• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عام انتخابات، مذہبی جماعتیں اور اتحاد امت۔۔ثاقب اکبر

عام انتخابات، مذہبی جماعتیں اور اتحاد امت۔۔ثاقب اکبر

جوں جوں ملک میں عام انتخابات نزدیک آ رہے ہیں، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مابین جوڑ توڑ اور جمع تفریق کے سلسلے جاری ہیں۔ پانچ مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے نام سے پھر سامنے آچکا ہے۔ اس کی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک یہ بھی ہے کہ اس میں شامل مختلف جماعتیں، مختلف مسالک سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ایم ایم اے کی کسی اور بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ علامتی طور پر ہی سہی پاکستان میں یہ سیاسی اور انتخابی اتحاد، اتحاد امت کے نظریئے کے لئے تقویت کا باعث بنے گا اور یقینی طور پر اس کے قائدین اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے مثبت تقاریر کریں گے اور مثبت بیانات دیں گے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی مذہبی جماعتیں اس اتحاد سے باہر ہیں۔ ہماری تو یہی خواہش تھی کہ وہ مذہبی جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں، اکٹھی ہوتیں اور مل کر انتخابات میں جاتیں۔ یقینی طور پر اس سے بعض مزید مثبت نتائج بھی نکلتے۔ اس سلسلے میں ایم ایم اے کی قیادت کو مزید حوصلہ مندی اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم خواہش خواہش ہوتی ہے اور خارجی حقیقتیں ان خواہشوں کے مطابق اکثر نہیں ہوتیں۔

جو مذہبی جماعتیں ایم ایم اے سے باہر ہیں اور انتخابات میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں، وہ بالعموم الگ الگ مکاتب فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگر اتحاد امت کو قرآن و سنت کا تقاضا نہ سمجھا جائے اور مضبوطی سے اس نظریئے پر قائم رہنے کا ارادہ نہ کیا جائے تو اس امر کا امکان ہے کہ یہ جماعتیں اپنے مکتب کے پیروکاروں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے دیگر مذہبی جماعتوں یا مسالک کے حوالے سے منفی بیانات کا سہارا لیں۔ ان کے تمام قائدین نہ سہی، تاہم بعض کا اپنے ووٹر کو متاثر کرنے کے لئے ایسا کرنا قرین قیاس ہے۔ یک مسلکی جماعتوں کے اتحادوں کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ ان کے بارے میں بھی وہی امکان موجود ہے، جس کا ذکر ہم نے سطور بالا میں کیا ہے۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم نے یہاں امکان کا لفظ استعمال کیا ہے یقین کا نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کئی ایک جماعتوں کے قائدین اور راہنما ایک عرصے سے اس ملک میں ہم آہنگی اور مسلمانوں کے مابین یکجہتی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان سے اب بھی ہماری توقع مثبت ہی ہے۔

ایک طویل عرصے سے پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل کے نام پر مسلمانوں کے مابین اتحاد اور اسلامی اقدار کی بالادستی کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ کونسل میں موجود تمام جماعتیں نظام اسلام کے قیام کے لئے بھی یکسو رہی ہیں، اگرچہ اس کونسل نے جناب قاضی حسین احمد کی قیادت میں اپنے احیاء کے روز سے ہی اپنے غیر انتخابی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ بات اس امر کی طرف واضح اشارہ تھا کہ اس میں شریک جماعتیں پاکستان کی عملی سیاست میں کونسل سے جدا اور کونسل کی دیگر جماعتوں سے ہٹ کر کوئی لائحہ عمل اختیار کرسکتی ہیں اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔ ہماری گزارش انتخابات میں جانے والی تمام مذہبی جماعتوں سے یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد امت کے جس نظریئے کا پرچار کرتی رہی ہیں، اسے انتخابی معرکے میں بھی ملحوظ نظر رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انتخابی گھڑ دوڑ میں اتنی خاک اٹھے کہ ایک عرصے تک چہرے پہچانے ہی نہ جاسکیں۔ انتخابی معرکہ تو چند ماہ ہی برپا رہنا ہے اور راقم کو یہ توقع نہیں کہ اس کے نتیجے میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو جائے گا۔ ہمیں نہیں لگتا کہ خود جماعتوں کے قائدین کو بھی کوئی لمبی چوڑی توقعات ان انتخابات سے ہیں۔ لہٰذا انتخابات کے بعد پھر بھی مل جل کر رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اس ضرورت کا ابھی سے لحاظ رکھنا ہوگا۔

اس سے مفر نہیں کہ ہر جماعت کے امیدوار دیگر جماعتوں کے امیدواروں پر تنقید کریں گے۔ یہ تنقید مذہبی جماعتوں کے امیدوار بھی ایک دوسرے کے خلاف ضرور کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تنقید کو جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی اور انتخابی منشور کے بنیادی فرق کی حدود میں رکھا جائے تو مذکورہ بالا ہدف پورا ہو جائے گا۔ تنقید کو مذہبی تنقید نہ ہی بنایا جائے تو اچھا ہوگا، ورنہ اس وقت موجود بین المسالک ہم آہنگی کی فضا کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ان انتخابات میں اپنا فوکس پاکستان کا بہتر مستقبل قرار دینا چاہیے اور یہ بہتر مستقبل ایک مضبوط و مستحکم پاکستان کا تقاضا کرتا ہے۔ نیز مضبوط و مستحکم پاکستان تبھی ممکن ہے، جب پاکستان کے عوام اس سلسلے میں یکسو ہوں۔ اسی طرح ایک مضبوط معیشت ہی پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرسکتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مقتدر ہو تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی قسمت کے فیصلے پاکستان میں کئے جائیں، واشنگٹن یا کسی اور جگہ پر پاکستان کی قسمت کے فیصلے نہ کئے جائیں۔ اس کے لئے پاکستان میں غیرت مند، ایماندار، خدا دوست اور جرات مند قیادت کی ضرورت ہے۔ اسی کو ہم اسلامی نظام کا بنیادی تقاضا بھی قرار دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حقیقی اور گہری خدا پرستی ہی انسان کو کسی دوسری طاقت کے خوف سے آزاد کرسکتی ہے۔ ہمارے حکمران بہت سے فیصلے خدا پر اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے اور مادی طاقتوں کے خوف سے کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کی ایک اور بنیادی وجہ ان کا حریص علی الدنیا ہونا بھی ہے۔ پاکستان کو اس خوف اور حرص سے آزاد کروانا ہوگا۔ اتحاد امت کے لئے ہماری خواہش میں دراصل یہ اہم مقصد چھپا ہوا ہے، ورنہ اتحاد برائے اتحاد کوئی معنی نہیں رکھتا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *