اللہ رحم کرے۔۔رؤف الحسن

SHOPPING
SHOPPING

ایسا نہیں ہے کہ میری موٹر سائیکل بہت زیادہ پرانی ہے، لیکن کچھ زیادہ نئی بھی نہیں ہے۔ مجھے یہ موٹر سائیکل میرے والد صاحب نے عنایت کی، اور انہیں ان کے والد یعنی میرے دادا مرحوم نے۔ دادا جان کو کہاں سے ملی اس بارے میں خاندان میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ غالب گمان یہی ہے کہ انہیں یہ محمد بوٹا نامی مستری سے اونے پونے داموں ملی تھی۔ یہ بات بھی خاندان میں مشہور ہے کہ دادا جان اور دادی جان صرف دو مرتبہ اس موٹر سائیکل پر سیر کے لیے گئے تھے۔ ایک مرتبہ جب یہ موٹر سائیکل گھر میں آئی تھی اور دوسری دفعہ جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ دونوں ہی مرتبہ مقام سیر ہرن مینار تھا۔ راجپوت ہونے کے ناطے خاندانی روایات کی عزت و احترام مجھے ورثے میں ملی ہے۔ چنانچہ اب جب بھی بیگم سیر پر جانے کا کہتی ہیں تو میں جواب دیتا ہوں کہ: “بیگم دعا کرو کہ یا تو ہم نئی سواری لے لیں یا پاکستان پھر کوئی ایٹمی دھماکہ کر دے”۔

اب دیکھیے کہ نئی سواری اور ایٹمی دھماکوں کی اس ریس میں کون فاتح ٹھہرتا ہے۔ اگرچہ میں علم نجوم پر کچھ زیادہ یقین تو نہیں رکھتا لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ایٹمی دھماکے پہلے ہو جائیں۔

میری موٹر سائیکل کو دیکھنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے زندگی میں کبھی موٹر سائیکل نامی چیز نہیں دیکھی ہوتی۔ اور دوسرے وہ جنہیں اس مشین سے واقفیت ہوتی ہے۔ اول الذکر لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے موجود یہ بے جان اور بے ضرر سی شے موٹرسائیکل    ہے، خاص مشکل پیش نہیں آتی۔ البتہ ثانی الذکر لوگوں کو یہ سمجھانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دوسری قسم کے لوگوں کو یقین نہیں آتا کہ یہ موٹرسائیکل ہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ذہن میں موجود موٹرسائیکل کا تصور پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اور جب انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونے لگتا ہے تو ان کے منہ سے پہلا جملہ نکلتا ہے: “اللہ رحم کرے”۔۔

اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انسان اس کیفیت سے گزرے، اور اس کیفیت سے گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان مضبوط اعصاب کا  مالک ہو۔

آپ نے موٹرسائیکلوں کی بہت سی آوازیں سنی ہوں گی۔ تیز، بہت تیز، کان پھاڑتی ہوئی، چنگھاڑتی ہوئی، چیختی ہوئی، اور چلاتی ہوئی۔ اس معاملے میں بھی میری موٹرسائیکل کو انفرادیت حاصل ہے کہ اس کی آواز سب سے الگ ہے، سب سے جدا، اور سب سے مختلف۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس کی آواز شروع سے ہی ایسی نہ تھی بلکہ زمانے کے سرد و گرم سے گزرتے ہوئے اس کی طبیعت میں بھی سختی اور درشتی آ گئی۔ اب عالم یہ ہے کہ گلی سے لوگ گزر رہے ہوں اور ان کے پیچھے سے یہ موٹرسائیکل آ جائے تو جب تک وہ سر گھما کر پیچھے نہ دیکھ لیں، انہیں یہی گمان ہوتا ہے کہ روسی افواج نے ملک پر حملہ کر دیا ہے اور روسی ساختہ ہیلی کاپٹر ان کے سروں پر آن پہنچے ہیں۔ اور جب انہیں دو گھومتے ہوئے پہیوں والی مشین اور اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے شخص کو دیکھ کر یقین آ ہی جاتا ہے کہ یہ واقعتاً ہی موٹر سائیکل ہے تو ان کے منہ سے بھی یہی نکلتا ہے کہ: “اللہ رحم کرے”

یہ بھی میری موٹرسائیکل کی خصوصیت ہے کہ اس میں ہارن کے علاوہ ہر چیز بجتی ہے۔ ویسے بھی اگر آپ اس موٹرسائیکل پر جا رہے ہوں تو آپ کو ہارن کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ وہ یوں کہ آگے جانے والے خود ہی راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ وہ ایسا احتراما ًکرتے ہیں یا حفط ما تقدم کے طور پر۔ ایک دفعہ یوں بھی ہوا کہ میں سگنل کھلنے کا انتظار کر رہا تھا تو ایک مانگنے والی عورت آئی۔ میں نے اسے کہا اللہ بھلا کرے تو اس نے میری موٹرسائیکل کو دیکھتے ہوئے جواباً کہا کہ: “اللہ رحم کرے”۔

SHOPPING

آخری واقعہ جو اس موٹرسائیکل سے متعلق میری یادداشت میں ہے، وہ چند مہینے پرانا ہے۔ میں ایک سنہری دوپہر میں فیروزپور روڈ پر مجبوراً 40 کی رفتار پر جا رہا تھا۔ (مجبوراً اس لیے کے 40 سے اوپر جانے پر موٹر سائیکل کا انجن گرم ہو کر بند ہو جاتا تھا) تب ہی اچانک مجھے احساس ہونے لگا کہ اگلا ٹائر سیدھا گھومنے کے ساتھ ساتھ دائیں-بائیں بھی گھوم رہا ہے۔ یہ خیال اس وقت شدت اختیار کر گیا جب میں اچانک ہی تیسری سے دوسری اور پھر دوسری سے تیسری لین میں آ گیا۔
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔آنکھ کھلی تو میں ہسپتال کے بستر پر پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ ماں کا ہاتھ میرے ماتھے پر تھا۔ میری کھلتی آنکھوں کو دیکھ کر ماں نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ: “اللہ رحم کرے”

SHOPPING

Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *