا جائے۔
ہم سوشلسٹ یہ بات علی الاعلان کرتے ہیں، اور کرتے رہے ہیں کہ ہم بائیں بازو کا لبادہ اوڑھ کر این جی او چلانے والے موقع پرستوں کوعوام کا کھلم کھلا استحصال کرنے والے سرمایہ داروں،جاگیر داروں اور سودی بینکاروں سے بھی بدتر، گھٹیا اور خون آشام سمجھتے ہیں۔

اب یہ لمبی بحث ہے کہ جن لوگوں کو ذہن میں رکھ کر میں لکھ رہا ہوں، وہ تو ”مائیکرو فنانسنگ“ کا دھندا کر رہے ہیں، جو کہ خود اپنے سُود کی بلند ترین شرح کی وجہ سے ان سب مظالم سے بڑا ظلم ہے، تو کسی کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ ان لوگوں کی این جی او کے غریبوں کو بھاری ترین سُود پر دس دس بیس بیس ہزار دے کر ”کاروبار کے مواقع فراہم کرنے“ کے قبیح، گھناؤنے اور غلیظ کام کو سوشلزم سے ممیز کرے؟

تو صاحب، سرمایہ داری اور اس کے جھمیلے ہیں ہی اس قدر پیچیدہ، کہ پیچیدگی میں سوچنا، اور پھر ان عقدوں کو فلسفیانہ گتھیوں کی طرح سلجھانا شاید ازخود آج کا سب سے بڑا کام بن چکا ہے۔ انتہائی ضروری ہے کہ ”مائیکرو فنانسنگ“ پر نہ صرف بات کی جائے، بلکہ اس کا سیاسی، معیشتی اور فلسفیانہ تجزیہ بھی کیا جائے، جس کا کاروبار یہ والے ”سوشلسٹ“ کر رہے ہیں۔

لیکن آج میں صرف دو باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

1۔ یہ کہ کیا سوشلزم اور NGO ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل سکتے ہیں؟

2۔ یہ کہ کیا سُود پر پیسا دینے والا اگر خود کو سوشلسٹوں میں شامل کرتا ہے، کہ اس کے اس کاروبار کی تشہیر ہو اور اس کو نئے مرغے پھانسنے کو ملیں، تو اس کو ہم ا س لیے قبول کر لیں کہ ہماری تعداد میں تو اضافہ ہو گا؟
”Essence must appear“

ہیگل کا کانٹ کے اگنوسٹسزم پر سب سے مہلک وار یہی تھا۔ کہ جو اندر ہے، اس کو لازماً باہر آنا ہے۔
چند دن پہلے ایک نعرے لگانے والی ویڈیو بہت مقبول ہوئی، جس میں کچھ نوجوانوں نے وہ نعرے لگائے جو کہ ہمارے ساتھ منسوب ہیں، مثلاً ”ایشیا سُرخ ہے“ کا وہ مقبول نعرہ جو کہ ہم اسی کی دہائی میں لگاتے رہے، جب ہمارے مخالف ایشیا کے سبز ہونے کے دعوے کیا کرتے تھے اور ہمارے بزرگ شاید یہ نعرہ ساٹھ کی دہائی میں یا اس سے بھی پہلے لگاتے رہے تھے، تو اس دن سے بحث چل نکلی کہ یہ بچے جو نعرہ لگا رہے ہیں، ان کا سرخیل وہ بندہ ہے، جو کہ شعوری طور پر سوشلزم کے نام پر بچوں کو گمراہ کرنے اور اپنے باپ کے سود کے کاروبار کو نیا خون فراہم کرنے کے لیے شکار پر آیا ہے، تو اس لیے ان کی مخالفت کرنا ضروری ہے۔

چند دن تو اس بحث میں گزرے لیکن آج میرے سامنے ایسی ویڈیو آئی ہے جس میں اس این جی او والے لڑکے نے اپنا سوشلسٹ مکھوٹا اتار کر وہ گھناؤنا اور کریہہ چہرہ سامنے کر دیا ہے، جو کہ ایک مکار اور سازشی ذہنیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس نے کہا ہے، کہ ہم انیسویں اور بیسویں صدی کے سوشلزم کی طرف نہیں جا سکتے، اور ہمیں ”ملا جلا کر“ کچھ مجنڈا سا بنانا پڑے گا۔

تفصیل میں جانے کی بجائے مختصر یہ کہتا ہوں کہ یہ مسئلے نئے نہیں ہیں، مارکس کو انیسویں صدی میں بے شمار ایسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے، اور ہمیں تو آئے دن ایسے لال بجھکڑ ملتے ہیں، جو کہ سرمایہ دار اور محنت کش کی صلح صفائی کروانے کا کہتے ہیں۔
ہمارا یہ دو ٹوک اعلان ہے کہ:

1۔ سوشلزم کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو سوشلسٹ انقلاب اور پرولتاریہ کی آمریت کے قیام کے ذریعے تبدیل کر دینے کے علاوہ کوئی حل نہیں۔

2۔ سوشلزم میں نجی ملکیت کا خاتمہ
اور

3۔ منصوبہ بند معیشت کا قیام ضروری ہے

4۔ عوام کی ہر بنیادی ضرورت مزدور ریاست کی جانب سے مفت مہیا کرنا لازم ہے۔

5۔ اس تمام جدوجہد کا انت ایک کمیونسٹ سماج پر ہوجس میں ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا اور مزدور ریاست سماج میں تحلیل ہو جائے گی۔

اگر کوئی ان باتوں کو نہیں مانتا تو وہ سوشلسٹ/کمیونسٹ/مارکسسٹ (مارکس کے دور میں یہ تین الفاظ مختلف تھے، لیکن آج یہ ہم معنی ہیں) نہیں ہے۔ خواہ وہ خود کو سوشلسٹ کہے یا کمیونسٹ۔

سوشلزم میں فرقے نہیں ہیں، ہاں کچھ اہم اختلافات ضرور ہیں، لیکن سوشلسٹ بہرحال سوشلسٹ ہی رہے گا، جب تک وہ اوپر والی بنیادوں میں سے کسی سے منحرف نہ ہو جائے۔

مزید یہ کہ چھوٹی شرطیں ضرور ہیں، کہ سوشلسٹ تنظیم کے ساتھ جڑت میں رہتے ہیں، میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں، سٹڈی سرکلز کرتے ہیں، عوام کو اپنے ساتھ جوڑنے کا کام کرتے ہیں، خود کو اور عوام کو ایجوکیٹ کرتے ہیں، تنظیم کو فنڈ دیتے ہیں، اور مظاہروں اور احتجاجوں میں شرکت کرتے ہیں۔

اس کے برعکس سوشلزم اور این جی او دو الگ انتہائیں ہیں۔ این جی او کو سوشلسٹ ایک ناسُور سمجھتے ہیں، کیوں کہ لالچ اور غیرانسانی رویے کی گندی، گھٹیا اور غلیظ ترین مثال این جی او ہے، جس میں انسان کے زخم بیچ کر اس میں سے اپنا منافع تلاشا جاتا ہے۔

ہم لوگ تو کبھی کسی میدان میں، کسی پرانی چائے کی دوکان میں اور کبھی کسی فیکٹری کی چھت پر میٹنگ کر رہے ہوتے ہیں، لیکن یہ این جی او والے کسی بڑھیا ریستوران میں شاندار کھانے کے ساتھ میٹنگز کرتے ہیں، ایک آدھ بار ان کی کسی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا تو مقررین کو لفافے ملتے دیکھ کر مارے تجسس کے پوچھے بنا کوئی بن نہ پڑی کہ آخر ان لفافوں میں ہے کیا، تو معلوم ہوا کہ ان میں پیسے ہیں، پیسے۔۔۔ مگر کس بات کے؟ تو پتا یہ چلا کہ ان کو بات کرنے کے پیسے ملتے ہیں۔ ویسے تب یہ بات میرے لیے باعثِ حیرت تھی۔ اسی طرح میں خود ایک دفعہ کسی یونیورسٹی کے طلبہ کو لیکچر دینے گیا تو وہاں بھی یہ سوال سامنے آیا تھا، کہ کتنے پیسے دینے ہیں اس کو۔ تو ہمارے کامریڈوں نے ان کو حیران کر دیا کہ یہ لیکچر مفت ہے۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ وہاں میں نے کھانا بھی اپنی جیب سے کھایا تھا۔ لیکن نئے آنے والے نوجوانوں کو اس طرح کے مفت کھانے اور لفافے دکھا کر ان سازشی اور لالچ پر مبنی ہتھکنڈوں سے شکار کیا جا سکتا ہے۔

یہ لوگ پہلے پہل تو سادگی میں لفافہ لے کر اور مفت کھانا کھا کر اپنی بات کریں گے۔ شاید خوش بھی ہوں کہ ہم نے اپنی بات بھی کر لی اور پیسے بھی مل گئے۔ لیکن دھیرے دھیرے جن لوگوں سے یہ لوگ پیسے لے رہے ہیں وہ پیسے دینے والوں کو ناپسند آنے والی باتیں کرنا بند کر دیں گے، اوربالآخر وہی باتیں کرنا شروع کر دیں گے جو پیسے دینے والے کروانا چاہتے ہیں۔ اس لڑکے کی صورت میں بھی یہی مظہر ہمارے سامنے آیاہے۔

اس بات کو کہ این جی او وغیرہ کو ہم اپنے ساتھ کیوں نہیں چلا سکتے۔ کیوں سبز، سرخ یا ”مجنڈا“ (میجنٹا) ملا جلا کر ”سوشلزم“ نہیں کہلوا سکتا، ایک لطیفے کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ تجربہ ہم سب کے ساتھ ہوا ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں جس کو مرض کی سمجھ نہ آئے تو وہ بہت سی دوائیاں دے دیتا ہے جو کہ سارے ممکنہ امراض کی ہوں گی۔
اسی طرح ایک جونیئر ڈاکٹر اپنا کیس لے کر استاد کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے مریض کو دس طرح کے مرضوں کی دوائیاں دے دی ہیں۔
استاد گھبرا گیا، اس نے پوچھا تو!؟ کیا ہوا اس کو؟
نئے ڈاکٹر نے کہا کہ ہوا تو کچھ نہیں وہ مریض ٹھیک ہو گیا ہے۔
استاد نے سکھ کی سانس لی اور پوچھا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
جونیئر ڈاکٹر نے انتہائی تاسف سے کہا، کہ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس دوائی سے ٹھیک ہوا ہے۔

تو مسئلہ یہ ہے، کہ یہ ساری ادویات ”ملاجلا کر“ دے دینا کاہلی کا، حماقت کا، رجعت کا، پھوہڑ پن کا اور غیر سنجیدگی کا استعارہ تو ہو سکتا ہے، علم کا، عقل کا، جدوجہد کا یا ترقی پسندی کا ہرگز نہیں۔

اور یہاں تو مسئلہ اس سے بھی آگے کا ہے، کہ یہاں یہ مسئلہ ہی نہیں کہ موصوف محض بھولے ہیں، سادے ہیں، نرے احمق ہیں، کاہل ہیں، غیر سنجیدہ ہیں، لیکن مرض کا علاج جاننے کے خواہاں ہیں، بلکہ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کا ایک حل موجود ہے، جو کہ دن میں سورج کی طرح نظر آتا ہے، لیکن یہ صاحب دھول اڑا کر اس کو اوجھل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

یہ نوٹنکی باز عوام کی بھیڑوں کو ”سبز“ چراگاہوں کے سہانے سپنے دکھا کر سرمایہ دار کے دسترخوان کی زینت بنا دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ہم سوشلسٹوں کو کارل مارکس کے وقتوں سے لے کر آج تک مجبور کیا جا رہا ہے، کہ آپ سُرخ رنگ کو بھی رکھیں، لیکن اس میں کچھ اور ڈال کر اسے ”مجنڈا“ کر لیں۔

یہاں ایک مسئلہ یہ تھا کہ ایک سُود پر پیسا دینے والے کے بیٹے کا معاملہ تھا جو کہ اپنے باپ کے دھندے میں برابر کا ساجھے دار ہے، کہ وہ بندہ سوشلسٹ ہے، یا نہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے، کہ کل تک اس کے ساتھی ہمارے نعرے لگا رہے تھے، لیکن اس وقت تک ان کا، یا اس ایک بندے کا جوہر (Essence) چھپا ہوا تھا۔
لیکن آج ان لوگوں کی ایسی باتیں سامنے آ چکی ہیں جو کہ غیرانسانی جوھر کی حامل ہیں، ہمیں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ باغ میں بولنے والی فاختہ ہماری نہیں ہوا کرتی۔

اس طرح کے مظاہر بار بار ہمارے سامنے آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔

جیسے حالیہ کا مولانا مارچ، جو کہ صرف اسی لیے کرنے دیا گیا کہ اس میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری، بجلی، پٹرول، ڈالر، تعلیم، علاج اور ان سب کی ماں نجکاری کے بارے کوئی بات نہیں ہو گی، بلکہ الیکشن کروانے کو ان سب مسائل کا حل سمجھا جائے گا۔

جیسے ماضی میں اعتزاز احسن لانگ مارچ کر کے پارلیمنٹ کے سامنے لے گیا، اور وہاں سے لوگوں کے پریشر کُکر کا پریشر ٹھنڈا کر کے واپس بھیج دیا۔

یہ ایک بار نہیں ہر بار ہوتا ہے، کبھی تبدیلی کو، کبھی انقلاب کو، کبھی برابری کو اور کبھی خود انسانیت کو رگید کر ذلیل کر دیا گیا۔ تاکہ عوام ان الفاظ سے متنفر ہو جائیں۔

اب جب کہ ساری دنیا میں انقلابی تحریکیں چلتی ہوئی ہمارے پڑوس میں آ دھمکی ہیں، انہوں نے سوشلزم کو بدنام کرنے کی ٹھانی ہے۔ اور اپنے پے رول پر موجود این جی او کے بغل بچوں سے سوشلزم کے نام کو استعمال کر کے بدنام کرنے کو کہا ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والا شخص اس سے پہلے اسلامی جمعیت طلبہ کے کسی پروگرام میں اسلامی جمعیت اور سوشلزم کو ملا کر کوئی ”مجنڈا“ تحریک چلانے کے ایجنڈے پر کام کرتا بھی دیکھا گیا ہے۔

البتہ جب تک وہ ایسنس سامنے نہیں آیا تھا ہم نے اس کو رد نہیں کیا۔ انتظار کیا ہے۔

لیکن ہم ان کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ ہمیں ان کی روٹی میں سے ان غریبوں کے خون کی بوُ آتی ہے، جن کے خون کو نچوڑ کر یہ آج کے سُود خور مہاجن عیاشی کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔
دیگر سرمایہ داروں کی نسبت ان ”رنگے سیاروں‘ سے زیادہ نفرت کرنے کی یہ چند سادی سی وجہیں ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

IMT

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply