اور کتنے پارا چنار ؟ اور کتنے زین حیدر

سانحہ پارا چنار ان 26 خاندانوں کی روحوں کو گہرے گھاؤ دے گیا جن کے پیارے آہن وبارود کے دھویں میں ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئے۔ وہ پیارے جن کا کوئی جرم نہیں تھا ،جن میں سے بیشتر کا تعلق محنت کش طبقے سے تھا ۔ وہی محنت کش طبقہ جس کے لیے یہ دنیا بھوک ، غربت ، بیماری، بے روزگاری اور پسماندگی کے عذابوں کی صورت کسی جہنم زار سے کم نہیں ۔ ایک انسان کش گروہ نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی جو اپنے انتقام کی آگ نہتے اور معصوم انسانوں کے خون سے بجھانے کو عین راستی سمجھتا ہے ۔ وہ سفاک قوت جس کی کمر توڑنے کے بارہا دعوے کیے گئے ۔ ان دعوؤں کی گونج ، ان کی بازگشت ابھی باقی ہوتی ہے کہ ایک اور المناک سانحہ کبھی پشاور کے معصوم طلبا ، کبھی کوئٹہ کے وکلا تو کبھی سانحہ پارا چنار کی شکل میں اس کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔ جلے ہوئے انسانی گوشت کی بو میں ایک بار پھر اقتدار کی غلام گردشوں سے لے کر قوت واقتدار کے اصل سرچشموں تک سے وہی دعوے ، وہی نعرے بلند ہوتے ہیں تاوقتیکہ دھیمی پڑتی یہ گونج معصوم انسانوں کی آہوں اور سسکیوں سے نئی توانائی حاصل کر لیتی ہے ۔
سانحہ پارا چنار 26گھرانوں کا المیہ اور ان سے وابستہ سینکڑوں سینوں کا گھاؤ ہے ۔ ان خاندانوں میں ایک خاندان ذین حیدر کا بھی ہے ۔آٹھ ،نوسالہ ذین حیدر جس کا مزدور باپ پارا چنار سے سینکڑوں میل دور کراچی میں محنت مزدوری کرنے گیا ہے ۔ وہ کراچی جہاں کی فیکٹریوں ،کارخانوں کو صنعتکاروں نے مزدوروں کے لیے موت کی رقص گاہوں میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ جہاں 90فی صد سے زائد فیکٹریوں ،کارخانوں میں لیبر قوانین کا تکلف نہیں برتا جاتا ۔ جہاں کم ازکم اجرت سے لے کر صحت وسلامتی اور سماجی تحفظ تک محنت کشوں کی اکثریت کے لیے خواب وخیال کی باتیں ہیں ۔ جہاں کنٹریکٹ سسٹم سے لے کر ہر قسم کے مزدور دشمن چلن کو سند حاصل ہے ۔ جہاں ہر کارگاہ ایک سلطنت اور مالک کی مرضی ومنشاء اس کا قانون ہے ۔ سو ذین حیدر کا مزدور باپ اس شہر میں اتنا نہیں کما پاتا کہ اس کے بچے تعلیم کی عیاشی کر سکیں ۔ ننھاذین حیدر اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ پارا چنار شہر میں کرائے کے ایک بوسیدہ مکان میں رہتا ہے اور اور ہر صبح اسکول کے بستے کی بجائے کپڑے کا ایک تھیلا لے کر اپنے بھائی کے ہمراہ سبزی منڈی کا رخ کرتا ہے ۔وہ لوگوں سے گر جانے والی مختلف سبزیاں اکھٹی کرتا ہے ۔ یہ سبزیاں اس کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سچ ،کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے سامنے باقی ساری ’’ صداقتیں ‘‘ باطل ٹھہرتی ہیں ۔ کیونکہ اس سچائی کا تعلق بھوک سے ہے ۔ وہی بھوک جومذہب ، فرقہ ، نسل ، زبان اور رنگ سے ماورا ہوتی ہے ۔ اس کا احساس وہ پیمانہ طے کرتا ہے جو طبقہ مقرر کرتا ہے۔ ذرائعِ پیداوار پر قابض طبقات کی بھوک ایک ایسی نعمت ہے جس سے انواع غذاؤں کی لذت وابستہ ہے ۔لیکن یہی کم بخت بھوک قوتِ محنت کی فروخت پر زندہ محنت کار انسانوں کے لیے سب سے بڑی اذیت ہے ۔یہ وہ بھوک ہے جو غربت کی پیداوار ہے ۔ وہی منحوس غربت جو ساحر لدھیانوی کے بقول سنسار کی ہر اک بے شرمی کا مرکز ومنبع ہے ۔ وہ غربت جو آج بھی اسی دنیا کے ایک کروڑ کے قریب انسانوں کو روز بھوکا پیٹ سلانے پر مجبور کرتی ہے،وہی جس دنیا میں ہر سال پیدا ہونے والی غذائی اجناس وغیرہ آئندہ تیس سال تک کرہ ارض کے باشندوں کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہے ۔
21 جنوری کے سرد صبح اس کی والدہ اسے بمشکل اٹھاپاتی ہے۔کچھ دیر ہو گئی تھی اس لیے احساسِ ذمہ داری کے مارے ذین حیدر بنا ناشتہ کیے خالی پیٹ ہی سبزی منڈی روانہ ہو گیا ۔ بھوک کے شکار ذین حیدر کی زندگی میں اسکول کے بچوں کی طرح چھٹی کا کوئی دن نہیں تھا ۔ وہ ہر دن ، ہر موسم اور تہوار سے بے نیاز تھا ۔اس کے لیے چھٹی کا مطلب فاقہ تھا ۔ہاں تھا
۔۔۔۔ کیوں کہ ذین حیدر نہیں رہا ، اس کی بھوک ، اس کی اذیت نہیں رہی ۔ بکھری ہوئی سبزیاں سمیٹنے والے ننھے ذین حیدر کا وجود اس خود کش دھماکے میں بکھر گیا ۔چھٹی سے ناآشنا ذین حیدر نے چھٹی کر لی ۔موت کے ہرکاروں نے اسے ایک ایسے سفر پر روانہ کر دیا جہاں سے کوئی نہیں لوٹتا ۔
ذین حیدر کا بکھرا ہوا وجود برسوں قبل بارود کی یہ فصل بونے والے اور آج بھی مختلف خطوں میں اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے لبرل سامراجیوں سے ، پڑوس میں بیجا مداخلت پر آمادہ ان کے مقامی آلہ کاروں سے ، مسلح جنونی گروہوں کے سارے پشت بانوں سے ، ان کے لیے آج بھی معذرت خواہانہ رویہ رکھنے والے حکمرانوں، دانشوروں اور لکھاریوں سے یہ سوال کرتا ہے کہ اور کتنے پارا چنار؟ بھوک سے نبرد آزما اور کتنے ننھے ذین حیدر ؟ اور کتنی کٹی پھٹی لاشیں ؟اور کتنا خون؟۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *