حامدمیرکوگرفتارکرو ،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

حامد_میر_کو_گرفتار_کرو ٹریٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کے بعد حامد میر نے ایک احتجاجی مظاہرے میں حساس اداروں پر کڑی تنقید کی

حامد میر کی جانب سے تنقید کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، صارفین نے حامد میر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا،#حامد_میر_کو_گرفتار_کرو اور اریسٹ حامد میر اس وقت دونوں ٹرینڈ ٹاپ پر ہیں

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ایک صارف کا کہنا تھا کہ جو بھی بندہ ملک پاکستان سے پیار کرتا ہے۔ اسکو چاہیے کہ حامد میر کا بائیکاٹ کیا جائے۔ وزارت داخلہ کو چاہیے اسکو گرفتار کیا جائے۔ چھتر مارے جائیں

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ میں حسن راجہ پیمرا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ریاست مخالف زہر اگلنے اور بہتان لگانے کی وجہ سے حامد میر کا شو ہمیشہ کیلئے بند کیا جائے، قوم کسی بھی نمک حرام کو سننے کیلئے تیار نہیں

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ہم اپنے سیکورٹی ادروں اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں کوٸی بھی ضمیر فروش جرات نہیں کر سکتا ریاست کو للکارنے کا قدم بڑھاؤ اور ان جیسے غداروں کے سر کچل دو

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ دشمن نے صحافیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اب عام عوام نے ان صحافیوں کو بے نقاب کرنا ہے دشمن بیانئے کو فروغ دینے کے جرم میں ہم سب کا ایک ہی مطالبہ کہ جلد سے جلد #ArrestHamidMir #حامد_میر_کو_گرفتار_کرو

 

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ جب ایک طوائف کی عمر ڈھل جاتی ہے اور اس کو گاہک نہیں ملتے تو وہ سڑک پر آکر ہنگامہ کرتی ہے۔ لفافے بند

Advertisements
julia rana solicitors

 

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ حامد میر اور اس کے حواریوں کو کو فوری گرفتار کر کے ان کے اثاثے منجمد کر کے اعلی سطحی کمیشن بٹھایا جائے اور اس گینگ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔اگر متفق ہیں تو اس ہیش ٹیگ کو استعمال کر کے اظہار کریں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply