بدگمانیاں اور ہم

بدگمانیاں اور ہم
دوبئی میں دوست بہت کم ہی اچھے ملتے ہیں، راضی مصطفیٰ ایک ایسا ہی جگری یار ملا، شام کا رہائشی ہے پر ہنس کر ایسے ملتا ہے جیسے ہم نے بچپن میں گُلی ڈنڈا کُرم ایجنسی کی گلیوں میں ساتھ کھیلا ہو، آج وہ دوبئی مستقل چھوڑ کر اپنے گھر کی بجائے رومانیہ جارہا تھا کیونکہ اُسکا گھر جل چکا ہے تو حسب روایت اُسے ائیرپورٹ چھوڑنے گیا، ٹرمینل ون داخل ہوتے ہی میری نظریں ایک جانی پہچانی سی مشہور شخصیت پر پڑیں اور نظریں پڑتے ہیں سامنے جو دیکھا وہ میری شرمندگی کیلئے کافی تھا۔
وہ شخص جس کے بارے میں ہم نے انجانے میں غلط رائے قائم کی ہوتی ہے جب ہماری توقعات کے برعکس ملتا ہے تو دھچکا تو لگتا ہی ہے ساتھ میں تراہ بھی نکل جاتا ہے، اندر سے آواز آئی “کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے”۔ شخصیت ہندی فلموں کے مشہور ولن محترم رضا مراد صاحب تھے، ولن کے کرداروں میں دیکھ دیکھ کر اور ہندی فلموں کے ساتھ جڑنے کی باعث ہم نے بدگمانی کی کیاریوں میں کیا کچھ اُگایا تھا ہمیں پتا ہی نہ چلا۔
آج اُس کو اُس کی فیملی سمیت دیکھا، بیٹھی ہوئی عورت شرعی پردے میں تھی جسکی طرف اپنی مردانہ فطرت سے ہٹ کر واقعی ایک ہی دفعہ دیکھ سکا اور ساتھ ایک چھوٹا لڑکا بھی تھا، خود بھی موصوف شلوار قمیص پہنے ہوئے تھی، اپنی بدگمانی پر دل ہی دل میں خود پر لعنت بھیجی، پتا نہیں کونسا مسلک، کس فرقے سے ہے، پر بات دل کو لگی اور آج پہلی مرتبہ زندگی میں کسی سیلیبریٹی کے ساتھ تصویر اُتارنے کا سوچا، واپسی پر سلام کرنے کیلئے مُڑا تو بینچ خالی تھی، شائد اُن کی فلائٹ کا ٹائم ہوا ہو۔۔۔۔۔۔ پر میں پورے راستے اپنی بدگمانیوں کا حساب کرتا رہا اور خود سے ایسی نفرت کبھی پہلے نہیں کی تھی اور بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں واپس آیا پر نیند اُڑ چکی تھی۔

Avatar
عبدالبصیر خان
فاٹا کے حالات پر گہری نظر رکھنے والا، اُردو، اُردو سے جڑے لوگوں کی محبت دل میں لئے، دوبئی میں حصولِ رزق کی خاطر صحراؤں کی خاک چاننے والا ایک ادنیٰ سا طالبعلم۔۔۔ غزل، سگریٹ اور کتابوں کو ہی زندگی کہنے والا، اندر سے درویش۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *