ٹرمپ کو انناس، ٹماٹر اور کیلوں سے جان کا خطرہ

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے جارحانہ انداز سے جانے جاتے ہیں کو اپنے دور حکومت میں پھلوں سے خوف محسوس ہوتا تھا۔

عالمی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو مظاہرین کی جانب سے انناس، ٹماٹر اور کیلے جیسے ’انتہائی خطرناک‘ پھلوں سے مارے جانے کا خدشہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ان پھلوں سے ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

نیویارک میں جاری دیوانی مقدمے میں پیش کیے عدالتی دستاویزات سے ٹرمپ کے اس خوف کا انکشاف ہوا، جس میں ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کے سوالات پر کہا کہ میں چاہتا تھا کہ لوگ تیار رہیں کیونکہ ہمیں الرٹ کیا گیا تھا کہ مظاہرین ہم پر پھل مارنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر بہت خطرناک پھل ہے۔

ٹرمپ سے 2016 میں ایک ریلی میں کیے گئے خطاب کے بارے میں بھی پوچھا گیا جب انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ٹماٹر پھینکنے والوں کو ماریں۔

اس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے ہی مزاق میں کہا گیا تھا، تاہم ہمیں الرٹ کیا گیا تھا، کہ ہم پر پھل پھینکے جا سکتے ہیں، اور یہ چیزیں بہت خطرناک ہو سکتی ہیں، آپ ان سے مر بھی سکتے ہیں۔

اٹارنی بینجمن ڈِکٹر نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا آپ کے سیکیورٹی گارڈز کسی کو ٹماٹر پھینکنے پر کوئی اور خطرناک چیز کا استعمال کر سکتے تھے، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ ہاں کیونکہ اس سے آپ کو مارا جا سکتا ہے۔

یاد رہے امریکی سیاست دانوں کو پھلوں سے مارنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔

رچرڈ نکسن کو 1970 میں جنگ مخالف مظاہرے میں “انڈے، ٹماٹر اور سبزیوں” سے مارا گیا لیکن وہ بچ گئے۔ 2012 کے مصر کے دورے کے دوران اس وقت کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے قافلے پر ٹماٹر پھینکے گئے تھے۔ لیکن انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اور سب سے مشہور واقعہ 14 دسمبر 2008 کو پیش آیا جب ایک عراقی صحافی نے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر ایک نہیں بلکہ اپنے دونوں جوتے پھینکے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply