گوانتانامو کی کہانی،ایک کشمیری صحافی کی زبانی(2،آخری حصّہ)۔۔افتخار گیلانی

گوانتانامو کو امریکی صدر جارج بش نے قید خانے کے طور پر منتخب کیا تھا، کیونکہ امریکی حدود سے باہر ہونے کی وجہ سے یہ امریکی عدالتوں کی دسترس سے دور ہے۔ لہذا قیدیوں کی فوری ٹرائل کرنے کی ضروت نہں تھی۔ نزاکت کے مطابق اس قید خانے تک پہنچے کیلئے کئی سیکورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ ان جزائر تک پہنچے کیلئے پہلے فلوریڈا کے فورٹ لاوڈیرڈیل میں پیش ہونا پڑتا ہے، جہاں جانچ پڑتال کے بعد ہوائی جہاز کے ذریعے گوانتانامو خلیج کے ایک جزیرے لیوارڈ میلے پر موجود ملٹری ایرپورٹ تک لے جایا جاتا ہے۔ سیکورٹی کی دوبارہ پڑتال کے بعد ایک کشتی میں بحریہ کے مستقر جو ایک دوسرے جزیرے وینڈوارڈ بار پر واقع ہے لے جایا جاتا ہے۔یہاں بھی کئی سیکورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ہی قید خانہ تک رسائی ہو جاتی ہے۔ دراصل 1898ء میں اسپین کے ساتھ جنگ کے بعد امریکہ نے ان جزائر کا کنٹرول سنبھالا۔ 1903ء خلیچ کے جنوب مشرقی حصے کو کیوبا نے امریکہ کو لیز پر دے دیا۔ بعد میں 1934ء کو امریکہ نے ان جزائر پر پوری طرح قبضہ جما لیا۔ نزاکت کے مطابق ان جزائر کا محل وقوع ایسا ہے کہ یہاں سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک طرف گہرا سمندر اور دوسری طرف کیوبا کی سرحد کی طرف بلند و بالا پہاڑوں کیساتھ ساتھ یہ علاقہ بارودی سرنگوں سے بھرا پڑا ہے۔ نزاکت کا کہنا ہے کہ کئی قیدیوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ ساحل سمندر کے پاس ہیں۔ کیونکہ جب ان کو قید خانہ میں لایا جاتا ہے تو سیل تک ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کو صرف صحت کی جانچ یا وکیل کی آمد کے موقع ہر ہی سیل سے باہر نکالا جاتا ہے۔ نکلتے وقت اور واپسی پر نہایت ہی سخت ترین تلاشی لی جاتی ہے۔ کیمپ چھ میں نزاکت نے تین ایسے قیدیوں کو دیکھا، جن میں دو تو خاموش تھے اور وہ برآمدے سے گزرنے والے افراد سے لاتعلق تھے، مگر ایک باریش معمر قیدی بلند آواز میں کچھ پڑھ رہا تھا اور سیل کے چکر لگا کر برآمدے سے گزرنے والی کی توجہ چاہتا تھا۔ اس جیل میں ایک قیدی نے الروبیش کے قلمی نام سے ایک نظم لکھ کر باہر بھیج دی تھی۔ چند سال قبل بھارت کے انتہائی جنوبی صوبہ کیرالا کی کالی کٹ یونیورسٹی نے اسکو انگریزی ادب کے سیلیبس میں شامل کر دیا تھا۔ بعد میٰں ہنگامہ کے بعد اسکو حذف کردیا گیا۔ افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد یہ امید بندھ گئی ہے کہ امریکی صدر بائیڈن گوانتانامو کا تلخ باب بند کردیں گے اور 9/11کی ٹرائل بھی مکمل کرنے کے احکامات صادر کریں گے۔ صدر اوبامہ نے بھی اس جیل کو بند کرنے کے وعدے کئے تھے ، مگر دیگر وعدوں کی طرح یہ یہ وعدہ بھی ایفا نہیں کر سکے۔ 2014ء میں اسی جیل سے طالبان کے پانچ رہنماوں کو قطر لے جایا گیاتھا، تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے۔ ان میں سے چار اسوقت افغانستان میں طالبان حکومت میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ سچ کہ اللہ جسے چاہے عزت سے نوازے، جسے چاہئے ذلت دے اور آزمائشوں سے گزارے۔اب ان طالبان رہنماوں پر بھی لازم ہے کہ اللہ کی نعمت کا صحیح استعمال کرکے ایک فلاحی حکومت قائم کرکے، افغانستان کو امن و ترقی و خوشحالی کا گہوراہ بنا کر مثال قائم کریں۔ ورنہ لاٹھی بھی دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔ حال ہی میں ایک ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور احمد ربانی کو 19سال بعد اس جیل سے رہا کردیا گیا۔ اسکو ایک انتہائی مطلوب ملزم حسن گل سمجھ کر کراچی سے گرفتار کرکے افغانستان میں امریکی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا، جہاں مختلف مراکز میں 545 دن تک جسمانی تشدد کیا گیا۔ایک برطانوی این جی او کے مطابق اسکی گرفتاری کے دو دن بعد ہی انکشاف ہو گیا تھا کہ وہ مطلوب ملزم حسن گل نہیں لیکن اس کے باوجود احمد ربانی کو افغانستان بھیج دیا گیا۔ افغانستان میں بھی امریکی حکام نے نامکمل تفتیش کے باوجود احمد ربانی کو گوانتاناموبے بھیج دیا جہاں 17 سال بغیر کوئی کیس چلائے انھیں قید رکھا گیا۔ احمد ربانی کے خلاف نہ ٹرائل شیٹ تیار کی گئی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا۔ برطانوی ادارے ’ری پریو‘ نے احمد ربانی کیلئے قانونی جنگ لڑی جس کے بعد اسکو رہائی نصیب ہوگئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حسن گل نامی شخص جس کے شک میں احمد ربانی کو گرفتار کیا تھا وہ بھی گرفتار ہوکر بگرام جیل میں احمد ربانی کے ساتھ ہی قید رہا۔اصل ملزم حسن گل تو تین سال بعد ہی رہا ہوگیا، مگر ربانی تقریبا دو دہائیوں تک قید بند میں رہا۔ رہا ہونے کے بعد گل پھر شدت پسند تنظیموں سے جا ملا تھا اور 2012 میں وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا ،جب کہ ادھر بے گناہ احمد ربانی گوانتاناموبے میں نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا۔ احمد ربانی پر جو الزامات لگائے تھے ،ان کے مطابق ملزم 1994 میں افغانستان میں رہا، 7 ماہ خوست اور 2 ماہ خالدان میں عسکری ٹریننگ لی اور 1995 سے 1996 کے درمیان پاکستان میں قید بھی رہا اور 1997 میں اسامہ بن لادن سے بھی ملا۔این جی او پری ریو جس نے ربانی کا کیس لڑا کے مطابق سعودی عرب میں پیدا ہونے کی وجہ سے ربانی کو عربی زبان پر عبور تھا اور اسی بنیاد پر ایئرپورٹ سے عربی مسافروں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتا تھا۔ حکومت پاکستان نے اسکو حراست میں لیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ غیر ملکی تھا۔بتایا گیا کہ کراچی کا یہ ٹیکسی ڈرائیور برمی نژاد ہے اور سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا۔ (ختم شد)

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply