جرنیلی سڑک ۔ابنِ فاضل/قسط7

قصہ کوتاہ، یہ برسات کا موسم تھا اور آپ تو جانتے ہیں برسات میں دریا اور جذبات پورے طمطراق سے بہتے ہیں سو جہلم بھی اس وقت پورے جوبن پہ تھا ۔اب پل تو تھا نہیں ابھی اس پر کہ ادھر تیس روپے فی گھوڑا چونگی ادا کی اور ادھر راجہ کی فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، سو کئی دن جاتے ہیں اور کوئی صورت بن نہیں آتی     کہ سکندر اعظم یا راجہ پورس کی فوجیں دریا پار کر کے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں۔ اور پھر ارسطو کا ہونہار شاگرد ایک چال چلتا ہے۔ وہ رات کے اندھیرے میں شاہی میک اپ آرٹسٹ سے اپنی ایک نقل تیار کرواتا ہے اوراسے خیمہ میں اپنی جگہ چھوڑ کر آدھی فوج کے ہمراہ آدھی رات کو دریا کے بہاؤکی الٹ سمت میں خاموشی سے کوچ کر جاتا ہے ۔ اِدھر راجہ کی فوج کے پاس نہ کوئی دوربین تھی اور نہ کوئی ‘دور بین’ تھا ۔ لہذا وہ صبح کے اجالے میں چائنہ کے سکندراعظم کو اپنے خیمہ میں چہل قدمی کرتا دیکھتے رہے اور اس کی خطرناک چال کا اندازہ ہی نہ کرپائے۔

اُدھر سکندر اوپر کی سمت چلتا رہا اور کوئی ستائیس میل پر جا کر اسے ایسی جگہ مل گئی جہاں سے اس نے اور اس کی فوج نے سہولت کے ساتھ دریا پار کر لیا اور دشمن پر اچانک پہلو سے حملہ آور ہوگیا ۔ مگر پھر بھی راجہ کی فوج نے زبردست مقابلہ کیا ۔ لیکن بدقسمتی سے راجہ پورس کے ہاتھی ‘پورس کے ہاتھی’ ثابت ہوئے,انہوں نے زخمی ہونے پر اپنی ہی فوج کو روند ڈالا ۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ہاتھی تو بہت بہادری سے لڑتے رہے اصل میں راجہ کے سپاہی خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہوئے ہاتھیوں کو روند گئے جس سے وہ ہمت ہار گئے اور راجہ جنگ ۔بہرحال وجہ کچھ بھی رہی زخموں سے چور راجہ کوگرفتار کرنےکے بعد سکندرِاعظم کے سامنے پیش کیا گیا جہاں اس نے وہ تاریخی سوال پوچھا،
‘بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ‘
اور اس نے وہ تاریخی جواب دیا
‘جو شاہ شاہوں کے ساتھ کرتے ہیں ‘

تاریخ دان اس مکالمہ کو اتنی اہمیت دیتے ہیں اور اس قدر  تکرار سے بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات تو گمان ہونے لگتا ہے کہ سکندر نے ساری جنگیں اور آدھی دنیا فتح ہی اس مکالمہ کے لئے کی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ سکندر نے نہ صرف راجہ کی جاں بخشی کردی بلکہ اس کی چائے بسکٹ وغیرہ سے تواضع بھی کی اور جاتے ہوئے سلطنت بھی کچھ اضافہ کے ساتھ اسے لوٹا دی۔ اور یوں سکندر اعظم ملتان کی طرف نکل گیا اور ہم جہلم کی طرف ۔۔۔۔جہلم شہر بھی دریائے جہلم کے کنارے صدیوں سے آباد ہے۔ انسانی بستی کا چار سو سال قبل مسیح تک تو کتابوں میں ذکر ملتا ہے۔ البتہ سائنسدانوں کو اس خطہ سے ہاتھی، موروں اور دیگر جانوروں کے قریب دیڑھ کروڑ سال پرانے ڈھانچے ضرور ملے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یہ ہاتھی اس وقت کے کسی راجہ پورس کے تھے یا سادہ ہاتھی تھے۔ ویسے سائنسدانوں سے کچھ بھی بعید نہیں کل کلاں یہ کہہ دیں کہ یہی ہاتھی بڑے ہو کر راجہ پورس بنے تھے ۔اور یہ مور بڑے ہو کر راجہ کے ہاتھی ۔

جہلم شہر میں بظاہر نہ تو کوئی قابلِ ذکر صنعت ہے اور نہ کوئی بہت بڑے بین الصوبائی تجارت کے مواقع ۔ سوتاریخی طور پر اس خطہ کے لوگ اپنی جسمانی مضبوطی اور روایتی بہادری کی وجہ سے زیادہ تر فوج میں بھرتی ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ پاک فوج میں تقریباً سبھی دراز قد، سڈول جسم اور خوبصورت جوان وافسران اسی ضلع سے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کھیوڑہ کا علاقہ جہاں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کانیں ہیں، بھی اسی ضلع میں ہے جہاں سے سارے ملک کو خوردنی نمک مہیا کیا جاتا ہے ۔اس اعتبار سے اہلِ جہلم یہ دعویٰ بھی کر سکتے ہیں کہ پورا ملک ان کا ‘نمک خوار’ ہے۔

جہلم کے بعد قصبہ دینہ جو کسی بزرگ  شاہ دینہ شہید کے  نام پر ہے۔ یقیناً یہ نام اس بستی کو لوگوں کی اکثریت نے عطا کیا ہوگا اسی لئے دینہ ہے۔ وگرنہ اگر سرکار نے رکھا ہوتا تو پھر یہ “دے نا ” ہوتا کہ سرکار اور اس کے ہرکارے تو ہر وقت دست دراز” دے نا، دے نا “کی صدا لگائے رکھتے ہیں ۔ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے ،کیا انتظامیہ اور کیا محکمہ محصولات اور کیا عدلیہ سب کے سب ہمہ وقت دےنا ۔ بلکہ اب تک تو شاید بگڑ کر’اوردےنا’ یا ‘کچھ تو دےنا’ ہوا ہوتا ۔ دینہ شہر میں لکڑی کا فرنیچر بنانے اورسنگِ مرمر کے بہت سے کارخانے ہیں۔ دینہ سے ایک سڑک منگلا ڈیم کی طرف جاتی ہے اور ایک قلعہ روہتاس کی طرف ۔

گوجرخان اگلا قابلِ ذکر شہر ہے جرنیلی سڑک پر ۔ یہ شہر بھی جہلم کی طرح بہت پرانا ہے ۔البتہ نام ‘گوجرخان’ ساتویں صدی عیسوی میں گورجارا پرتیہارا عہد کی دین ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے پہل صرف گوجر ہو اور خان کا اضافہ غزنی یا ابدالی کے آنے بعد ہوا ہو۔ گوجر خان پنجاب کی واحد تحصیل ہے جس میں بڑی مقدار میں تیل اور گیس کے ذخائر ملے ہیں ۔ پنجاب کی حدود کی وجہ سے یہاں یہ بتانا غیر ضروری نہ ہوگا کہ تیل سے مراد پٹرولیم ہے نہ کہ خوردنی تیل اور گیس بھی وہ والی نہیں کہ جس کے لیے کارمینا کی ٹکیاں کھانا پڑتی ہیں بلکہ جلانے والی ہے۔ گوجر خان کے نواح میں تیل اور گیس نکالنے کے متعدد کنویں ہیں جن سے ہزاروں بیرل تیل اور لاکھوں مکعب فٹ گیس روزانه حاصل کی جاتی ہے۔

پوٹھوہار کے علاقہ میں سفر کے دوران بہت سی جگہوں پر آبادیوں سے دور ویرانوں میں بہت سے مزارات نظر آتے ہیں ۔ان کے متعلق عموماً لوگوں کی رائے ہے کہ یہ بزرگان واولیا ء  وغیرہ کے مزار ہیں۔ لیکن قابل خرگوشوی کا فرمان ہے کہ اولیا اور بزرگان معاشرتی زندگی سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے کیونکہ اسلام میں اس کی ممانعت ہے ۔ لہذا ان میں اکثر قبریں یا تو مجذوب حضرات کی ہیں یا پھر ان لوگوں کی جو ان علاقوں میں معدنیات اور جڑی بوٹیوں کی تلاش میں آتے ہیں اور کسی حادثہ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلی صدی میں سنیاسیوں اور نباتات وجمادات کا علم رکھنے والوں میں ‘سونا’ بنانے کی تحریک چلی تھی جس کے زیرِ اثر بہت سے کم علم لالچی لوگ پہاڑوں میں بالعموم اور پوٹھوہار کے علاقہ میں بالخصوص اس کے نسخہ کے اجزاء کی تلاش میں زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے ۔ممکنہ طور پر یہ مزارات ان کے بھی ہو سکتے ہیں۔

جاری ہے

لنک قسط 6۔https://www.mukaalma.com/13328

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جرنیلی سڑک ۔ابنِ فاضل/قسط7

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *