لوک رنگ۔سائرہ ممتاز/حصہ اول

سریندر کور کا ایک پرانا بھولا بسرا گیت تلاش رہی تھی. اسی دوران یکایک مشرقی پنجاب کی کسی شادی کی ریکارڈ وڈیو سامنے آگئی. ٹپوں کا مقابلہ تھا۔ خوبصورت بولوں کے ساتھ لڑکیاں گدا ڈال رہی تھیں. آنکھوں کے سامنے  سے کئی گلابی منظر گزر گئے. کتنی سرمئی شاموں کے پنکھ پھیل گئے. اب انھیں ڈھونڈ  چراغِ رخ زیبا لے کر۔۔ نا وہ لوگ رہے نا ریتی رواج. نہ موسم رہے نہ موسموں کی سوغات. عقل و دانش کے جتنے موتی اسلاف نے اکٹھے کیے تھے ہم نے ایک ایک چن کر کاہلی کے بحر اعظم میں پھینک کر ان پر مذہبی احکامات کی غیر ضروری پابندی عائد کردی. وہ بھی جس سے اسلام جیسے پیارے اور شستہ مذہب نے کبھی روکا تک نہیں. غلطیاں ہم خود کریں بدنام مذہب ٹھہرے، کہاں تک سنوں گے کہاں تک سناؤں؟

پاکستان کے دامن میں رنگ برنگے خوبصورت پھول اور تتلیاں لپٹی  ہیں. جو کچھ عطا ہوا نہایت قیمتی، مربوط اور مضبوط اقدار سے گندھی تہذیب و ثقافت کا خزانہ تھا جسے بے دردی سے لوٹ لوٹ کر خالی کردیا گیا اب فقط بارود کی بو، قتل کا خوف، اٹھائے جانے کی دہشت، دھماکوں کی گرج، ویران آنکھیں، موت کا رقص اور پسماندگی کے حلوے مانڈے بچے ہیں جنھیں کھا کھا کر بھی اہل جبر کا پیٹ نہیں بھر رہا. ہمیں تو پاکستان چھوڑیے ،سارے ہندوستان کی تہذیب بھاتی ہے. جب اکٹھے تھے تب بھی جب منقسم ہوئے تب بھی، جڑیں اسی زمین میں پیوست رہیں، رہیں گی. جہاں کی خاک ہو وہیں آسودہ ہونے میں مزہ دیتی ہے.

سریندر کور کو جب جب دیکھا یوں لگا جیسے ہوبہو ہماری دادی کی شبیہہ ہو. انسان کی شکل تو اللہ نے عقیدے دیکھ کر نہیں بنائی بھئ. روپ رنگ تو سارے ہندوستان و پاکستان کا قابل صد تحسین و لائق محبت ہے لیکن راقم کی جذباتی وابستگی چونکہ پنجاب سے رہی تو پنجاب کے دامن میں   قدیم ثقافت، لوک ٹھٹھ، ریت  رواج، اقدار، رسومات، پکوان اور موسم کی مناسبت سے میلے ٹھیلے ہمیشہ یوں دکھائی دیے جیسے لعل یمن، در نجف، عقیق زرد، کوہ سلیمانی کے سنگریزے، صدف کے موتی، زمرد و نیلم اور قیمتی ہیرے کسی نے ایک لڑی میں پرو کر خطہ ء پاک و ہند کے گلے میں لٹکا رکھے ہوں.

کہاں سے بات شروع کی جائے؟ یہ موضوع ایسا ہے جہاں سے پکڑا جائے گھوم کر وہیں آئے گا. ہشت پہلو ہو کر بھی محیط ہے مربوط ہے. چلیں کیونکہ سردیوں کا موسم ہے تو یہیں سے شروع کر لیتے ہیں. سیال ماہ میں پوہ ماگھ کی سردی کا کوئی مقابلہ  نہیں اسی مناسبت سے کبھی دیسی گھی کی کڑاہیاں، کھوئے ماوے میں بھنا آٹا ڈال کر بے شمار ڈرائی فروٹس کے ساتھ بنائی جاتی تھیں. پنجیری بنتی، کافی کی جگہ گڑ والی چائے تھی، السی کی کڑاہی بنتی( دیسی گھی ڈال کر السی کا حلوہ تیار کیا جاتا تھا) بنولے کی کھیر بنتی تھی، گنے کے رس کی کھیر بنتی تھی. ہاتھوں سے سوئٹر بن کر تحفے دیے جاتے. کماد کٹتا تو ملوں میں جانے سے پہلے آس پڑوس، رشتے داروں اور دور دراز تک کے عزیز و اقارب کو بانٹا جاتا. کسی کے کنوؤں کے باغ ہوتے تو پہلا پھل اتار کر منڈی بھیجنا گویا عزت پر حرف آنے برابر تھا.

ہائے! اب تو مشرقی پنجاب کہتے سینے سے دھواں اٹھتا ہے کہ بس پنجاب ہی تقسیم ہونا تھا. وارث شاہ کے لیے ادھر کے لوگوں سے اُدھر کے لوگ زیادہ روتے ہیں. وہاں بھی یہی کچھ ہوتا تھا، لوڑی بھی ہوتی تھی. گرم چادروں کی بکل میں چھپے بزرگ رات گئے تک گاؤں کی چوپالوں میں بیٹھتے اور تیس پینتیس لوگوں میں آٹھ دس حقے ایک سے دوسری جگہ گردش کرتے رہتے تھے. ایک کی بیٹی سب کی بیٹی تھی چاہے وہ شوکت نائی کی بیٹی ہو یا ملک حیات لمبردار کی . لوک دانش کی ایسی ایسی حکایات دفن ہو چکی ہیں جن کے بارے شاید اب خواب بھی کوئی نہ  دیکھتا ہو.

کیا آپ جانتے ہیں کون سے پکوان کس کس موسم میں کھانا چاہییں؟ کون سا حلوہ سردی کے کون سے مہینے میں کھایا جائے تو انسانی جسم کے لیے کتنا سود مند ثابت ہوتا ہے. کیا آپ کو مختلف عرقیات، شربتوں کے بارے مفصل معلومات ہیں؟ کون سا مشروب کب کس وقت پیا جائے تو موسموں کے تیز اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟ آئیے آپ کو ایک ایک کر کے ست رنگی دھنک کے ہر رنگ سے گفتگو کروائیں خاص طور پر وہ نسل جس نے آنکھ ہی آج کے ماڈرن بلیک اینڈ وائٹ دور میں کھولی ہے.

سردیوں کی شروعات عموما موسم خزاں کے جوبن پر آنے کے بعد سے ہی شروع ہوجاتی تھی اب تو مختلف النوع انسانی ایجادات نے یہ موسم بھی چھین لیے کہ ہمارے ہاں سال کے چار کی بجائے آٹھ موسم ہوا کرتے تھے. وہ یاد کیجئے پیتل کے لمبے لمبے گلاس، لگن، پر اتیں، کٹوریاں، دیگچے، بالٹیاں ہوتی تھیں. ساتھ مختلف نوعیت کے تانبے کے برتن بھی ہوتے تھے. پھر ڈھیر سارے برتن ہوتے تھے جنہیں قلعی کروایا جاتا. آپ میں سے بہت سے لوگوں کی دادیوں نانیوں کے جہیز کی نشانیاں شاید بک چکی ہوں.

دادی اماں نے وفات سے کچھ عرصہ قبل بہوؤں سے کہا کہ ماڈرن زمانہ آ گیا ہے تم لوگ بھی تنگ ہوتی ہو اب کون راکھ اور سمندری ریت سے مل کر اوپر لیموں رگڑ رگڑ کر انھیں چمکائے پھر اپنے کمروں میں  بنی اونچی سلیبوں پر سجانے کا جھنجھٹ کرتا پھرے. ایسا کرو انھیں بیچ دو. اس وقت بہت کم عمر ہونے کے باوجود محض پرانی چیزوں سے عشق کی   وجہ سے بہت منع کیا مت بیچیں رکھ دیں ایسے ہی کسی ٹرنک میں ڈال کر. لیکن ایک نہ  سنتے ہوئے برتن بیچ دیے گئے.

پچھلے برس کراچی میں امتیاز سپر اسٹور اور پھر میکرو سپر اسٹور کی ایک برانچ میں شاپنگ کے دوران ایک چھوٹی سی تانبے کی ہنڈیا پر نظر پڑی قیمت دیکھی تو چھ ہزار. جہاں کے تہاں رہ گئے ،کلیجہ منہ کو آگیا ہم نے تو اس سے سو گنا بڑے لگن کوڑیوں کے مول بیچ دیے. اب تو بطور فیشن یہی برتن دوبارہ گھر میں لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن کیا فرانس کے قیمتی شیشوں کے برتنوں کے عادی ہو کے ہم لوگ تانبے کے برتن برت سکیں گے؟ خدا جانے کتنی بار ری سائیکل ہو چکے گندے مندے پلاسٹک کے برتن دھڑا دھڑ خریدنے والا بھلا قلعی والی دیگچیوں اور اسٹیل کی  نفیس کٹوریوں کو کیا جان پائیں گے.

یہ بتائیں بھانڈے قلعی کرنے والے ملتے ہیں کیا؟ ضرورت عیش پرستی سے بدل جائے تو کچھ بھی پائیدار نہیں ملتا. اب تو ادھر سردی کی ہلکی سی لہر آئی نہیں ادھر گاجر کا منہ دیکھا نہیں۔ سب لگ پڑے گجریلا بنانے. ہم نے تو صدیوں کی دانش سنبھالے ہوئے بزرگوں سے یہی سنا تھا گاجر کی تاثیر سخت سرد ہوتی ہے اور گجریلا یا گاجر کا حلوہ کھانے کا سب سے بہترین موسم چیت (وسط مارچ سے وسط اپریل) کا ہے. کوئی بات نہیں حیران ہونا آپ کا حق ہے!

اب جو اگلا مہینہ ہے اس میں کھوئے والا حلوہ، (جس کو مختلف طریقوں سے بنایا جاتا ہے. ایک تو سادہ حلوہ بنتا ہے چار مغز بادام اور پستے ڈال کر اور دوسری قسم کے حلوے میں کمر کس اور مختلف ادویات ڈال کر خواتین کے لیے الگ تیار کیا جاتا ہے. اگلے وقتوں کی عورتوں کو اسی وجہ نا کمر درد کی شکایت ہوتی تھی نا ان کی ہڈیاں جوڑ گھستے تھے) اسی موسم میں بنولے کی کھیر، السی کی پنیاں کھائی  جاتی ہیں.

مونگ پھلی تو ہر کوئی کھا لیتا ہے لیکن کتنوں کو معلوم ہے مونگ پھلی ہمیشہ گڑ یا ریوڑیوں کے ساتھ کھائی جاتی ہے اس سے مونگ پھلی کھانے کے بعد لگنے والی کھانسی سے بچت ہوجاتی ہے اور گرم خشک مزاج کی مونگ پھلی سے بدن میں خشکی پیدا نہیں ہوتی. اسی موسم میں گرم دودھ میں کچے انڈے پھینٹ کر نوجوان بچیوں کو دینے سے ان کو آخر عمر تک زچگی کے بعد ہونے والے کمر درد سے نجات مل جاتی ہے. اسی ایک ماہ میں ہی پنجیری کھانے کا وقت بھی ہوتا ہے. اسی کے ساتھ فروٹر اور موسمی کھانے کا موسم یہی ہے.

یاد رکھیں ابھی کینو کھانے کا موسم آنا ہے! میٹھے کنو اور گنا ایک ساتھ آتے ہیں. نٹنگ کا شوق ہے تو اطلاع یہ ہے کہ اب پھر سے مشینی اور ہاتھ پر بنی ہوئی سوئیٹروں کا رواج ہے. اللہ جانے کتنے لوگ پہن سکیں گے شاید صرف خال خال شوقین لوگ ہی بطور فیشن پہنیں. اتنے مشینی دور میں جب پڑوس میں بسنے والوں کی خبر تک نہیں ہوتی یہ آزار کون پالے؟

جاری ہے

سائرہ ممتاز
اشک افشانی اگر لکھنا ٹھہرے تو ہاں! میں لکھتی ہوں، درد کشید کرنا اگر فن ہے تو سیکھنا چاہتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لوک رنگ۔سائرہ ممتاز/حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *