• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریاست بلور کی گمشدہ تاریخ – قسط اوّل/تحقیق و تحریر: اشفاق احمد ایڈوکیٹ

ریاست بلور کی گمشدہ تاریخ – قسط اوّل/تحقیق و تحریر: اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ “ریاست بلور“ دو حصوں پر مشتمل ہے ؛ مشرقی نصف عظیم بلور کے نام سے مشہور تھی جس کا دارلحکومت بلتستان میں سکردو تھا جبکہ مغربی حصّے جو سابق گلگت ایجنسی کے علاقوں پر مشتمل تھی کو بلور صغیر یعنی Little Bolor کہا جاتا تھا۔ جس کے لئے تبت کے لوگ بروزا Bru-za کا اصطلاح استمال کرتے تھے۔ عام طور پر یہ علاقہ بروشال کے نام سے بھی مشہور ہے۔
گلگت بلتستان زمانہ قدیم سے ہی جیؤ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل رہا ہے اس خطہ میں صدیوں سے آباد باشندوں کی اپنی ایک مشترکہ تاریخ ثقافت اور تہذیب ہے جو دنیا کی دیگر اقوام سے مختلف اور منفرد ہے۔
اس علاقے کی قومی تاریخ کو نوآبادیاتی دور سے مسخ کرنے کا سلسلہ جاری ہے چنانچہ یہاں کے مقامی باشندوں کو ایک قوم کی بجائے مختلف نسلی گروہوں اور فرقوں کے طور پر دیکھا گیا ہے اور اسی نقط نظر کے تحت نوآبادیاتی دور میں یہاں کی تاریخ لکھی گئی جو کہ قابل چیلنج ہے-
” تقسم کرو اور حکومت کرو پالیسی” کے تحت نوآبادیاتی دور میں لکھی گئی تاریخ کا ایک اہم مقصد اس قوم کو تقسیم در تقسیم کرکے ان پر حکومت کرنا تھا اور اپنی غیر قانونی قبضہ کو دوام بخشنا تھا چنانچہ اس منصوبہ کے تحت گلگت بلتستان کی تاریخ کو مسخ کیا گیا جو آج تک جاری ہے اکثر سرکاری دانشور یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک قوم نہیں ہے اور انہیں فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے فرقہ واریت کھبی بھی گلگت بلتستان کا اندرونی مسلہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ 1980 کے بعد باہر سے گلگت بلتستان میں متعارف کروایا گیا اور اس پرامن خطے میں فرقہ وارانہ سوچ ایک پالیسی کے تحت پروان چڑھایا گیا تاکہ یہاں کے لوگوں اپنی قومی شناخت اور بنیادی انسانی جمہوری حقوق کے لئے متحد نہ ہو سکے 1988 کا واقعہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب اس خطے میں لشکر کشی کی گئی اور بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا جس کے زخم آج بھی رس رہے ہیں مگر اس کے باوجود گلگت بلتستان کی نوجوان نسل نے فرقہ وارانہ سوچ کو مسترد کرکے گلگت بلتستان میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں صدیوں سے آباد لوگ ایک قوم ہے اور ان کی اپنی ایک قومی شناخت ہے جس کی بنیاد ریاست بلور کے دور میں ملتی ہے اور دنیا کی دیگر اقوام کی طرح کوہ ہمالیہ کوہ ہندوکش اور کوہ قراقرم کے دامن میں صدیوں سے آباد باشندے ایک قوم ہے جو ایک مخصوص جغرافیائی حدود کے اندر بستے ہیں اور مختلف ادوار میں ان کا اپنا نظام حکومت رہا ہے۔ جن کی قومی تاریخ نہ صرف ہزاروں سالوں پر محیط ہے بلکہ جغرافیائی ، ثقافتی اور قومی مفادات بھی دنیا کے دیگر اقوام کی نسبت بہت زیادہ مشترکہ اور یکساں ہے ۔
گلگت بلتستان کے باشندوں کی ثقافت رسوم رواج اور رہن سہن کھانے پینے کے طور طریقے اور تاریخ نہ صرف برصغیر پاک وہند کی دیگر اقوام سے منفرد اور جداگانہ ہے بلکہ ان کی اپنی ایک علیحدہ قومی شناخت ہے جس کی بنیاد بلور شاہی ریاست میں ملتی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ تاریخ کی جبر کی وجہ سے اس گلگت بلتستان کا کلچر ،رسوم رواج تہذیب و تمدن ، زبانوں اور قومی بقاء و شناخت کو بیرونی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔
برٹش راج کے نوآبادیاتی دور سے آج تک دیگر اقوام کی زیر نگیں ہونے کے باوجود اس خطے کے باشندوں نے اپنی ثقافت تہذیب وتمدن تاریخ اور اس خطے میں بولی جانے والی زبانوں مثلا شنا، بروشسکی، بلتی کھوار ، وخی و دیگر زبانوں کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھا ہے۔ اور ہر دور میں بیرونی قبضہ اور جبر کے خلاف یہاں کے باسیوں نے اپنی قومی بقاء کے لئے جدوجہد جاری رکھا ہے۔
مثلا ڈوگرہ حکومت اور تاج برطانیہ کی غلامی کے دور سے لیکر آج کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف اپنے قومی مفادات کی تحفظ اور شناخت کے حصول کے لئے قومی جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔
یہ خطہ اپنی جیو سٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے درمیان گریٹ گیم کا مرکز رہا ہے ۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انہی راستوں کی وجہ سے ہی بلور شاہی دور میں گلگت کی وادیوں میں چین اور تبت کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی نتیجتاً بلور شاہی ریاست دو حصوں میں منقسم ہوئی-
اسی جنگ زدہ دور میں شری بدت لیٹل بلور کا آخری مقامی بدھ مت حکمران تھا جس سے ایک سازش کے تحت آدم خور قرار دے کر قتل کیا گیا اور بیرونی تسلط کے لئے راستے ہموار کیا گیا۔
745 صدی عیسوی میں چین اور تبت کے درمیان گلگت کی وادیوں میں لڑی گئی اس جنگ میں تبت کے 9000 ہزار اور چین کے 10000( دس ہزار ) فوجیوں نے ایک خونی جنگ لڑی جس میں تبت کو شکست ہوئی ۔
لیکن تبت اور چین کی اس خونی جنگ کی وجہ سے بلور شاہی ریاست ٹوٹ گئی اور یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستوں میں منقسم ہوگیا۔
بیرونی دباؤ کے باوجود یہ چھوٹی شاہی ریاستیں 1891 تک اپنی آزادی اور خودمختاری برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ۔
پھر تاج برطانیہ کے نوآبادیاتی دور میں پنجاب لاہور دربار کے سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ سرکار نے ان علاقوں پر حملے شروع کئے مگر ان کو مکمل کامیابی نہیں ملی پھر 1840 کے بعد ان علاقوں پر ایک بار پھر جارحیت شروع ہوئی اور ڈوگرہ حکمرانوں نے تاج برطانیہ کی شہ پر یہاں حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور بالآخر 1891-1892 میں تاج برطانیہ کے کرنل ڈیورنڈ نے کشمیری ڈوگرہ فوج کے ساتھ مل کر ریاست ہنزہ اور نگر کو ایک خونی جنگ کے زریعے شکشت دے کر اپنے زیر نگیں کیا ۔ ہنزہ نگر کیان نیم خودمختار ریاستوں 1974 تک اپنا وجود برقرار رکھا پھر پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ان نیم خودمختار ریاستوں کو ختم کر دیا۔
گلگت بلتستان کی قوم نے کھبی بھی بیرونی تسلط کو قبول نہیں کیا مثلاً تقسیم ہند 1947 کے موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے
یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں نے گلگت سکوٹس کے ساتھ مل کر ڈوگرہ حکومت کے خلاف جنگ آزادی گلگت بلتستان لڑی اور یکم نومبر 1947 کو ڈوگرہ حکومت سے آزادی کا اعلان کیا اور ایک حکومت قائم کی جو 16 دنوں تک برقرار رہی مگر دنیا کے کسی بھی ملک نے تاحال اس آزادی کو تسلیم نہیں کیا ہے حالانکہ جنگ آزادی گلگت بلتستان کے نتیجہ میں ہی یہاں سے ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اور گزشتہ 74 سالوں سے گلگت بلتستان میں ڈوگرہ حکومت کا کوئی نام و نشان تک باقی نہیں ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے
کشمیر پر پاکستان انڈیا کے درمیان پہلی جنگ کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان کو بھی ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا ہے۔
چنانچہ اس وقت سے گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہے مگر گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں مثلا کرگل لداخ پر انڈیا کا قبضہ ہے جبکہ اقصائے چن چین کے قبضہ میں ہے ۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت بلتستان کی مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے چنانچہ یہ علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہونے کے باوجود بدستور ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر کے متعلق ہے۔
چنانچہ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تاریخ گلگت بلتستان کو نوآبادیاتی نقط نظر سے لکھی گئی تاریخ سرکاری موقف کو تقویت فراہم کرتی ہے
مقامی نقط نظر کے تحت گلگت بلتستان کی تاریخ نہیں لکھی گئی ہے چنانچہ یہاں کی قدیم تاریخ پر غیر جانبدار تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے ۔ گلگت بلتستان میں آج بھی آزادانہ ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی ہے اس لئے گلگت بلتستان جیسے پسماندہ علاقہ سے آزادانہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے لہذا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری یا پھر سرکاری کنٹرول میں چلنے والی ذرائع ابلاغ کے دعویٰ پر ہی یقین کرنا پڑتا ہے۔
چنانچہ بین الاقوامی جریدے گلگت بلتستان میں وہی موقف بیان کرتے ہیں جو سرکاری موقف ہوتا ہے چنانچہ پاکستان کے قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اس علاقے کے بارے میں سچائی پر مبنی خبریں بہت کم نظر آتی ہیں ۔
چنانچہ یہاں کی قدیم تاریخ غلامی کے اندھیرے میں گم گئی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس خطہ میں ماضی میں انسانوں کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ اس لئے بہت کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ بلور شاہی ریاست لداخ سے چترال تک پھیلی ہوئی ریاست تھی جس میں رہنے والے لوگوں کی ثقافت اور تاریخ مشترکہ ہے اور وہ دنیا کی دیگر اقوام کی طرح ایک قوم ہے۔
گلگت بلتستان کی تاریخ میں گریٹ بلور یعنی بلتستان کے عظیم حکمران علی شیر خان انچن واحد حکمران تھے جو ریاست بلور کے ان تمام منقسم علاقوں کو دوبارہ ایک مرکز کے تحت یکجا اور متحد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔
مگر ان کی وفات کے بعد یہ علاقے ایک متحدہ شاہی ریاست کی شکل میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکی اور چھوٹی شاہی ریاستوں کی شکل میں قائم رہیں اس طرح راجہ گوہر امان نے بھی ڈوگرہ فوج کے خلاف اپنے لوگوں کو متحد کرکے جنگیں لڑی اور ڈوگرہ فوج کو بھوپ سنگھ پڑی کے مقام پر تاریخی شکست دے دی ۔ جو تاریخ کا حصہ ہے چنانچہ گوہر امان کی زندگی میں کشمیر کی ڈوگرہ فوج گلگت اور دیگر علاقوں پر قبضہ نہیں کرسکی۔
ہائیڈل برگ یونیورسٹی جنوبی ایشیاء انسٹیٹوٹ میں شعبہ ثقافتی اور سماجی بشریات کے سربراہ کارل جیٹمار اپنی تصنیف ”بلور اینڈ داردستان“ میں لکھتے ہیں کہ Hsun-Tsangs کی مشہور تصنیف (Hsi-yu-Ch ) انتہائی دلچسپ اشارہ دیتی ہے کہ بلور ریاست نے شمال سے جنوب تک صرف ایک محدود توسیع کی تھی لیکن اس میں مغرب سے مشرق تک زمین کا ایک بڑا خطہ شامل ہے۔
یہ حوالہ تنہا گلگت ندی کی وادی کے ذریعہ تشکیل پانے والے وسیلے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مشرق میں انڈس ویلی کے ایک حصہ تک جاری رہتا ہے۔
کارل جیٹمار لکھتے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی سے اٹھویں صدی عیسوی کے دوران ریاست بلور کے حکمران ہمسایہ ملک چین کے شاہی دربار میں اپنے سفیر تعینات کرتے تھے۔
دوسری طرف Ohio State University سے منسلک Rebecca L.Twist اپنے ڈاکٹریٹ (PhD) کے مقالے بعنوان
[ The Patola Shahi Dynasty: A Buddhological Study of their Patronage, Devotion and Politics]
کے صفحہ نمبر 31-32 میں لکھتی ہیں کہ بلور بادشاہوں نے گریٹ بلور (بلتستان ) اور لیٹل بلور (گلگت) پر حکومت کی۔
تبت کے لوگ ان علاقوں کو بلتی اور بروزا (گلگت) کے نام سے پکارتے تھے۔ بلور شاہی ریاست کے خود مختار حکمرانوں نے ایک اہم اسٹریٹجک خطے پر حکومت کی جس پر چین اور تبت میں مسلسل لڑائی چل رہی تھی ۔
بلور ریاست کا حکومتی مرکز بلتستان سکردو میں تھا اس لیے انہوں نے دور دراز گلگت پر کنٹرول رکھنے کے لیے گلگت میں اپنے گورنر مقرر کیے جو بادشاہ کے نمائندے تھے اور بطور گورنر ان کے تعلقات بادشاہ کے ساتھ بہت اہم تھے اس لیے بلور بادشاہ گلگت کے گورنروں کی شادیاں شاہی خاندان کی بیٹیوں سے کرواتے تھے جس سے ان کی وفاداری پکی ہو جاتی تھی –
مثلاً شہزادی دیواسری Devasri کی شادی سمکارا سینا جو گلگت میں بڑا خزانچی تھا سے کروائی گئی۔
اس طرح بلور بادشاہوں نے اپنی ریاست کے ان دونوں خطوں کو متحد رکھا اور بدھ مذھب کو ریاست کے استحکام اور روحانی نجات کا ذریعہ مانا۔
بلور ریاست کے دور میں یہاں کے لوگوں کا مذہب بدھ مت تھا۔ گلگت بلتستان میں واقع مشہور بدھا کے مجسمے ریاست بلور کے دور میں پہاڈی چٹانوں پر نقش کروائے گئے تھے نپورہ کارگہ کا بدھا کا مجسمہ ہو یا بلتستان میں واقع بدھا کا مجسمہ یہ شاہی خاندان کے افراد اور بادشاہوں نے چندہ دیکر بنوایا تھا ۔جن کا باقاعدہ زکر قدیم گلگت لائبریری سے ملنے والی کتابوں یعنی گلگت مینسکرپٹ میں کیا گیا ہے۔
گلگت کے مخطوطوں میں ریاست بلور کےحکمرانوں کے نام بھی بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں شری دیو شاہی سریندر وکرما دیتہ نندا اور ان کی اہلیہ سمی دیوی ,ٹریلوکا دیوی بھٹیریکا اور پٹوولا دیو شاہی وجے را دیتیا نندی کا ذکر ہے اور دیگر ان 16 افراد کے نام اور تصویریں درج ہیں جنہوں نے بدھا کے مجسمے بنوانے کے لیے چندہ دیا تھا۔
چھٹی صدی عیسوی سے سات صدی عیسوی کے شروعات تک بلور ریاست پر تین حکمرانوں نے حکومت کی۔ پہلے حکمران کا نام وجےرا دیتیا نندی تھا اسکی ملکہ کا نام Mamgala Sirika تھا اس نے بدھ مت مذھب اختیار کیا تھا تاکہ ملک کو تحفظ اور خوشحالی ملے۔جبکہ دوسرے حکمران کا نام وکرما دیتیا نندی تھا جس کا نام چیلاس میں تھلپن چٹان پر کنندہ ہے جس کی بیوی کا نام Trailoka Davi ہے۔ اور تیسرے حکمران کا نام سرنیدرا وکرما دیتیا تھا-
عالم برج سائٹ پر موجود انسکپرشنز میں چوتھی صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی کے درمیان پلولا /پلور نام کے کچھ افراد کے ایک گروپ کا نام نقش کیا گیا ہے۔
کارل جیٹمار اپنے مقالے بعنوان ”پٹولاز ان کے گورنرز اور جانشین“ میں لکھتے ہیں کہ” ہاتون شلالیھ، گلگت کے مخطولے، اور ہوڈور کے شلالیھ سے پٹولا شاہی خاندان کا پتہ چلتا ہے جو بلور ریاست کے حکمران تھے اور اس خطے سے دریافت ہونے والے زیادہ تر دستاویزات میں اس شاہی خاندان کا نام پٹولا شاہی بتایا گیا ہے جسے پلوولا یا بلور شاہوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
بقول کارل جیٹمار ، ترک مشنری ریاست بلور کے شاہی فوج میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔ اور وہ اپنا مذھب تبدیل کر کے بدھ مت کے پیروکار بن گئے۔
لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اسلامی مورخین کی کتابوں میں بلور کا ذکر کافی اہمیت کا حامل ہے۔
پٹوولا شاہی (دس حکمرانوں) کے دور حکومت میں ہی گلگت میں بدھ مذہب فروغ پایا۔ بلتستان، دیامر ،گلگت، ہنزہ نگر ,غذر اور شمالی چترال کے علاقے بھی پٹوولا شاہی کے ماتحت تھے جس کے ثبوت چٹانوں کے نوشتہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے بدھ مت کی سرپرستی کی اور چین کے تانگ شہنشاہوں اور کشمیر کے حکمرانوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھے۔
جاری ہے۔۔۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply