• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امام زین العابدین علیہ السلام (صبر کا بادشاہ)حصّہ اوّل ۔۔شبیر

امام زین العابدین علیہ السلام (صبر کا بادشاہ)حصّہ اوّل ۔۔شبیر

علی بن حسین بن علی بن ابی‌ طالب (38-95 ھ) امام سجادؑ اور زین العابدین کے نام سے مشہور، شیعوں کے چوتھے امام اور امام حسینؑ کے فرزند ہیں۔ آپ 35 سال امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ امام سجادؑ واقعہ کربلا میں حاضر تھے لیکن بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عمر بن سعد کے سپاہی آپ کو اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ و شام لے گئے۔ کوفہ اور شام میں آپ کے دیئے گئے خطبات کے باعث لوگ اہل بیتؑ کے مقام و منزلت سے آگاہ ہوئے۔

واقعہ حرہ، تحریک توابین اور قیام مختار آپ کے دور امامت میں رونما ہوئے۔ امام سجادؑ کی دعاؤں اور مناجات کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے۔ خدا اور خلق خدا کی نسبت انسان کی ذمہ داریوں سے متعلق کتاب، رسالۃ الحقوق بھی آپ سے منسوب ہے۔

tripako tours pakistan

شیعہ احادیث کے مطابق امام سجادؑ کو ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسموم کرکے شہید کیا گیا۔ آپ امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔

حیات طیبہ

علی بن حسین بن علی بن ابی‌طالب، امام سجادؑ اور امام زین‌العابدینؑ کے نام سے مشہور، شیعوں کے چوتھے امام اور امام حسینؑ کے فرزند ہیں۔ مشہور قول کی بنا پر آپ 38ھ میں متولد ہوئے۔[1] لیکن دوسرے اقوال بھی ہیں جن کے مطابق آپ کی تاریخ ولادت 36ھ، 37ھ [2] یا 48ھ ہے۔[3] آپ نے امام علیؑ کی حیات مبارکہ کا کچھ حصہ اور امام حسن مجتبیؑ اور امام حسینؑ کی امامت کو درک کیا ہے۔[4] امام سجادؑ کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے مطابق آپ کی ولادت بروز جمعرات 15 جمادی الثانی کو ہوئی،[5] اربلی 5 شعبان کو آپ کی تاریخ ولادت مانتے ہیں۔[6] جبکہ بعض منابع میں 9 شعبان بھی ذکر کیا گیا ہے۔[7]

امام زین العابدین کی والدہ ماجدہ کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے؛ شیخ مفید آپ کا نام شہربانو بنت یزدگرد ابن شہریار بن کسری[8] اور شیخ صدوق آپ کو ایران کے بادشاہشہریار کے بیٹے یزدگرد کی بیٹی قرار دیتے ہیں جو آپ کی ولادت کے وقت فوت ہو گئے تھے۔[9]

امام سجادؑ:
«میرے بیٹے! مصیبت پر صبر کریں اور دوسروں کے حقوق کو پایمال نہ کریں اور کسی ایسے شخص کی مدد نہ کرو جس کا نقصان تیرے لئے اس کے نفع سے زیادہ ہو۔»

شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ۱۳۸۵ش، ص۱۶۰۔

امام سجادؑ کی کنیت ابوالحسن، ابوالحسین، ابومحمّد،‌ابولقاسم اور ابوعبداللّہ ذکر کی گئی ہے[10] اور آپ کے القاب میں زین العابدین، سیدالساجدین، سجاد، ذو الثفنات، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی، اور علی‌اکبر شامل ہیں۔[11] امام سجادؑ اپنے زمانے میں “علی‌الخیر”، “علی‌الاصغر” اور “علی‌العابد” کے نام سے مشہور تھے۔[12]

امام سجادؑ کی تاریخ شہادت کا دقیق علم نہیں؛ اس بنا پر بعض نے 95ھ[13] اور بعض نے 94ھ ذکر کی ہیں۔[14] آپ کی شہادت کے دن کے بارے میں بھی اختلاف ہے؛ من جملہ بروز ہفتہ[15] 12 محرم،[16] یا 25 محرم کو آپ کی شہادت کا دن قرار دیا گیا ہے۔[17] اسی طرح 18 محرم،[18] 19 محرم اور 22 محرم بھی بعض منابع میں دیکھا جا سکتا ہے۔[19]

امام سجادؑ کی شہادت ولید بن عبد الملک کے حکم پر مسموم کرنے کے ذریعے واقع ہوئی۔[20] آپ کو قبرستان بقیع میں امام حسن مجتبیؑ،[21] امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ سپرد خاک کئے گئے ہیں۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔[22]

امام سجادؑ:
«عورت کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ خدا نے اسے تمہارے لئے مایہ آرامش اور محبت قرار دیا ہے اور یہ خدا کی طرف سے تمہارے لئے ایک نعمت ہے۔»

شہیدی، زندگانی علی بن الحسین(ع)، ۱۳۸۵ش، ص۱۷۹۔

انگشتریوں کے نقش

امام سجاد علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے تین نقش منقول ہیں:

آپؑ امام حسینؑ کی وہ انگشتری پہن لیا کرتے تھے جس پر “إِنَ‏ اللَّهَ‏ بالِغُ‏ أَمْرِه” (یعنی خداوند متعال اپنا امر و فرمان انجام تک پہنچا دیتا ہے) کا نقش تھا۔[23] آپؑ کی دوسری انگشتریوں کے نقش “وَما تَوْفِیقِی‏ إِلَّا بِاللَّه”،[24] اور“خَزِی‏ وَشَقِی‏ قَاتِلُ الْحُسَینِ بْنِ عَلِی”۔[25]۔[26]

ازواج اور اولاد

تاریخی منابع میں منقول ہے کہ امام سجادؑ کی پندرہ اولادیں ہیں جن میں سے گیارہ( 11) بیٹے اور چار (4) بیٹیاں ہیں۔ [27] شیخ مفید اور طبرسی کے مطابق امام سجادؑ کے ازواج اور فرزندوں کے نام کچھ یوں ہیں:[28]

ازواج نسب اولاد
ام عبداللہ امام حسنؑ کی بیٹی امام محمد باقرؑ
کنیز عبداللہ، حسن و حسین اکبر
جیدا کنیز زید و عمر
کنیز حسین اصغر، عبدالرحمن و سلیمان
کنیز علی و خدیجہ
کنیز محمد اصغر

دلائل امامت

کتب حدیث میں شیعہ محدثین کی منقولہ نصوص کے مطابق امام سجادؑ اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے جانشین ہیں۔[29] علاوہ ازیں رسول اللہؐ سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سمیت تمام ائمہؑ کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[30]عاشورا 61ھ کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی امام سجادؑ کی امامت کا آغاز ہوتا ہے اور آپ کا دوران امامت سنہ 94 یا 95 ہجری میں آپ کی شہادت تک جاری رہتا ہے۔

نیز شیعہ نصوص کے مطابق رسول اللہؐ کی تلوار اور زرہ وغیرہ کو ائمہ کے پاس ہونا چاہئے اور یہ اشیاء ہمارے شیعہ ائمہ کے پاس تھیں حتی کہ اہل سنت کے کتابوں میں اس امر پر صراحت کی گئی ہے رسول خداؐ کی یہ اشیا امام سجادؑ کے پاس تھیں۔ [31]

علاوہ ازیں امام سجادؑ ملت تشیع نے امام کے طور پر قبول کیا اور آپ کی امامت آپ کی امامت کے آغاز سے آج تک مقبول عام ہے جو خود اس حقیقی جانشینی کا بیِّن ثبوت ہے۔

معاصر سلاطین

علم اور حدیث میں آپ کا رتبہ

علم اور حدیث کے حوالے سے آپ کا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ حتی اہل سنت کی چھ اہم کتب صحاح ستہ “صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الصحیح، ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی سنن ابن ماجہ نیز مسند ابن حنبل سمیت اہل سنت کی مسانید” میں آپ سے احادیث نقل کی گئی ہیں۔ بخاری نے اپنی کتاب میں تہجد، نماز جمعہ، حج اور بعض دیگر ابواب میں، [33] اور مسلم بن حجاج قشیری نیشابوری نے اپنی کتاب کے ابواب الصوم، الحج، الفرائض، الفتن، الادب اور دیگر تاریخی مسائل کے ضمن میں امام سجادؑ سے احادیث نقل کی ہیں۔[34]

ذہبی رقمطراز ہے: امام سجادؑ نے پیغمبرؐ امام علی بن ابی طالب سے مرسل روایات نقل کی ہیں جب آپ نے (چچا) حسن بن علیؑ (والد) حسین بن علیؑ، عبداللہ بن عباس، صفیہ|صفیّہ، عائشہ اور ابو رافع سے بھی حدیث نقل کی ہے اور دوسری طرف سے امام محمد باقرؑ، زید بن علی، ابو حمزہ ثمالی، یحیی بن سعید، ابن شہاب زہری، زید بن اسلم اور ابو الزناد نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[35]

فضائل و مناقب

عبادت

مالک بن انس سے مروی ہے کہ علی بن الحسین دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے۔[36]
ابن عبد ربّہ لکھتا ہے: علی بن الحسین جب نماز کے لئے تیاری کرتے تو ایک لرزہ آپ کے وجود پر طاری ہوجاتا تھا۔ آپ سے سبب پوچھا گیا تو فرمایا: “وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ میں اب کس ذات کے سامنے جاکر کھڑا ہونے والا ہوں! کس کے ساتھ راز و نیاز کرنے جارہا ہوں!؟”۔[37]
مالک بن انس سے مروی ہے: علی بن الحسین نے احرام باندھا اور لبیّكَ اللهمّ لبَيكَ پڑھ لیا تو آپ پر غشی طاری ہوئی اور گھوڑے کی زین سے فرش زمین پر آ گرے۔[38]

غربا و مساکین کی سرپرستی

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسینؑ راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: “جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے”۔[39]
محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسینؑ کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [40]

راتوں کو روٹی کے تھیلے اپنی پشت پر رکھ دیتے تھے اور محتاجوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے اور کہتے تھے: رازداری میں صدقہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے، ان تھیلوں کو لادنے کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر نشان پڑ گئے تھے اور جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو غسل دیتے ہوئے وہ نشانات آپ کے بدن پر دیکھئے گئے۔[41] ابن سعد روایت کرتا ہے: جب کوئی محتاج آپ کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے: “صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتا ہے”۔ [42]

ایک سال آپؑ نے حج کا ارادہ کیا تو آپ کی بہن سکینہ بنت الحسینؑ نے ایک ہزار درہم کا سفر خرچ تیار کیا اور جب آپ حرہ کے مقام پر پہنچے تو وہ سفر خرچ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور امامؑ نے وہ محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا۔ [43]

آپ کا ایک چچا زاد بھائی ضرورتمند تھا اور آپ راتوں کو شناخت کرائے بغیر آپ کو چند دینار پہنچا دیتے تھے اور وہ شخص کہتا تھا: “علی ابن الحسین” قرابت کا حق ادا نہیں کرتے خدا انہیں اپنے اس عمل کا بدلہ دے۔ امامؑ اس کی باتیں سن کر صبر و بردباری سے کام لیتے تھے اور اس کی ضرورت پوری کرتے وقت اپنی شناخت نہیں کراتے تھے۔ جب امامؑ کا انتقال ہوا تو وہ احسان اس مرد سے منقطع ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ نیک انسان امام علی بن الحسینؑ ہی تھے؛ چنانچہ آپ کے مزار پر حاضر ہوا اور زار و قطار رویا۔[44]

ابونعیم رقمطراز ہے: امام سجادؑ نے دو بار اپنا پورا مال محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا اور فرمایا: خداوند متعال مؤمن گنہگار شخص کو دوست رکھتا ہے جو توبہ کرے۔[45] ابو نعیم ہی لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کرگئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔[46] جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھے: آفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کررہا ہے”۔ [47]

غلاموں کے ساتھ آپ کا طرز سلوک

امام سجادؑ کے تمام تر اقدامات دینی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی پہلؤوں کے حامل بھی ہوتے تھے اور ان ہی اہم اقدامات میں سے ایک غلاموں کی طرف خاص توجہ سے عبارت تھا۔ غلاموں کا طبقہ وہ طبقہ تھا جو خاص طور پر خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے بعد اور بطور خاص بنی امیہ کے دور میں شدید ترین سماجی دباؤ کا سامنا کررہا تھا اور اسلامی معاشرے کا محروم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا۔
امام سجادؑ نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرح اپنے [خالص] اسلامی طرز عمل کے ذریعے عراق کے بعض موالی کو اپنی طرف متوجہ اور اپنا گرویدہ بنا لیا اور معاشرے کے اس طبقے کی سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔

سید الاہل نے لکھا ہے: امام سجادؑ ـ جنہیں غلاموں کی کوئی ضرورت نہ تھی ـ غلاموں کی خریداری کا اہتمام کرتے اور اس خریداری کا مقصد انہيں آزادی دلانا ہوتا تھا۔ غلاموں کا طبقہ امامؑ کا یہ رویہ دیکھ کر، اپنے آپ کو امامؑ کے سامنے پیش کرتے تھے تاکہ آپ انہیں خرید لیں۔ امامؑ ہر موقع مناسبت پر غلام آزاد کرٹیتے تھے اور صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں آزاد شدہ غلاموں اور کنیزوں کا ایک لشکر دکھائی دیتا تھا اور وہ سب امام سجادؑ کے موالی تھے۔[48]

امام سجاد اور واقعۂ کربلا

کربلا

امام سجادؑ واقعۂ کربلا میں اپنے والد امام حسینؑ اور اولاد و اصحاب کی شہادت کے دن، شدید بیماری میں مبتلا تھے اور بیماری کی شدت اس قدر تھی کہ جب بھی یزیدی سپاہی آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے، ان ہی میں سے بعض کہہ دیتے تھے کہ “اس نوجوان کے لئے یہی بیماری کافی ہے جس میں وہ مبتلا ہے”۔[49]

اسیری کے ایام

عاشورا 61ھ کے بعد، جب لشکر یزید نے اہل بیت کو اسیر کرکے کوفہ منتقل کیا، تو ان میں سے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علاوہ امام سجادؑ نے بھی اپنے خطبوں کے ذریعے حقائق واضح کئے اور حالات کی تشریح کی اور اپنا تعارف [50] کراتے ہوئے یزید کے کارندوں کے جرائم کو آشکار کردیا اور اہل کوفہ پر ملامت کی۔[51]

امام سجادؑ نے کوفیوں سے خطاب کرنے کے بعد ابن زیاد کی مجلس میں بھی موقع پا کر چند مختصر جملوں کے ذریعے اس مجلس کے حاضرین کو متاثر کیا۔ اس مجلس میں ابن زیاد نے امام سجادؑ کے قتل کا حکم جاری کیا[52] لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے درمیان میں آ کر ابن زياد کے خواب سچا نہيں ہونے دیا۔

اس کے بعد جب یزیدی لشکر اہل بیتؑ کو “خارجی اسیروں” کے عنوان سے شام لے گیا تو بھی امام سجاد علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے امویوں کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

جب اسیران آل رسولؐ کو پہلی بار مجلس یزید میں لے جایا گیا تو امام سجادؑ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ امامؑ نے یزید سے مخاطب ہوکر فرمایا: تجھے خدا کی قسم دلاتا ہوں، تو کیا سمجھتا ہے اگر رسول اللہؐ ہمیں اس حال میں دیکھیں!؟[53] یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے ہاتھ پاؤں سے رسیاں کھول دی جائیں۔[54]

اسیری کے بعد

امام سجادؑ واقعۂ کربلا کے بعد 34 سال بقید حیات رہے اور اس دوران آپ نے شہدائے کربلا کی یاد تازہ رکھنے کی ہر کوشش کی۔
پانی پیتے وقت والد کو یاد کرتے تھے، امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر گریہ کرتے اور آنسوں بہاتے تھے۔ ایک روایت کے ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول کہ امام سجادؑ نے (تقریبا) چالیس سال تک اپنے والد کے لئے گریہ کیا جبکہ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو نماز و عبادت میں مصروف رہتے تھے، افطار کے وقت جب آپ کا خادم کھانا اور پانی لا کر عرض کرتا کہ آئیں اور کھانا کھائیں تو آپؑ فرمایا کرتے: “فرزند رسول اللہ بھوکے مارے گئے! فرزند رسول اللہؐ پیاسے مارے گئے!”، اور یہی بات مسلسل دہراتے رہتے اور گریہ کرتے تھے حتی کہ آپ کے اشک آپ کے آب و غذا میں گھل مل جاتے تھے؛ آپ مسلسل اسی حالت میں تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے۔[55]

معاصر تحریکیں

امام سجاد علیہ السلام کے زمانے میں اور کربلا کے واقعے کے بعد مختلف تحریکیں اٹھیں جن میں سے اہم ترین کچھ یوں ہیں:

واقعۂ حَرَہ

تفصیلی مضمون: واقعہ حرہ

کربلا کا واقعہ رونما ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد مدینہ کے عوام نے اموی حکومت اور یزید بن معاویہ کے خلاف قیام کرکے حرہ کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کی قیادت جنگ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے حنظلہ غسیل الملائکہ کے بیٹے عبد اللہ بن حنظلہ کررہے تھے اور اس قیام کا نصب العین اموی سلطنت اور یزید بن معاویہ اور اس کی غیر دینی اور غیر اسلامی روش کی مخالفت اور اس کے خلاف جدوجہد، تھا۔ امام سجادؑ اور دوسرے ہاشمیوں کی رائے اس قیام سے سازگار نہ تھی چنانچہ امامؑ اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ سے باہر نکل گئے۔ امام زین العابدینؑ کی نظر میں یہ قیام نہ صرف ایک شیعہ قیام نہ تھا بلکہ درحقیقت آل زبیر کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا، اور آل زبیر کی قیادت اس وقت عبد اللہ بن زبیر کررہا تھا اور عبد اللہ بن زبیر وہ شخص تھا جس نے جنگ جمل کے اسباب فراہم کئے تھے۔ یہ قیام یزید کے بھجوائے گئے کمانڈر مسلم بن عقبہ نے کچل ڈالا جس نے اپنے مظالم کی بنا پر مسرف کا لقب کما لیا۔ [56]

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply