زورآور لوگ۔۔۔ محمود اصغر چوہدری

دنیا بھر میں ایسے محکمے جن کا تعلق برائے راست عوام سے ہو۔وہاں دفاتر کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ جنہیں کوڈ آف کنڈکٹ کہا جاتا ہے ۔ ان میں جس اصول کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اسے انگریزی میں کونفیڈنشیلٹی کا اصول کہتے ہیں ۔ اس اصول کے مطابق اگرآپ اپنا نام پتہ وغیرہ اس دفتر میں کام کرنے والے اہلکارکو فراہم کرتے ہیں تو وہ اہلکار آپ کی معلومات کا امین بن جاتا ہے اور وہ آپ کا بائیوڈیٹا اس دفتر سے متعلقہ معاملات کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتا ۔ کوڈ آف کنڈکٹ کو مغربی ممالک میں بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یورپ میں ایسے پولیس والے بھی اس قانون کے رگڑے میں آئے ہیں جن پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے کسی حادثے کے بعد متعلقہ شہری کی معلومات کسی ایکسیڈینٹ کلیم والی کمپنی کو دے دی تھیں ۔امریکہ و یورپ میں میڈیکل کے شعبے میں سوشل میڈیا اور اپنے مریضوں سے دیگر رابطوں کے حوالے سے بھی سخت کوڈ آف کنڈکٹ ہیں ۔ میڈیکل کا شعبہ خاص طور پر بڑا حساس ہے ۔ کیونکہ اس میں مریض کی انفارمیشن بیماری کے حوالے سے ہوتی ہیں تو ان کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرنا مریض کی پرائیویسی کے بالکل خلاف ہے ۔

پاکستان میں چند روز پہلے ایک واقعہ نے پورے سوشل میڈیا میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک خاتون مریضہ آغا خان ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں علاج کے لئے گئیں، ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر نے دو گھنٹے کے اندر اندر مریضہ کی جانب سے دی گئی معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے فیس بک پرتلاش کر لیا اور اسے فوراً فرینڈ ریکویسٹ بھی بھیج دی۔ یقینا ڈاکٹر کا یہ طریقہ کار انتہائی غیر مناسب تھا ۔ ڈاکٹر جن معلومات کا امین تھا اس نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان معلومات سے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ ڈاکٹر کی بد قسمتی کہ وہ مریضہ عالمی شہرت یافتہ شرمین عبید چنائے کی بہن تھی ۔ شرمین عبید چنائے ایک پاکستانی دستاویزی فلم ساز ہیں جنہیں ان کی بہترین فلموں کی بنا پر آسکر ایوارڈمل چکا ہے ۔شرمین عبید چنائے اس ڈاکٹر کی شکایت ہسپتال انتظامیہ سے کر سکتی تھی لیکن چونکہ وہ عالمی شہرت کا مزا چکھ چکی ہیں۔ انہیں وزیر اعظم پاکستان وزیر اعظم ہاﺅس میں خصوصی ڈنر دے چکے ہیں پاکستان میں خواتین کی حالت زار کے لئے ان کی تجاویز پر عمل کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں اور پوری دنیا میں انہیں پذیرائی مل چکی ہے اس لئے ان کے ذہن میں”خیال” آگیا کہ وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہیں۔

ہمارے لوگو ں کو زیادہ عزت اور زیادہ شہرت یہ جتاتی رہتی ہے کہ اب انہیں دوسرے پاکستانیوں کو احساس دلاتے رہنا چاہیے کہ وہ کم حیثیت ہیں اس لئے شرمین عبید چنائے نے بالکل یہی رویہ اپنا یا۔ اس نے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ” ڈاکٹر نہیں جانتا کہ ا س نے کس خاندان کی لڑکی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی ہے “ محترمہ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی اصطلاح لانچ کی کہ ان کی بہن کو” ہراساں “کیا گیا ہے اور وہ بضد ہیں کہ ساری دنیا ان کی یہ بات مانے کہ فیس بک پر کسی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے ۔ حالانکہ ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ فیس بک پرفرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہر صارف کے پاس ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ آپ کسی کو بلاک بھی کر سکتے ہیں ا سکے بعد متعلقہ صارف آپ کو بالکل فرینڈ ریکویسٹ بھیج ہی نہیں سکتا، خیر محترمہ نے پوری دنیا میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور اطلاعات ہیں کہ اس ڈاکٹر کو اس کی نوکری سے نکلوا بھی دیا ہے ۔

ہسپتال انتظامیہ نے اگر تو کوئی کوڈ آف کنڈکٹ بنایا ہوا تھا جس میں سوشل میڈیا کے حوالے سے کوئی کلاز تھا تو اس صورت میں اس کی نوکری ختم گئی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اگر صرف اس بنا پر اسے کام سے نکال دیا گیا ہے کہ شرمین عبید چنائے کی فیملی واقعی ہی بااثر ہے اور شرمین جو متکبرانہ بیانات سوشل میڈیا پر دیتی رہیں تو یہ واقعی قابل مذمت بات ہے ۔ پاکستان کا ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہونا چاہیے اور اس میں ایسے بیانات دینے والو ں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے یہ ملک صرف اشرافیہ کے لئے نہیں ہے ۔

دوسری جانب مجھے حیرت ہورہی ہے ان لوگوں پر جو اس ڈاکٹر کے عمل کو جواز فراہم کر رہے ہیں ۔وہ چار بچوں کا باپ ہے اس کی نوکری چلی گئی وغیرہ وغیرہ ۔ تو کیا چار بچوں کے باپ کو اس کی نوکری کی تنخواہ اس لئے ملتی ہے کہ وہ ہسپتال میں آنے والی خواتین مریضاﺅں سے دوستیاں بناتا رہے ۔اپنے اختیارات کا استعمال دونوں جانب سے غلط ہوا ہے ،اس ڈاکٹر کی جانب سے بھی جس نے ایک مریضہ کی دی گئی معلومات کو اپنے ذاتی کام کے لئے استعمال کیا اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین کی جانب سے بھی جو ایک ڈاکٹر کے فعل پر پورے پاکستان کو مطعون کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پر لکھتی ہیں کہ” پاکستان میں کوئی حد نہیں “اس واقعہ کو یہی روکتے ہیں او ر ایک دوسری خبر دیکھتے ہیں

پی ٹی آئی کے اہم راہنما شاہ محمود قریشی کے بھائی مرید حسین قریشی ایک گدی نشین پیر  ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں بھرے مجمعے میں اپنے ایک مرید کو ساری دنیا کے کیمروں کے سامنے تھپڑوں سے پیٹنا شروع کردیا۔ مرید معافی مانگتے ہوئے قدموں میں گرا تو انہیں ٹھڈوں سے مارنا شروع کردیا ۔مرید کا قصور صرف اتنا تھا کہ پیر صاحب نے ایک مزار کو غسل دینا تھا لیکن مرید نے یہ کہہ کر غسل کا سامان مہیا کرنے سے انکار کیا کہ پیر شاہ محمو د قریشی کو بھی آلینے دیں ۔ مرید کی پٹائی کو ساری دنیا نے دیکھا ۔ آج کے دور میں انسانیت کی اس سے زیادہ تذلیل اور کیا ہوگی ۔ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پیر صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے موقع پر ہی احتساب کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل قانون پر نہیں چھوڑ اجا سکتا تھاکیونکہ قانون بہت دیر لگا دیتا ہے۔ ایک تیسرا واقعہ یہ ہوا ہے کہ کچھ “خاص” نامعلوم افراد نے پاکستانی صحافی احمد نورانی کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ یہ صحافی ان کے مزاج کے خلاف صحافت کرتا تھا ۔ حیرت ہے کہ جن کا کام صحافت ہے انہیں بھی پتہ نہیں یہ نا معلوم افراد کون ہیں؟ اگر پتہ ہے تو وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کا نام نہیں لیا جا سکتا۔

یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک ہی اصول رائج ہے جس کے لاٹھی اس کی بھینس۔ہمارے ملک میں ہر طاقتور کے ذہن میں طالبانی سوچ پرورش پاچکی ہے ۔ اس کا خیا ل ہے کہ چونکہ اس کے پاس طاقت ہے تو اسے کسی اصول ، کسی ضابطے ، کسی قاعدے اورکسی قانون کوخاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے ۔چاہے وہ مرید حسین کی طرح کا مذہبی پیشوا ہوجو اپنی بات نہ ماننے والا کوخود سزا دے سکتا ہے ۔چاہے وہ کوئی بائیں بازو کی انسانی حقوق کی علمبردار شرمین عبید چنائے ہو جو اپنی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے کسی ایک ڈاکٹر کی غلطی کی سزا پورے ملک کو دے دے ۔چاہے وہ کوئی خاص نامعلوم طاقتیں ہوں جو اپنے نا پسندیدہ صحافی کو خاموش کرا سکتی ہیں ۔ ہمارے ملک میں اصل چیز ہے طاقت ۔ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کا غلط بھی صحیح ہے کوئی آپ کو روکنے والا نہیں ہمارے ملک میں ہر طاقتوراپنے اپنے دائرہ کار کے اندر ایک فرعون ہے، اس کے لئے نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی اصول ۔ کسی پنجابی شاعر کا کہنا

دنیا منندی زوراں نوں۔۔۔۔۔۔ تے سب گھاٹے کمزوراں نوں

دنیا طاقت کو مانتی ہے ۔۔ اور کمزور کے لئے تو گھاٹا ہی ہے

 

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *