آئین مخالف کون ہے؟۔۔ابھے کمار

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فرقی گیندباز امت مشرا نے ۲۲ اپریل کو ایک ٹویٹ کیا اور مسلمانوں کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ مسلمان آئین کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ سابق لیگ سپین مشرا لکھتے ہیں کہ “میرا ملک، میرا خوبصورت ملک، دنیا میں سب سے عظیم ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر ایسا تبھی ہو سکتا ہے، جب کچھ لوگوں کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ ہمارے ملک کا آئین ایسی کتاب ہے جس کی تعمیل سب سے پہلے ہونی چاہیے.”

اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے امت مشرا نے ۲۲ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جبکہ ۳۶ ایک روزہ میچ میں انہوں نے شرکت کی ہے۔ بطور کھلاڑی وہ بین الاقوامی سطح پر بہت کامیاب نہیں ہو پائے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا کیرئیر چھوٹا ہے۔ مگر اُن دِنوں مشرا جی کو میڈیا کافی توجہ دے رہا ہے۔ شاید اتنی میڈیا اٹینشن تو اُن کو تب بھی نہیں ملا تھا جب وہ بھارتی ٹیم کے حصہ تھے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

کیا یہ ممکن ہو کہ مشرا جی نے بھگوا طاقتوں کے بیانیہ کو دانستہ طور پر بڑھا رہے ہیں؟ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سیاست میں بھگوا جماعت کی ٹیم کی طرف سے ایک نئی سیاسی پاری کی شروعات کرنے کا من بنا چکے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب تو انہیں کے پاس ہے۔ مگر یاد رہے کہ مشرا جی کا یہ ٹویٹ بھارتی ٹیم کے سابق آل رائونڈر عرفان پٹھان کے ٹویٹ کے فوراً بعد آیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹھان کو بولڈ کرنے کے لیے امت مشرا کو بھگوا جماعت نے گیند تھما دی ہے۔سب سے افسوں کہ بات یہ ہے کہ جس کھلاڑی کے اندر میں گیند کو ٹرن دینے کی صلاحیت ہے، وہ اب فیکٹ اور تاریخ کو گھوما نے کے کام میں لگ گیا ہے۔

اس مشکل بھرے حالات میں عرفان پٹھان نے ہمت سے کام لیا۔ انہوں نے ایک سچے انسان اور ایک محب وطن کے طور پر ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز بلند کی۔ عرفان پٹھان کو یہ بات بخوبی معلوم ہوگی کہ سرکار کے بیانیہ کے خلاف بولنا کتنا جوکھم بھرا کام ہے۔ مگر عرفان نے اپنی ضمیر کی آواز سنی اور انہوں نے وہی کیا جو ایک سچا ہندوستانی سے توقع ہونی چاہیے۔ عرفان نے ۲۱ اپریل کو ٹویٹ کرتے ہوئے مظلوموں کی ترجمانی کی اور کہا کہ “میرا ملک، میرا خوبصورت ملک کو ایک عظیم ملک بننے کی صلاحیت ہے۔ مگر۔۔۔”عرفان پٹھان کا یہ ٹویٹ ملک کے حالات کو بیان کر رہا تھا۔

ملک میں بڑھ رہی فرقہ پرستی کے واقعات اور مسلمانوں کے خلاف بڑھ رہی اشتعال انگیزی، نفرت اور تشدّد کے معاملوں کے خلاف عرفان کی طرح ملک کا سیکولر اور انصاف پسند طبقہ بہت ہی افسردہ ہے۔ لوگوں میں غم اور غصہ اس بات سے بھی بڑھ گیا ہے کہ پولیس، انتظامیہ اور سرکار شر پسندوں کو پکڑنے کے بجائے الٹا مظلوم مسلمانوں کو پکڑ کر جیل بھیج رہی ہے اور غریب محنت کش مسلمانوں کو بنگلہ دیشی، روہنگیا اور دہشت گرد کہہ کر نہ صرف بد نام کر رہی ہے، بلکہ قانونی کی روح کے خلاف جا کر اُن کے گھروں کو بلڈوزر سے دن کے اجالے میں اور میڈیا کے کمرے کے سامنے توڑ رہی ہے۔ ملک کے بہت سارے حصوں میں دانستہ طور پر بھگوا شر پسندوں نے رام نومی کا جلوس نکالا۔ ایک سازش کے تحت جلوس کو مسلم علاقوں اور اُن کے مذہبی مقامات سے گزارا گیا۔ اتنا ہی نہیں کئی بار مسلمانوں کو گالی دی گئی اور تلوار کو جلوس کے دوران نچایا گیا۔ پھر شر پسندوں نے مسلمانوں اور اُن کے مذہبی مقامات پر پتھر بھی چلایا۔ کوشش پوری تھی کہ مسلمان کچھ کرنے پر آمادہ کیا جائے اور پھر اس کو کچلنے اور امن کو بحال کرنے کے نام پر مسلمانوں کو مزید مارا اور پیٹا جائے۔ انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کے مقصد سے یہ سب ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار مسلمانوں کے اوپر ہو رہے حملوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

عرفان کا بیان کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کسی کا کھلے طور پر نام بھی نہیں لیا۔ اشارے اشارے میں انہیں نے بڑی بات کہہ ڈالی کہ اگر ہم نے باہمی لڑائی اور جھگڑے کو دور کر دیا اور سب سچے طریقے سے کام کرنے لگے تو اپنا پیارا ملک صحیح معنوں میں دنیا کا ایک عظیم ملک بن جائے گا۔ اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ اگر ہم دھرم اور مذہب کے نام پر یوں ہی لڑتے رہے تو اس سے ملک کو کمزور ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ یہ بات تو معمولی سے معمولی انسان جانتا ہے کہ اتحاد میں طاقت ہوتی ہے۔ مگر یہ بات نا قابل فہم ہے کہ عرفان کی بات امت مشرا کو اتنی بری کیوں لگ گئی کہ وہ ٹویٹ کرنے پر مجبور ہو گئے؟

آج عرفان کے بہانے مسلمانوں کو نصیحت دینے والے مشرا جی نے اصل موقع پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ انہوں نے اس وقت تو ٹویٹ نہیں کیا تھا جب دہلی دنگوں میں مسلمانوں کو مارا جا رہا تھا۔ مشرا جی کا کوئی ردِ عمل تب بھی نہیں آیا تھا جب اخلاق کو حجومی تشدد ما رہا تھا۔ ان دونوں جب ملک نفرت اور اشتعال انگیزی کی آگ میں جل رہا ہے، اس کے خلاف مشرا جی نے ابھی تک کچھ نہیں لکھا ہے۔ آخر کیوں امت مشرا کو عرفان کی بات اتنی خراب لگی کہ وہ اس کے رد کرنے کے لیے آ گئے؟ آخر کیوں عرفان کے ٹویٹ کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے دیا ایسی باتیں کہہ ڈالیں جن سے فرقہ پرستوں کو تقویت ملتی ہے؟

در اصل مشرا جی کا ٹویٹ اسلامو فوبیا کی ایک مثال ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اُن کے بارے میں غلط فہمی کا ہی دوسرا نام اسلامو فوبیا ہے۔ اسلامو فوبیا کے جراثیم سے بیمار شخص کو یہ لگتا ہے کہ مسلمان سیکولر نہیں ہوتے۔ اُن کے دماغ میں مسلمانوں کے حوالے سے بہت زیادہ تعصّب بھرا رہتا ہے، جیسے مسلمان تو جمہوریت اور سیکولر آئین کے خلاف ہوتے ہیں، وہ تو مذہب کی قید سے آزاد ہو گی نہیں سکتے، وہ سیکولر اور ریشنل بھی نہیں ہو سکتے، وہ تو اب بھی عہدے وسطیٰ میں جیتے ہیں اور ان کے اندر میں جدید خیالات کا فقدان ہوتا ہے۔وہیں اکثریت گروپ مساوات، آزادی، جمہوریت میں یقین رکھتا ہے، جہاں مسلمان تنگ نظر ہوتا ہے اور وہ صرف اور صرف اپنے مذہب سے رہنمائی پاتا ہے اور ان کے دلوں میں آئین کے تعین کوئی احترام نہیں ہوتا، وہیں اکثریت سماج قانون کی راہ پر چلتا ہے۔

جس طرح اسلامو فوبیا سے متاثر شخص یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان صرف اور صرف اپنے مذہب اور اسلامک قانونی کو مانتے ہیں اور ان کے دلوں میں ملک کے قانون اور یہاں کےبائین کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے، اسی طرح امت مشرا نے عرفان پٹھان کی باتوں کو کاٹتے ہوئے مسلمانوں کو آئین مخالف کہ ڈالی۔ مشرا جی نے جو بات کہی وہی بات ملک کے فرقہ پرست ہمیشہ کہتے آ رہے ہیں کہ اقلیتیں اکثریت اور ملک کا دشمن ہے۔ فرقہ پرست ہمیشہ بائنری بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثریت سماج قانون کو مانتا ہے اور سیکولر ہے، وہیں دوسری طرف اقلیت سماج مذہب کی زنجیر میں قید ہے اور وہ سیکولر نہیں ہو سکتا۔مشرا جی کو یہ کون بتلائے کہ ملک کے لیے قربانی دینے والوں میں مسلمان کسی دوسرے سماج سے کم نہیں تھے۔ فسادات کے دوران جانیں اُن کے سب سے زیادہ گئیں، مگر انہیں نے ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لیا ہے اور مشکل سے مشکل لمحات میں ہم آہنگی کے جذبہ سے کام لیا اور قانون کا احترام کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

مشرا جی کو یہ کون سمجھائے کہ ملک کے آئین کی سب سے بڑی بے حرمتی ۶ دسمبر ۱۹۹۲ میں ہوئی، جب دن کے اجالے میں ایک قدیم مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا؟ کیا مشرا جی یہ نہیں جانتے ہیں کہ بھگوان رام کا نام لے کر سیاسی مفاد کو پورا کرنے والے کون لوگ تھے، جنہوں کے آئین کے ساتھ غداری کی؟ وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایک لمبے وقت تک ہندوستانی آئین کو بیرونی نظریات پر مبنی دستور کہہ کر اُسے ٹھکراتے رہے ہیں۔ کل کے آئین مخالف آج ملک کے سب سے بڑے محب وطن بن گئیں ہیں اور خود کو آئین کے چیمپئن کہہ رہے ہیں۔ در اصل ملک میں آئین مخالف مسلمان نہیں۔ صحیح معنوں میں فرقہ پرست، جو لوگوں کو دھرم کے نام پر لڑاتی اور غریبوں کا حق مارتی ہیں، آئین مخالف ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply