دھرنوں کا پشاور پر حملوں سے تعلق ۔ اے وسیم خٹک

 اسلام آباد میں لبیک یا رسول اللہ تحریک کا دھرنا اختتام پذیر ہوگیا ہے ـ مگر لاہور میں   شہیدوں کے قصاص مانگنے کے لئے اراکین ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں ـ کیونکہ ان کی دکانداری ابھی ختم نہیں ہوئی ـ ابھی تو وہ کہتے ہیں نا کہ پارٹی شروع ہوئی ہے.  تو لبیک تحریک تو ابھی میدان میں وارد ہوئی ہے اور انہیں ابھی مزہ آیا ہی تھا کہ فوج نے رقیب کی طرح انٹری کرکے انہیں اپنے مقصد سے دور کردیا ـ ان کا مقصدکیا تھا ـ؟ ان کا ٹارگٹ کیا تھا؟ـ اس بارے میں کم ازکم مجھ ناچیز کو کوئی علم نہیں، ـ 22دن تک عوام کو تکلیف دی ـ  گئی صرف ،یہ ہم نے دیکھاـ’ فیض آباد جیسے مصروف چوک کو یر غمال بنائے رکھاـ اب لوگوں کو کون سی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ـ یہ روٹین کے مسائل ہیں، ـ کوئی مریض مر گیا ہوگا،ـمظاہرین کو کیا؟  حکومت کو کیا؟  کسی کی جاب چھوٹ گئی ہوگی، مظاہرین کو کیا کسی کا گھر لٹ گیاہوگا’ حکومت کو کیا؟
ایک احتجاج تھا ـ ڈھائی تین ہزار غریبوں پرجوش عاشق رسول کی فوج کو لے کر کچھ لیڈران جو گالی گلوچ  میں پی ایچ ڈی سے بھی آگے ڈگری رکھے ہوئے تھے ـ میدان کو گرما یا ہوا تھاـ.اور حکومت سے مطالبے کر رہے تھے ـ پھر تیزی آئی کارروائی پر تشدد ہوا، ـ تو لاٹھی چارج ہوا،ـ گاڑیاں جلائیں گئیں، میڈیا کے ڈی سی این جیز کو جلایا گیاـ،ـ صحافیوں کو یر غمال بنایا گیا کہ ہمیں بھی لائیو لے جایا جائے ـ تاکہ ہم دنیاکو نت نئی گالیوں ،پین دی سری جیسی  سے متعارف کرائیں، ـ دنیا کو بتائیں کہ مولوی بھی گالیاں نکال سکتے ہیں ـ مگر حکومت بوکھلاہٹ کاشکار ہوکر میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا کو بند کردیتی ہے ـ جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو مٹھی بھر   لوگوں کے سامنے بے بس ہوتی ہے.  ایک لیڈر جو دھرناسرکار کے نام سے مشہور ہیں وہ اپنے دھرنے کو بھول کر کہتے ہیں کہ سڑکیں بند کرنا غلط ہے ـ یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے ـ اور ہمارا  میڈیا یہ خبر بھی بریکنگ میں چلاتا ہے ـ۔
پھر ایک ٹرن آتا ہے پاکستان کی آرمی کو کہا جاتا ہے کہ حالات کو کنٹرول میں لیں اور آرمی کا دو ٹوک جواب ملتا ہے ـ جو سب کو ہنسانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ پاک آرمی آخری آپشن ہے اور اپنی عوام پر حملہ کے لئے آرمی نہیں ہوتی ـ۔ ہم مانتے ہیں کہ سرحدوں کی حفاظت ان کا کام ہے تو یہ راستوں کو پا ٹھکستان کیوں بنا کے بیٹھے ہیں ـ جنہوں نے چیک پوسٹوں پر منہ چھپائے ہوتے ہیں اور عام شہریوں کو اچھوت سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں ـ، شناختی کارڈز کو ایک انداز سے دیکھ کر گاڑی اور مسافروں کو  آگے جانے کی اجازت دیتے ہیں. کینٹ عوام کے پیسوں سے بنی ہوئی ہے مگر عوام وہاں نزدیک بھی نہیں جاسکتی؟  خیر یہ تو ہماری آرمی ہمارے تحفظ کے لئے کر رہی ہے.
 سوری ہم بہک گئے تھے ـ ،جذبات میں بہہ گئے تھے ـ بات ہورہی تھی دھرنے کی ۔توپھر فوج نے اپنا رول ادا کیا ـ سوشل میڈیا پرویڈیوز وائرل ہوئیں ، بیانیہ تبدیل کرنے کے لئے ـ آرمی نے دھرنے میں موجود لوگوں میں رقوم تقسیم کیں ، جن کے پاس واپسی کے پیسے نہیں تھےـ کیونکہ ہمارے ملک میں جلسے جلوسوں میں یا تو حکومت اپنے ملازمین کو لاتی ہے یا پھر پارٹیاں پیسوں پر شائقین کو لاتی ہیں ، ـ اس لئے تو ہمارے جلسے سارے بڑے ہوتے ہیں ـ کہ وہ پیسوں کے کرائے کے ورکرز ہوتے ہیں  جوکہ ایک کاروبار ہے ـ اور یوں آرمی نے پیسے تقسیم کرکے قصہ ہی ختم کر دیا اور مظاہرین واپس ہوگئے۔
مگر یہ کیا پشاور میں پھر طلبہ پر حملہ ،جس میں آٹھ افراد  شہید ہوگئے جبکہ چالیس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں یہ حملہ زرعی انسٹی ٹیوٹ پر کیا گیا ہے جہاں ڈپلومہ والے طلبہ پڑھتے تھے ـ۔ تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری بھی قبول کرلی کہ یہ آئی ایس آئی کی پناہ گاہ تھی اور اس طرح اسلام اباد میں ہونے والے کسی بھی دھرنے کے بعد  پشاور میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ـ  عمران خان کے دھرنے پر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہوا اور اب لبیک تحریک  کے  دھرنے کے بعد پشاور پر پھر حملہ بہت سے سوالات  کو جنم دے رہا ہے۔ـ  قوم اس وقت اے پی ایس واقعہ  کو   بھولی نہیں ہے کہ ایک اور حملہ ان کی ہمت کو  آزمانے  آگیا۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *