ترکمانستان: “جہنم کے دروازے” کو بند کرنے کا فیصلہ

ترکمانستان میں موجود “جہنم کے دروازے” کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے ماہرین کو حکم دیا ہے کہ وہ 50 برس سے “جہنم کے دروازے” نامی گڑھے میں دہکتی آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ نکالیں۔

ترکمانستان کے صدر نے حکام کو ہدایت کہ کہ قراکم صحرا کے وسط میں پائے جانے والے گڑھے میں گزشتہ 50 سال سے لگی آگ کو بجھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں قدرتی ذخائر کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم منافع کما سکتے ہیں لیکن وہ ضائع ہو رہا ہے۔ اس منافع سے ہم لوگوں کی زندگیاں بہتر کر سکتے ہیں۔

قربان قلی بردی نے کہا کہ انسانوں کے ہاتھوں بننے والے اس گڑھے کی وجہ سے ماحول اور اردگرد رہنے والے لوگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لیے ماہرین اس بارے میں کوئی راستہ نکالیں اور آگ کو بجھانے کی کوشش کریں۔

Advertisements
julia rana solicitors

واضح رہے کہ 1971 سے بننے والے اس گڑھے میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس گڑھے کی چوڑائی 70 میٹر اور گہرائی 20 میٹر ہو چکی ہے اور یہ اب یہ سیاحوں کےلیے ایک پرکشش جگہ بن چکا ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply