• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شہنشاہِ چین کی محبتِ رسولﷺ سے سرشار سو لفظوں کی نعت(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔انیس رئیس

شہنشاہِ چین کی محبتِ رسولﷺ سے سرشار سو لفظوں کی نعت(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔انیس رئیس

شادی کے بارہ میں شاہِ چین کا قانون

شاہانِ چین Hanنسل سے تعلق رکھتے تھے جو چین میں سب سے زیادہ معزز اور قابل احترام نسلی گروہ سمجھا جاتا ہے۔مِنگ خاندان تک تقریب دو ہزار سال چین پر حکمرانی کرنے والے شاہانِ چین کا تعلق بھی ہان نسل سے ہی تھا۔ ہان چینیوں کے رسم ورواج کے مطابق دیگر چینی اقوام میں شادیاں کرنا ممنوع تھا ،مگر مِنگ عہد کے بانی  عزت مآبHongwuنےآرٹیکل122کے تحت  مسلمانوں کو ہان چینیوں سے شادی کی اجازت عطا فرمادی ۔(8)

tripako tours pakistan

شاہانِ چین کی اسلام سے عقیدت

مِنگ عہد کے بانی عزت مآب Hongwuکی  سیرت وکردار اور اسلام کی طرف آپ کےغیر معمولی میلان سےمترشح ہے کہ آپ کا قلب ورح بانئ اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت سے سرشار تھا ۔آپ کے عہد میں جنوبی چین میں متعدد تاریخی مساجد تعمیر ہوئیں۔Nanjing,Yunnan, Guangdong , Fujianجیسے شہروں میں مساجد کی تعمیر بھی آپ کے عہد مبارک میں ہوئی۔(9)

ایک طرف شاہانِ چین کی اسلام سے عقیدت اور دوسری طرف چینی مسلمانوں کے مقامی تہذیب وثقافت کے احترام کے نتیجہ میں چین میں اسلام کو ایک نئی جہت نصیب ہوئی اور چین میں وجود رکھنے والے دیگر غیر ملکی مذاہب خصوصا یہودیت اور مسیحیت چین سے ناپید ہونا شروع ہوگئے۔چین میں اسلام اور یہودیت کے آسٹریلین محقق Donald Danialاس موضوع پر راقمطراز ہیں کہ:۔

’’ مِنگ شہنشاہ اسلام کی طرف خصوصی میلان رکھتے تھے ۔شاید اس لئے کہ مسلمانوں نے منگولوں کے خلاف مِنگ خاندان سے مل کر جدوجہد کی تھی۔اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے مِنگ شہنشاہ Hongwuمسلمانوں سے خصوصی تعلقات رکھتے تھے اور غالبا ان کی ایک بیگم بھی مسلمان تھیں۔تین ابتدائی مِنگ جرنیلوں کے بارہ میں بھی خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے ۔دوسرے مِنگ شہنشاہ Yongleکے ایڈمرل مسلمان تھے ،جنہوں نے چین کے سفیر کی حیثیت سے دنیا بھر کے متعدد سفر کئے ۔(10)

مِنگ شہنشاہ کی طرف سے مسلمانوں کو امان

مِنگ خاندان کے بانی عزت مآب Hongwuکی اولاد اور آنے والی  تین صدیوں تک مسندِ حکمرانی پر بیٹھے والے مِنگ  حکمرانوں نے مسلمانوں سے قرب و محبت کی پالیسی و جاری وساری رکھا۔ خصوصا آپ کے صاحبزادے Yongleنے اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے چینی مسلمانوں سے خصوصی شفقت و عنایت کا سلوک فرمایا ۔آپ کی طرف سے مسلمانوں کو تحریری امان  عطا کی گئی جس کے  الفاظ FuzhouاورQuanzhouکی مساجد میں صدیوں تک آویزاں رہے ۔ اس امان میں تحریر تھا کہ:۔

میں آپ لوگوں کی رہائشوں اور گھروں کی حفاظت کا شاہی فرمان جاری کرتا ہوں۔عام شہری ہوں، سرکاری حکام یا میری فوج کوئی  شخص آپ لوگوں کو تکلیف نہ پہنچائے۔ نہ آپ لوگوں سے جارحیت سے پیش آئے ۔ آپ لوگوں کو رنج اور تکلیف پہنچانے والا میرے احکام کا نافرمان اور  مجرم تصور ہوگا نیزسزا کا مستحق ٹھہرے گا۔(11)

شہنشاہِ چین کی سو لفظوں کی نعت

مِنگ عہد کے بانی عزت مآب Hongwuکے مسلمانوں سے خصوصی حُسنِ سلوک ، چین کے طول وعرض میں مساجد کی تعمیر، دربارہ شاہی میں مسلمان جر نیلوں کے اثر ورسوخ سے ظاہر ہے کہ آپ  کے قلب ورح اسلام سے متاثر تھے۔ نہ صرف یہ کہ آپ اسلام کی طرف میلان رکھتے اور قرآن کریم کے پیغام سے متاثر تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کے عشق ومحبت میں سرشار تھے۔ آپ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نعت رقم فرمائی ۔یہ نعتِ رسول ﷺ اس بات کی غماز ہے کہ آپ پر اسلام  کی حقیقت منکشف ہوچکی تھی اور آپ  ولیوں اور درویشوں کی طرح رسولﷺ کے مقام و مرتبہ سے آشنا ہوچکے تھے ۔ سو  الفاظ پر مشتمل یہ نعت چینی زبان میں 百字讃یعنی bǎizìzànکہلاتی ہے  جس کا لفظی ترجمہ ہے سو لفظوںکی نعت۔25مصرعوں پر مشتمل اس نعت کا ہر مصرعہ 4چینی الفاظ پر مشتمل ہے ۔ چینی چونکہ تصویری زبان ہے لہذا ہر لفظ نہایت گہرے  رموز ومعانی پر مشتمل ہے ۔اس پاکیزہ نعت کے ذریعہ سو الفاظ میں اسلام اور رسول اللہ ﷺکانہایت جامع تعارف شاہِ چین کے علم وعرفان اور سعید فطرت کا مظہر ہے ۔ یہ نعت درج ذیل ہے:۔

乾坤初始

天籍注名

傳教大聖

降生西域

授受天經

三十部册

普化衆生

億兆君師

萬聖領袖

協助天運

保庇國民

五時祈祐

默祝太平

存心真主

加志窮民

拯救患難

洞徶幽冥

超拔靈魂

脱離罪業

仁覆天下

道冠古今

降邪歸一

教名清真

穆罕默德

至聖貴人

穆罕默德

چینی زبان کے الفاظ اپنے اندر علوم ومعانی کا جہان رکھتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک لفظ ہی جملہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذااس نعتیہ کلام کواردو زبان میں ڈھالنا ایک کٹھن چیلنج تھا ،لیکن   نہایت عاجزانہ کوشش کی گئی ہے کہ  آسان فہم انداز میں اصل متن کے قریب تر رہتے ہوئے نعت کا منظوم  ترجمہ کیا جائے ۔چینی زبان کی فصاحت وبلاغت اور کم از کم الفاظ میں پیغام  پہنچانے کی صلاحیت نعت کے ان سو الفاظ سے خوب عیاں ہے ۔چینی زبان میں بیان فرمودہ علوم ومعانی کے جہان کواردو زبان میں منظوم صورت میں ڈھالنے کے لئے بعض جگہ شعری ضرورت کے تحت بامحاورہ انداز اختیار کیا گیا ہے ۔نیزاس نعت کے انداز اور ترتیب سے ظاہر ہے کہ عزت مآب Hongwuنے ایک پہیلی کے رنگ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو چینی قوم پر آشکار فرمایا ہے۔ لہذا ترجمہ کرتے ہوئے  اکثر مقامات پر’’تھے‘‘ کے الفاظ میں ماضی کا صیغہ کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس نعتِ مبارکہ کا پہیلی کا اسلوب بھی برقرار رہے ۔

جب سے ہے تکوین ِعالم کا وجود وسلسلہ

آپ کا اسمِ مبارک محورِ ارض وسماء

آپ تھے ایمان وحکمت کے امام  وپیشوا

چین کا مغرب تھامولد اور مسکن آپ کا

اک صحیفہ  آسمانی آپ کو رب سے ملا

تیس پاروں میں رقم ہے یہ خزینة الہدی

آپ تھے انسانیت کے راہبر اور رہنما

آپ تھے سب بادشاہوں سے بھی افضل بادشاہ

آپ کو حاصل رہی ہے نصرتِ ربّ الوریٰ

آپ امت کے نگہباں،دردمندوں کی شفاء

بارگاہِ ایزدی میں بے قرار وغمزدہ

امن و راحت کے لئےتھی پانچ وقتوں کی دعا

آپ تھے روحانیت کے بادشاہ و پیشوا

آپ کمزوروں کے والی ،آپ تھے حاجت روا

آپ تھے بے خانماؤں، بے کسوں کےآسرا

آپ پر اس کی عطا سے غیب کا در بھی کھُلا

آپ تھے ہر پاک فطرت کے لئے جائے پناہ

رحمتِ عالم مقام و مرتبہ تھا آپ کا

آپ کی راہ ہے  گزشتہ اصفیا ء کا نقشِ پا

آپ کی آمد سے ہی توحید کا ڈنکا بجا

آپ کا مذہب ہے برحق اور رہِ صدق وصفا

آپ کا اسم مبارک ہے محمد مصطفی

یونیورسٹی آف کیلفورنیا کے شعبہ مذہبی علوم کے محقق Brendan Newlon  اس نعت پر اپنے تحقیقی مقالہ میں عزت مآب شہنشاہ کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔

’’ چین میں مسلمانوں کے نفوذ اور کامیابیوں کی بڑی وجہ مِنگ عہد کے حکمران  کی مسلمانوں کے بارہ میں پالیسیاں اور طرزعمل ہے۔ آپ اپنے ذاتی اور ریاستی دو نوں معاملات میں ہر طرف سے مسلمانوں میں گھرے ہوئے تھے ۔آپ کے سپہ سالاروں میں Hu Dahai اورChang Yuchuجیسی شخصیات کٹر مسلمان تھیں۔اسی طرح چینی مسلم تاریخ کے مطابق ان کی اہلیہ Empress Maبھی مسلمان تھیں۔(12)

اس  نعت کے بارہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے راقمطراز ہیں کہ:۔his poem has indisputably been written in the authorial tone of a believer.یعنی یہ نعت اس طرز پہ لکھی گئی ہے جیسے کوئی ایمان لانے والا شخص لکھتا ہے۔نیز نعت کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔

’’ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدح میں لکھی گئی یہ نعت چینی زبان میں اسلام کی تبلیغ کے سب سے قدیم ترین لٹریچر میں سے ایک ہے ۔نہ صرف یہ کہ یہ نعت چینی زبان میں لکھی گئی بلکہ  چین کی روایتی اور کلاسیکی شاعری کے انداز میں لکھی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اس میں جن الفاظ اور محاوروں کا استعمال کیا گیا ہے وہ اپنے اپنی اندر معانی کی کئی جہات اور گہرائی رکھتے ہیں  اور اس زمانے کے چینی فلسفہ اور سیاق و سباق پر مشتمل ہیں۔‘‘(12)

یہ نعت علوم ومعرفت کا مجموعہ ایک ایسا پیغام ہے جس کے لفظ لفظ میں نہایت عمیق اور گہرے معانی پوشیدہ ہیں۔  کیلیفورینا یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی علوم کے مذکورہ بالا محقق نے اس نعت کی تفسیر اور تشریح پر ایک نہایت جامع مقالہ تحریر فرمایا ہے ۔ اس مقالہ کا اختتام ان الفاظ سے ہوتا ہے:۔

Whether or not Emperor Zhu Yuanzhang(Hongwu) intended to declare himself to be Muslim by glossing the Islamic testification of faith in the final lines of his poem praising the Prophet remains a matter of minor literary and historical debate, but the central message

of his poem is clear: “Muhammad is the noblest sage  (12).”

یعنی اس کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہےکہ شہنشاہ  Hongwuنے اپنے منظوم کلام کے آخری اشعار میں آنحضور کی مدح کرتے ہوئے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے یا نہیں ۔ یا پھر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنا چاہا ہے یا نہیں کیونکہ یہ آج تک ادبی اورتاریخی لحاظ سے کسی حد تک بحث طلب ہے ۔لیکن ان کی نظم کا مرکزی خیال بہت واضح ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی شان سب سے بلند اور ارفع ہے۔

Advertisements
merkit.pk

حوالہ جات

1 The preaching of Islam;a history of the propagation of the Muslim faith page 248
2 Ravished by Oranges by Simon Leys page 8
3 Firearms: a global history to 1700 by Kenneth Warren Chase page 42
4 Peking: temples and city life,1400-1900 by Susan Naquin, University of California Press page 214
5 Cheng Ho`s Expeditions by Liao page 254~256
6 Xi`an Daxuexi Alley Mosque: Historical and Architectural Study by H.Hagras Muhammad
7 The preaching of Islam;a history of the propagation of the Muslim faith page 249
8 The mandate of heaven and the Great Ming Code Volume 21 of Asian Law series page 241
9 Cheng Ho and Islam in Southeast Asia by Tan Ta Sen page 170
10 The Integration of Religious Minorities in China: The Case of Chinese Muslims by Donald Daniel Leslie page 14
11 The Integration of Religious Minorities in China: The Case of Chinese Muslims by Donald Daniel Leslie page 14
12 Praising the Prophet Muhammad in Chinese

A new translation and analysis of Emperor Zhu Yuanzhang’s Ode to the Prophet

by Brendan Newlon

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply