اسلام دین وقار ہے ۔۔۔۔ مبارک حسین انجم

  • جب ہم دین اسلام کا مطالعہ شروع کرتے ہیں تو ابتدا میں عموماً ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ دین اسلام بنیادی طور پہ عزت و وقار کے ساتھ جینے کا ہی نام ہے۔ دین اسلام کی بنیاد یعنی توحید سے لے کر دین کے بظاہر معمولی جزیات والے مسائل تک ہر جگہ ہی ہمیں وقار کی تعلیم دی جاتی ہے ـ اگر ہم عقیدہ توحید کو ہی لیں، اسکی فلاسفی پہ غور کریں تو ایک سادہ سی بات ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں بتایا گیا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، باقی مذاہب میں یہ بات بھلے ہی مذہب کا فیصلہ نہ ہو مگر یہ سب ہی مانتے ہیں کہ انسانیت سب سے بلند رتبہ ہے، تو آپ غور کریں کہ کیسے ایک انسان کا وقار یہ گوارا کر سکتا ہے کہ خود سے کم تر کسی مخلوق کی عبادت کرے اور اسکے سامنے جھک جائے؟ سجدے کرے یا اسے اپنا پروردگار مان لے؟؟ یہ عزت و وقار کا تقاضا ہے کہ کوئی ایسا  ہو، جو اتنا اکمل و کامل ہو کہ اس سے اعلی کچھ بھی ہونا ممکن نہ ہو، جس میں کوئی بھی کمی نہ ہو، جو ہر لحاظ سے بزرگ و برتر ہو، جو اعلی ترین و ارفع ترین ہو، اور مخلوقات میں سے بھی نہ ہو، بس اسی کو یہ حق حاصل ہے کہ انسان اس کو ہی خدا مانے اور سمجھے . اسکے علاوہ کسی اور کی عبادت انسانیت کے وقار کے منافی ہے۔

    یہی تعلیم ہمیں اسلام نے نہ صرف دی ہے بلکہ اسے اسلام کی بنیاد بنا کر لازم بھی کر دیا ہے۔ اب آگے چلتے ہیں، اپنے لئے رہبر ورہنما کا چناؤ۔ تو اس کے لئے رب تعالی نے انبیاء کرام بنا دئیے، جن کے معتلق اس دور کے انسانوں میں یہ ثابت کر دیا گیا اور ہر کسی سے تسلیم بھی کروا دیا گیا کہ اس وقت روئے زمیں پہ ان سے بہتر اور کوئی انسان نہیں ہے ـ ان کے کردار، ان کی شخصیت، ان کے قول و فعل، ان کے روز مرہ کے معاملات، سبھی کچھ اتنا مکمل اور درست اور اعلی ترین رکھا گیا کہ ہر انسان پورے وقار کے ساتھ ان کی اطاعت کر سکے اور کہیں بھی اسے یہ شرمندگی نہ ہو کہ اس کے قائد، اسکے ہادی اور اور اسکے رہنما میں کوئی کمی ہے۔

    اس طرح  ایک نظام زندگی دے دیا گیا جس کے ہر معاملے کو ہی عزت و وقار کاحامل بنایا گیا. جو کچھ بھی انسان کے وقار کو نقصان پہنچانے والا تھا، اسے گناہ کبیرہ اور حرام قرار دیا گیا اور اس کے ارتکاب پہ سخت سزائیں لاگو کر دی گئیں۔ یہ اصول طے کر دیا گیا کہ جو انسان بھی مجموعی انسانیت کے وقار کو نقصان پینچانے والا عمل کرے اس کو سزا ملے ـ اور اگر ہم زرا غور کریں تو یہ بالکل واضح ہے کہ صرف اپنے ذاتی وقار کو نقصان کو پہنچانے والے کسی بھی عمل پہ اسلام نے فقط حوصلہ شکنی ہی کی ہے ، اسے ناپسندیدہ  قرار دیا ہے مگراس پہ سزا مقرر نہیں کی البتہ جہاں دوسروں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کا عمل ہے وہاں سخت حرمت کے ساتھ سخت سزائیں بھی عائد کی ہیں ـ

    اسی طرح جو چیزیں انسان کے وقار کو بلند کرنے والی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے ، ساتھ ہی انعامات کی نوید بھی دی ہے. اس کی مثالیں چوری، ڈکیتی شراب نوشی، زنا، جیسے معاملات جو ڈائریکٹ دوسروں کے وقار کو خراب کرنے والے ہین ان کو حرام قرار دے کر اس پہ سخت سزائیں دینا ہےـ اس کے مقابل ذاتی وقار کے منافی چیزیں جیسے گندا رہنا، بد گوئی، نظر بازی، مسخرہ پن اور بھیک مانگنے جیسی چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ـ جبکہ ان کے بھی درمیانی معاملات جن سے وقار کی خرابی بہت زیادہ تو نہیں ہوتی مگر ہوتی ضرور ہے ان کو بھی حرام تو قرار دیا مگر ان پہ سزا کا اطلاق نہیں کیا بلکہ فقط گناہ قرار دیا. جیسے چغلی، غیبت، فحش گوئی وغیرہ ـ اور ان سب برائیوں کے مقابل میں جو چیزیں وقار بنانے والی ہیں ان سب کو اسلام نے بہت اہم قرار دیتے ہوے لازم قرار دے دیاـ

    اسلام کے پانچوں بنیادی ارکان جہاں دیگر وجوہات کے لئے دئے وہاں اسی وقار کو سمجھنے، اسکے حصول اور اس پہ کاربند رہنے کے لئے بھی بنائے گئے ، “کلمہ توحید”جیسا کہ ابتدا میں ذکر کیا گیا ہے، دنیا کی ہر چیز کو مخلوق اور کمتر قرار دیتے ہوئے صرف اور صرف ایک ہی ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہو نے کا نام ہے اور اسی میں انسان کا وقارہے اور اس کے ساتھ ہی رہنما کی بھی تصدیق کر دینا ہے کہ نبی کریم صل وسلم انسان کے لئے اللہ کی طرف سے دئیے گئے ہادی، رہبر و قائد ہیں ـ

    یہ تو رہا کلمہ، اب نماز پہ غور کریں، پانچ وقت کی یہ عبادت اللہ کا ہم پہ حقِ بندگی کی ادائیگی کے ساتھ ہی ایک پر وقار زندگی جینے کے لئے ہماری ذہنی تربیت بھی کرتی ہے، اور جسمانی تربیت بھی. نماز کا ہر پہلو، گھر سے نکلنے سے لیکر وضو اور پھر ہر ہر جزو اپنے اندر ایک الگ سے وقار لئے ہوے ہےـ باجماعت، ڈسپلن چستی ؛ رکوع،سجود،ہر ایک کا اپنا وقار رکھا گیا اوراسکی چھوٹی چھوٹی جزیات بھی نظرانداز نہیں گئیں، ارشاد ہوا نماز کےلئے جاؤ تو دوڑ کے جلد بازی میں مت جاؤ بلکہ پورے وقار کے ساتھ چل کے جاؤ اور پہنچ کےلوگوں کے کاندھے مت پھلانگو! جہاں جگہ ملے سکون اور وقار کے ساتھ بیٹھ جاو، اسی طرح قیام کے دوران قدم جما کے ستون کی طرح مضبوط کھڑے ہوں، ڈھیلے ڈھالےاور پینترے بدلتے ہوئے یا کھجلی خارش کرتے ہوے مت کھڑے ہو۔ اسی طرح رکوع اور سجدہ میں بھی خصوصی ہدایات کہ جانوروں سے مشابہت والے طریقے مت اپناؤ بلکہ پروقار طریقہ اپناؤ، عاجزی بھی وقار کے ساتھ۔

    اسی طرح روزہ ہے، فرض کے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم میں برداشت پیدا ہو، خودی پیدا ہو، ایسا نہ ہو کہ ہم جہاں بھی اپنا من پسند کچھ بھی دیکھیں تو ندیدوں کی طرح اس پہ ٹوٹ پڑنے کے عادت پڑی ہو بلکہ ایک باوقار انسان کی طرح موقع اور حالات کے مطابق ہم خود پہ کنٹرول رکھنے کے اہل بھی ہوں. ہم میں ضبط ہو، برداشت ہو اور پروقار طرح سے کھانے پینے کے لئے ہمیں گھینٹوں بھی انتظار کرنا پڑے تو ہم کر سکیں، یہاں تک کہ وہ مناسب وقت نہ آ جائے۔

    اسی طرح زکوٰۃ اور حج میں بھی وقار ہے۔ یہ بنیادی اراکین اسلام ہیں، انکے علاوہ دین اسلام کا جو بھی معاملہ اٹھایا جائے،جہاں اسکے دیگر انگنت فائدے ہونگے وہاں ایک لازمی جذو وقار کا بھی ہوگا،اسلام نے بھیک مانگنے کی اجازت نہیں دی بلکہ اسکی سخت حوصلہ شکنی بھی کی اور دوسری طرف کاروبار، اورمحنت کو پسندیدہ ترین قرار دیا، جب ہم رسول کریم صلا اللہ علیہ وسلم کی اسوہ مبارک پہ نظر ڈالتے ہیں تو زندگی کا کوئی بھی موقع اور فعل ایسا ہر گز نہیں ملتا جو باوقار نہ ہو، پھر جب آ پ صل وسلم نے جو افراد تیار کئے جنکی تربیت فرمائی انکی زندگیوں پہ نظر ڈالیں تو بھی ہر جگہ وقار ہی نظر آتا ہے ،آپ صل وسلم کا تربیت کردہ کوئی بھی فرد میلا کچیلا، بےوقوف اور سادہ لوح یا آج کے دور کے ملنگ ٹائپ ہر گز نہیں تھا، بلکہ تمام صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین انتہائی باوقار، زیرک، سمجھدار، بردبار تھے۔ دین اسلام میں کوئی بھی حکم ایسا نہیں ہے جو کسی فرد یا مجموعی انسانیت کے وقار کے منافی ھو ،ہر حکم کے جہاں دیگر بہت سے انتظامی ، اخلاقی اور تربیتی فوائد ہیں، وہاں ایک لازمی جزو عزت ووقار بھی ہے، اور یہ بات بھی دین اسلام کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے. اللہ رب العزت ہم سب کو دین اسلام کو سمجھنے اور اس پہ مکمل طور پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،، آمین۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *