یوریشیائی راہداری، سائبیریا(3)۔۔اکرام سہگل

سائبیریا ایک وسیع جغرافیائی علاقہ ہے جو پورے شمالی ایشیا کی تشکیل کرتا ہے، یہ مغرب میں یورال پہاڑوں سے لے کر مشرق میں بحر الکاہل تک پھیلا ہوا ہے اور یہ بہت کم آباد ہے۔ روسیوں نے جب یورال پہاڑوں کے مشرق میں زمینوں کو فتح کیا تو اس کے بعد سے، یعنی 16 ویں صدی کے نصف آخر سے یہ روس کا حصہ رہا ہے۔ 13.1 ملین مربع کلو میٹر کے رقبے پر محیط سائبیریا روس کی آبادی کا محض پانچواں حصہ ہے، نووسی برسک اور اومسک اس علاقے کے سب سے بڑے شہر ہیں۔ دریائے ینیسی سائبیریا کو مغربی اور مشرقی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ آرکٹک اوقیانوس سے جنوب کی طرف، شمال وسطی قازقستان کی پہاڑیوں اور منگولیا اور چین کے شمالی حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مختصر سخت گرمیوں کے ساتھ طویل سخت سردیوں کے لیے جانا جاتا ہے، جو سال بھر مٹی کو منجمد رکھتا ہے، مغربی سائبیریا کا بیش تر حصہ جنگل (ٹائیگا) سے ڈھکا ہوا ہے، جب کہ شمالی علاقہ درختوں سے پاک میدانی علاقہ ہے جسے ٹنڈرا کہتے ہیں۔ سائبیریا غیر معمولی معدنیات سے مالا مال ہے، جن میں تقریباً تمام قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ ان میں نکل، سونے، سیسہ، کوئلے، مولیبڈینم، جپسم، ہیرے، ڈایوپسائیڈ، چاندی اور زنک کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تیل اور قدرتی گیس کے بھی وسیع پیمانے پر غیر استعمال شدہ وسائل موجود ہیں۔ روس سائبیریا کے نورلسک ذخیرے میں نِکل کے دنیا کے معلوم وسائل کا تقریباً 40 فی صد رکھتا ہے، اور نورلسک نِکل دنیا کا سب سے بڑا نِکل اور پیلیڈیم پروڈیوسر ہے۔
روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے حال ہی میں سائبیریا کے لیے ایک بڑا ماسٹر پلان متعارف کرایا تھا، جس کا اگر اطلاق کیا گیا تو یہ روس کو یوریشیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس کے تحت اس وسیع خطے کو آرکٹک سے جوڑنے کے لیے پانچ نئے بڑ شہر سائبیریا میں تعمیر کیے جانے چاہئیں، جن میں سے ہر ایک کی آبادی دس لاکھ تک ہوگی، اور یہ نئے صنعتی گروہوں کے مراکز ہوں گے، یہاں قدرتی وسائل نکالنے اور پروسیسنگ، اسی طرح ریسرچ اور انفرا اسٹرکچر کے لیے جدید ترین سہولتیں میسر ہوں گی، تاکہ زیادہ تر کم آباد اور پسماندہ علاقے کی طرف آبادی کو کھینچا جا سکے۔ روسی آرکٹک زون کی وسیع زمینی سرحدوں، جنہیں 2020 میں باقاعدہ شکل دی گئی تھی، اور پیش کردہ مراعات نے دور شمال میں سرمایہ کاروں کو راغب کیا ہے۔ اکتوبر 2020 میں، روسی صدر پیوٹن نے روسی آرکٹک زون کی زمینی سرحدوں کو بڑھانے کے احکامات پر دستخط کیے، بشمول کراسنویارسک ریجن کی بلدیات، ارخنگیلسک، کریلیا اور کومی علاقوں میں۔ نئی آرکٹک ترجیحی حکومتوں کے تحت سرمایہ کاری کے ابتدائی 294 منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ ان منصوبوں کے تحت سرمایہ کاری کی رقم 1.1 ٹریلین روبل ہے۔
آرکٹک LNG-2 پروجیکٹ کے تحت، سرمایہ کار مرمنسک ریجن میں سمندر کے اندر مال برداری کی بڑی گنجائش والے ڈھانچے کے لیے ایک بڑا مرکز تعمیر کرے گا، جو روس کے لیے منفرد ہے۔ سیراڈاسیسکی ڈپازٹ کی تعمیر سے کوئلہ شمالی سمندر کے راستے سے منتقل کیا جائے گا، اس کی مقدار 2026 تک سالانہ 7 ملین ٹن ہوگی، اور یہ مقدار بڑھ کر 12 ملین ٹن سالانہ ہو جائے گی۔
ناردن سی روٹ (این ایس آر) کی تعمیر، آرکٹک میں زیادہ تر منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ضروری تعمیراتی سامان اور ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ خام مال اور مصنوعات کی ترسیل کے لیے، نظام کی سطح کا کام ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے روسی شمال کو باقی دنیا سے ٹانکا لگا کر جوڑ دیا جائے، اور یوں ایک نئی گلوبل ٹرانسپورٹ لائن کی صورت میں اس کی تعمیر ایک اسٹرٹیجک ہدف ہے۔ اگر نہر سوئز سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ ناردن سی روٹ 40 فی صد چھوٹا ہے، اور اس کے ساتھ مسابقت کے لیے اس کی تعمیر کرنی ہوگی۔ تاہم نہر سوئز کے ساتھ حقیقی مقابلے کے لیے پھر بھی بہت کچھ کرنا باقی ہوگا۔
روسی آئس کلاس فلیٹ 2030 تک تین گنا ہو جائے گا، اور 2023 تک روسی آرکٹک زون میں 30 نئے موسمی اسٹیشنز قائم کر دیے جائیں گے۔ جو پیویک، سبیٹا، ڈیکسن اور ٹکسی میں قائم کیے جائیں گے۔ ریسکیو کی مد میں حکومت نے 2026 تک 37 ارب روبل (514 ملین ڈالر) مختص کیے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد پورے شمالی سمندری راستے کے ساتھ کسی بھی مقام پر ہر قسم کی ضروری مدد کو یقینی بنانا ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ روسی بحریہ کا ایک نیا ڈویژن، آرکٹک بیڑا، جو ناردن سی روٹ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا جا رہا ہے، میں ایسے بحری جہاز اور خاص آلات ہوں گے جو آرکٹک کے لیے موزوں ہوں گے۔ اس طرح آج روس ناردن سی روٹس کو توسیع دینے کے پیٹر اول کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، اور اس کے لیے وہ جدید تکنیکی آلات اور وہ نئے مواقع استعمال کر رہا ہے جو یوریشیائی ترقیاتی منصوبے اور بی آر آئی پیش کر رہے ہیں۔
شمالی کوریڈور کے علاوہ سائبیریا کو جنوب سے جوڑنے کے منصوبے اومسک شہر کے ساتھ پہلے ہی جاری ہیں۔ نووسبیرسک کے بعد سائبیریا کا دوسرا سب سے بڑا شہر اومسک آج ایک اہم ریل مرکز بن چکا ہے، اور یہ شمالی اور جنوبی سائبیریا کو یورپ کی طرف جانے والے ٹرانس سائبیرین ریل روٹس کے ساتھ ساتھ منگولیا، قازقستان اور جنوب میں چین سے ملاتا ہے۔ اس کی بنیاد ٹرانس سائبیرین ریلوے ہے۔ یہ ریلوے کا ایک وہ نیٹ ورک ہے جو مغربی روس کو روسی مشرق بعید سے جوڑتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے لمبی ریلوے لائن ہے، جس کی لمبائی 9.289 کلومیٹر (5.772 میل) ہے، جو دارالحکومت ماسکو (یورپ کا سب سے بڑا شہر) سے شروع ہوتی ہے، اور بحر الکاہل کے ولادیووستوک پر ختم ہوتی ہے۔
روس کے شہنشاہ الیگزینڈر سوم اور اس کے بیٹے زارویچ نکولس (بعد ازاں 1894 سے شہنشاہ نکولس دوم) کے ذاتی طور پر مقرر کردہ حکومتی وزرا نے 1819 اور 1916 کے درمیان ٹرانس سائبیرین ریلوے کی تعمیر کی نگرانی کی جو ماسکو کو براہ راست ولادیو وستوک سے جوڑتی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کی تکمیل سے بھی قبل اس ریلوے لائن نے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور انہوں نے اپنی مہم جوئیوں میں اس کے بارے میں لکھا۔ آج 2021 میں بھی، اس ریلوے سسٹم کی توسیع ایشیا (منگولیا، چین اور شمالی کوریا) میں کنیکٹنگ ریلوں کے ساتھ جاری ہے۔ روس اور جاپان کے درمیان جب سرحدی مسائل حل ہو جائیں گے تو اس کے بعد جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کو، مین لینڈ اور جزائر سخالین اور ہوکائڈو کے درمیان پُلوں کے ذریعے اس ریلوے سسٹم سے جوڑنے کے منصوبے بھی ہیں۔
روسی ریلوے جے ایس سی نے 2008 میں مشرق بعید کی بندرگاہوں (ولادیو وستوک، نخودکا اور دیگر) سے روس کی مغربی سرحدوں تک بلاک ٹرینوں کے ذریعے کنٹینرز کارگو کی تیز ترسیل کے لیے ایک پروگرام شروع کیا تھا، جسے ’’7 دن میں ٹرانسِب‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت مشرق بعید سے کارگو کی ترسیل کا وقت 2008 میں 11 دن سے کم ہو کر 2015 میں 7 دن رہ گیا۔
ایشیا کی سب سے بلند ریلوے سرنگ ابھی گزشتہ مہینے ہی مکمل ہوئی ہے، یہ شمال مغربی چین کے چلیان پہاڑوں میں ڈونگشن ٹنل کمپلیکس کا ایک حصہ ہے۔ اس سے گانسو اور چنگھائی کے درمیان ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، اور سفر بھی پانچ گھنٹے کم، اور فاصلہ سڑک کنکشنز کے مقابلے میں 400 کلومیٹر سے زائد تک کم ہو جائے گا۔ شمال کی طرف یہ راستہ قازقستان سے ہوتے ہوئے سائبیریا میں اومسک سے جڑتا ہے، اور جنوب کی طرف یہ ویتنام کے ساتھ سرحد پر یوننان صوبے سے ملتا ہے۔ یہ اتنا بعید از فہم بھی نہیں جتنا کہ لگتا ہے، روس یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) کا بانی رکن ہے، اور ویت نام پہلے ہی اس یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کر چکا ہے، اس یونین نے 2015 میں اپنے پانچ رکن ممالک آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، کرغیزستان اور روس میں سامان، سرمائے، خدمات اور لوگوں کی آزاد نقل و حرکت متعارف کرائی تھی۔
تاجکستان کو باضابطہ طور پر یونین میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی اور اس نے شمولیت میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے، اب رکنیت کے مذاکرات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، روس کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ اسٹیٹس (CIS)، سربیا اور مصر کے ساتھ آزاد تجارتی سمجھوتے اور تجارتی معاہدے کر چکا ہے۔ ان ممالک اور مستقبل کے کسی بھی دوسرے رکن ملک کے درمیان سامان کی آزاد ترسیل کے لیے نئے ٹرانسپورٹ چینلز کی ضرورت ہوتی ہوگی۔
رشیا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو منصوبے سائبیریا گیس پائپ لائن کی بہت بڑی قوت، جو روسی آرکٹک سے چین تک جاتی ہے، پر مرکوز ہیں یا اسے بھی شامل کیے ہوئے ہے۔ تاہم، اگرچہ یہ اہم ہے، لیکن روس اور چین کے تعلقات صرف توانائی کا کھیل ہی نہیں، بلکہ یہاں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔
جہاں تک روس اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی بات ہے تو ایسے کئی مخصوص منصوبے ہیں جن کی تکمیل ہونے جا رہی ہے، اور ایسا ہونے کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ان میں شامل ہونے کے لیے پوسٹ پروجیکٹ مواقع ملیں گے۔ یہ بالخصوص سروسز سیکٹر میں ممکن ہے، اور جہاں ترسیلاتی راہداریاں، تجارت بڑھانے والی ٹیکنالوجیز اور سمجھوتے جنم لے رہے ہیں۔ یورپ کو چین سے ملانے والی یوریشیا ہائی اسپیڈ ریلوے کی تعمیر جاری ہے۔ ماسکو کو کازان سے جوڑنے والی 772 کلومیٹر لائن تو 60.9 بلین امریکی ڈالر مالیت کے یوریشیا ہائی اسپیڈ ریلوے پروجیکٹ کا صرف ایک حصہ ہے، اور یہ 2023 تک مکمل ہونے والی ہے۔
افغانستان امن کی راہ پر گامزن ہے اور بائیڈن انتظامیہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے تیاری کر رہی ہے، ایسے میں شمال اور جنوب کے ملنے کے لیے نئی راہیں جلد ہی ابھریں گی اور ’’گرم پانیوں‘‘ کی مشہور حکایت، جو کبھی ٹھوس مادے کی بجائے ایک خیالی واہمہ تھا، اب پہنچ کے اندر آنے کو ہے۔

جاری ہے

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

بشکریہ روزنامہ جسارت

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply