خوابوں کی دنیا (2)۔۔ابو جون رضا

خوابوں کی دنیا (2)۔۔ابو جون رضا/جدید سائنس نے پتہ لگایا ہے کہ جانور بھی خواب دیکھتے ہیں۔ گرگٹ کے بارے میں حیاتیاتی ماہر بتاتے ہیں کہ وہ خواب دیکھتا ہے  اور دورانِ  نیند اس کی آنکھیں کافی رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔ انسان بھی جب گہری نیند میں خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہے ، تو اس وقت اس کی بھی آنکھیں پتلیوں کے نیچے تیز رفتاری سے حرکت کرتی ہیں۔

انسان اور گرگٹ میں ایک اور چیز مشترک ہے ۔دونوں کس وقت رنگ بدل لیں اس کا پتا نہیں چلتا۔

tripako tours pakistan

پرانے زمانے میں لوگ جانوروں کو خواب میں دیکھنے کے بھی معنی نکالتے تھے مثلاً  شیر کو اگر خواب میں دیکھا جائے تو یہ مستقبل میں کسی سخت دشمن سے پالا پڑنے کی نشانی مانی جاتی تھی۔ ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتایا کہ وہ کافی عرصے تک ایک شیرنی کو خواب میں دیکھتے رہے کچھ عرصے بعد ان کی شادی ہوئی ،تو ان کو تعبیر سمجھ میں آئی۔

اگر کتے کو خواب میں دیکھا جائے تو کسی وفادار دوست کے ملنے کی تعبیر لی جاتی ہے۔ پطرس بخاری نے خواب میں کتوں کے دیکھے جانے کا ذکر کیا تھا کہ وہ ایک دفعہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ بہت سارے کتے پیروں سے لپٹے ہوئے ہیں ۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پیر چارپائی کی ادوائن میں پھنسے ہوئے تھے۔

اکثر لوگ مردہ لوگوں کی خواب میں آمد اور ان سے گفتگو کو بھی مستقبل کے اشارے سمجھتے ہیں جبکہ انسان زندہ اور مردہ دونوں افراد کو خواب میں دیکھتا ہے۔ اگر انسان خواب میں کسی زندہ شخص کو دیکھے تو یقیناً  بیدار ہوکر اس شخص سے یہ نہیں پوچھے گا کہ کیا آپ میرے خواب میں آئے تھے؟

بعض اوقات خواب چھپی ہوئی خواہشات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ مگر ان کو عنوان کے تحت لانا  ضرورت سے زیادہ سہل پسندی ہے۔ آرزو مندانہ خواب آسانی سے پہچانے جاتے ہیں مثال کے طور پر  ایک خواب میں ایک پیاسا خود کو صاف شفاف پانی پیتے اور ایک بھوکا خود کو لذیذ کھانا کھاتے دیکھتا ہے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے والا ان چیزوں کو دہراتا ہے جن کو اس نے کبھی دیکھا تھا یا پڑھا تھا مگر پھر وہ ان کو بھول گیا۔

2010 کی ہالی ووڈ کی فلم انسیپشن جس کو چار اکیڈمی ایوارڈ ملے ،دو ایسے چوروں کے گرد گھومتی ہے جو دوسروں کے دماغ کے سب کانشس میں گھس کر آئیڈیاز چرانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ایک مشین کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹارگٹڈ آدمی کو نیند کی گولی دیکر اس کی نیند پکی کی جاتی ہے اور مشین کے وائرز سے دونوں چور خود کو اور ٹارگٹڈ شخص کو منسلک کر کے اس کے سب کانشس میں گھس جاتے ہیں۔ خواب کا ڈیزائن ان دونوں چوروں کا پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے جس میں وہ ٹارگٹڈ شخص کو داخل کرتے ہیں اور اپنی مرضی کی معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔

فی زمانہ اگر یہ مشین بازار میں بک رہی ہو تو اس کی سب سے بڑی خریدار شادی شدہ خواتین ہوں گی۔ یہ روز رات کو اپنے میاں کی کلائی پر تار باندھ کر اس کے خوابوں میں گھس جائیں گی اور پھر مرد بیچارہ خواب میں بھی کسی نامحرم عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply