جرنیلی سڑک۔۔۔ ابن ِ فاضل /قسط6

کھاریاں کے متعلق قابل خرگوشی کا شگوفہ ہے کہ وطنِ عزیز کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ‘کھا ریاں’ ہونا چاہیئے ۔مثلاََ اگر کوئی کسی بٹ یا کسی عوامی نمائندے سے پوچھے کہ
کیہہ کررہے ہوپائین؟ اور وہ جواب دے کہ
” کھا ریاں واں پائین “۔
لیکن ہمیں کھاریاں سے گذرتے ہوئے گاہے یہ خیال آتا کہ اگر یہ کھاریاں ہیں تو شاید کہیں مِٹھیاں بھی ہونگی، لیکن آج تک نہیں ملیں ۔ سوائے جلیبیوں کے۔ اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا کہ یہ بستی تو ایک ہے پھر ‘کھاریاں’ کیوں؟. دیکھیں مقامی زبان میں کھاریاں جمع کا صیغہ ہے اور وہ بھی مونث کا۔ جیسے لاری سے لاریاں، تاڑی سے تاڑیاں اور باری سے باریاں وغیرہ ۔ اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ اکبر بادشاہ نے اس جگہ پر موجود جنگل کا محافظ ثانی کھاری نامی گجر کو مقرر کیا ۔سواس کے نام پر اس جگہ کا نام کھاریاں پڑ گیا ۔ لیکن پھر یہ کھاری والہ، یا کھاری نگر یا کھاری آباد وغیرہ ہوتا ۔ہمارا اندازہ ہے کہ جب ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دیکر تختِ ہندوستان پر قبضہ کرلیا ،تو یہ اور انکا خاندان جان بچا کر بھاگ نکلا ۔

اتفاق سے یہ اسی راستے پر کہ جس پر بعد میں شیر شاہ نے جرنیلی سڑک تعمیر کی، دل ہی دل میں مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتا ہوا اس جگہ پہنچ گیا جہاں آجکل کھاریاں ہے۔ دیکھیے جرنیلی سڑک کی بھی کیا قسمت ہے، کوئی حاکمِ وقت اُدھر سے نکالا جاتا ہے اور اس پر اِدھر کو مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتا جاتا ہے اور کوئی اِدھر سے اُدھر کو ۔ اس جگہ پر ابھی جنگل تھا، ہمایوں اور اس کے مصاحبین  نےیہاں ڈیرے ڈال دیے۔ ادھر ملکہ اور دیگر افراد خانہ عمر کوٹ سندھ پہنچ چکے تھے۔ یہاں مقامی لوگوں میں سے ایک بزرگ نے معزول بادشاہ کو بشارت دی کہ میں نے خواب دیکھا ہے اللہ نے آپکو بیٹے سے نوازا ہے ۔ کچھ روز کے بعد ہمایوں کو نہ صرف اہلِ خانہ کے مقام کی بابت اطلاع بہم ہو گئی بلکہ بیٹے کی خوشخبری بھی مل گئی ۔ ہمایوں نے ایک شاہی فرمان اس بزرگ کو دیا اور سندھ کی طرف نکل گیا۔
قریب پندرہ سال بعد جب ہمایوں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو محض چھ ماہ بعد انتقال کر گیا ۔ اس کا بیٹا اکبر بادشاہ بنا تو کچھ عرصہ بعد وہ کشمیر کی سیر کے لئے نکلا ۔ راستہ میں قریب اسی جگہ پڑاؤ کیا تو وہی بزرگ ہمایوں کے شاہی فرمان کے ساتھ اس کے پاس پہنچ گیا ۔ اکبریہ سب جان کر حیران اور خوش ہوا اور بزرگ کے کہنے پر علاقہ میں دو جھیلیں بنانے کا حکم دیا ۔ایک کھاری پانی کی کھیتی کیلیے اور دوسری میٹھے پانی کی، پینے کے لئے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کی جھیل بھی کھاری پانی سے ہی بھر گئی اور ان دونوں کو ‘کھاریاں’ کہا جانے لگا ۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے تک ان کی باقیات تھیں جو اب آبادی کی نذر ہو گئیں۔
کھاریاں بالکل چھوٹا سا قصبہ تھا 1958 میں یہاں امریکہ کے تعاون سے پاکستان کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بنائی گئی ۔ جس کی وجہ سے یہ علاقہ خاصی اہمیت اختیار کر گیا۔ تحصیل کھاریاں کے لوگ خاص طور پر بہت زبردست فوجی پس منظر رکھتے ہیں اور کثرت سے فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں ۔ عزیز بھٹی سمیت بہت سے نشانِ حیدر پانے والے بہادروں کا تعلق اسی علاقہ سے رہا ہے۔
کہتے ہیں کہ شیر شاہ نے جرنیلی سڑک پر ہر کوس پر ایک کوس مینارہ اور ہر دو کوس پر ایک سرائے تعمیر کروائی تھی ۔ یاد رہے کہ کوس تقریباً دو میل کے برابر ہے ۔بلکہ بعض روایات میں تو ستائیس سو سرائے تک کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن شاید یہ کسی مصاحب کا بیان ہے ۔ لیکن بہرحال سرائے تو ضرور بنوائے ۔ جن میں مسافروں کی رہائش،کھانے اور معالجہ کیساتھ جانوروں کے استقراراور چارہ کا بندوبست بھی ہوتا ۔ ویسے موٹر ویز کی حد تک تو موجودہ حکمرانوں نے بھی سرائے تعمیر کروائے ہیں۔مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں وغیرہ کی حالت عمومی طور پر یہ ہے کہ کوس کوس پر کوسنے دینے کا جی چاہتا ہے ۔ کچھ دن ہوئے شیخوپورہ سے گوجرانوالہ جانا ہوا یقین کریں کہ ستائیس کلومیٹر میں ہی ستائیس سو کوسنے دئیے اور بھی ناقابل اشاعت قسم کے ۔ آجکل مگر پوری جرنیلی سڑک پر ایک ہی سرائے بچا ہے اور وہ ہے سرائے عالمگیر ۔ بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب عالمگیر نے اس جگہ پر ایک سرائے تعمیر کروائی ۔ جس کے ارد گرد پھر رفتہ رفتہ بستی آبادہو گئی اور اس کا نام سرائے عالمگیر پڑ گیا ۔
سرائے عالمگیر کے بعد دریائے جہلم پر سے گذرتے ہوئے جہلم شہر میں داخل ہوتے ہیں ۔

دریائے جہلم کا پرانا نام ‘ہائیدہ سپیس’ تھا .پھریہ نامعلوم کب جہلم ہوگیا ۔ جس کے متعلق پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ ‘جل’ اور ‘ہم’ کا مجموعہ تھا ۔ جل سے مراد صاف پانی او ہم کا مطلب برف ۔ گویا برف سے نکلتا ہوا پانی۔ لیکن یہ “جلہم “بعد میں بگڑ کر جہلم بن گیا ۔ ویسے ہماری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ یہ جگہوں اور شہروں کے نام بگڑ کیسے جاتے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے تو صرف نوجوان اور تعلقات بگڑتے دیکھے ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جس طرح بمبئی والوں نے بقائمی ہوش وحواس خمسہ، ببانگ دہل اپنے شہر کا نام ممبئی کرلیا ۔اور ہم نےمنٹگمری کا نام ساہیوال اور لائلپور کا نام فیصل آباد رکھ لیا ۔ اسی طرح جلہم والوں نے بھی باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا ہو جہلم کیلیے ۔ اب اگر کل کلاں کوئی لکھے کہ بمبئی کا نام بگڑ کر ممبئی ، لائلپور کا نام بگڑ کر فیصل آباد اور منٹگمری کا بگڑ کر ساہیوال ہو گیا تو سوچیں کہ لوگ تب کیا سوچیں گے ۔ یہی نا کہ ممبئی والے کتنے شریف لوگ تھے صرف اتنا سا بگاڑا کہ بمبئی سے ممبئی کیا لیکن یہ فیصل آباد والے تو بہت ہی بگڑے ہوئے تھے کہاں لائلپور اور کہاں فیصل آباد ۔ بگاڑنا ہی تھا تو لائلپورسے لالپور یا زیادہ سے زیادہ گلابی یا عنابی پور کر لیتے ۔ اکٹھا ہی فیصل آباد ۔
بہرحال دریائے جہلم یہاں ہزاروں سال سے بہہ رہا ہے ۔ اس پر سے گذرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اُس پار سکندراعظم اپنی فوجوں کے ساتھ خیمہ زن ہے اور اِس طرف راجہ پورس اپنی فوجوں کے ساتھ۔ ۔ ویسے یہ سکندر اعظم بھی کیا بادشاہ تھا ۔ساری دنیا کے بادشاہ حکومت کرتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں ، شکار کرتے ہیں موج مستی کرتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ فیصلے کرتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں ۔ مگر یہ صرف جنگیں کرتا ہے اور دنیا فتح کرتا ہے ۔ ہمیں یہ سوچ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ سکندر اعظم کے بچے سکول داخلہ فارم پر باپ کے پیشہ میں کیا لکھتے ہوں گے
پیشہ باپ: جنگیں کرنا ۔ یا استاد والدین ملاقات میں کیا بتاتے ہوں گے کہ “وہ مس میرے بابا نا دنیا فتح کرنے گئے ہوئے ہیں “. پتہ نہیں ارسطو خود تو بہت زبردست اور سیانا مشہور ہے اس نے اپنے اس شاگرد سکندر کو کیا سبق پڑھا دیا تھا کہ فقط تینتیس سال کی عمر تک ہی آدھی دنیا پر قبضہ کر چکا تھا ۔ آپ کو نہیں لگتا کہ سکندر اعظم کی اس حرکت کے بعد ہی دنیا نے چالیس سال سے چھوٹے شخص کے صدر وزیراعظم وغیرہ بننے پر پابندی عائد کی تھی اور ساتھ ہی ارسطو سے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے پر بھی ۔۔۔۔ (جاری ہے)

ابنِ فاضل
ابنِ فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *