استاد امر جلیل اور انکے ” خدا کی گمشدگی”۔۔احمد شیر رانجھا

19 ویں صدی کے نامور جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے “Nietzsche” نے رومن کیتھولک عیسائیت اور اسکی استحصالی “کلیسائی پاپائیت” سے شدید متاثرہ خدا کی ذات کے تصور پر اس خدا کی ہجو میں اپنی مشہور زمانہ کتاب Thus Spoke Zartashtra لکھی لیکن اسکا جو حشر ہمارے سندھی دانشور استاد امرجلیل تک پہنچتے پہنچتے یہاں پاکستان میں ہوا ،اسکی مثال ملنا مشکل ہے، کہ نہ تو ایسے دلچسپ فکری چربے کہیں اور پائے جاتے ہیں اور نہ ہی ایسی قابل رحم انٹیلیکچوئل احساس کمتری کا وجود کہیں اور مل سکتا ہے۔۔

لیکن بہرحال اس سلسلے میں جناب امرجلیل کی حال ہی میں پیش کردہ ” خدا کی گمشدگی” نامی خاص افسانوی پیشکش غنیمت بھی ہے کہ ہمیں اپنی پامال اندرونی صورتحال کو سمجھنے اور پرکھنے کا موقع  فراہم کرتی ہے اور ہم، مشہور برطانوی مصنف ایلڈوئیس ہکسلے کے معروف ادبی کردار ” ڈورئین گرے” کے بقول اس آیئنے میں اپنا بگڑا ہوا اصل چہرہ بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔۔

tripako tours pakistan

امرجلیل نے دراصل عجب  فنکارانہ چابکدستی سے نطشے کی کتاب میں گونجتی نطشے کی “خدا کی موت” نامی”قلندرانہ پکار” سے ہی اپنی بات اٹھائی۔

وہی لہجہ، وہی “مجذوبانہ شان” اختیار کرنے کی اپنی سی کوشش، وہی کتاب کے پُراسرار دیومالوی ہیرو کی طرح بھرے مجمعے میں، “خدا کی موت” کے اعلان کی سی سرفروشانہ جسارت۔۔سب کچھ وہی۔۔نطشے کا ہی خاص قلندری سکرپٹ۔۔مگر یہ اور بات کہ استاد نے عجب ہوشیاری سے، شاید اپنی جان بچا لینے کو، اتنا فرق ضرور رکھا کہ نطشے کی طرح “خدا کی موت” کے مشہور زمانہ برملا اعلان سے صاف کنی کترا گئے اور معاملے کو “خدا کی گمشدگی” تک محدود رکھتے ہوئے اپنا آلو روسٹ کیا۔

مگر چونکہ مال دو نمبر تھا، شان حق میں “بدتمیزی” کی ڈھیر ساری “امپورٹڈ” بدبو بھی جابجا چھوڑتا جاتا تھا، ایکدم اجنبی اور غیر سا بھی، تو خدا پرستوں کی طرف سے فی الفور دھر لئے گئے۔گالم گلوچ کے علاوہ چند سیانوں نے سوشل میڈیا پر جابجا انکے مذکورہ افسانچے کے مقابل نطشے کی اصل تحریر کے مطلوبہ اردو ترجمے لگا لگا کر ان کو سل پتھر کیا۔۔ہکسلے کے آیئنے میں انکا چہرہ پورا کھول کر سب کو دکھایا۔

ویسے سچ پوچھیں تو بدیس سے ہتھیائے “پوسٹ ماڈرنسٹ” لکھتی سٹائل، جس کا استعمال استاد عجب   سے ایک مدت سے اپنے افسانوں، کہانیوں اور کالموں وغیرہ میں بڑےطمطرااق سے کرتے چلے آئے ہیں عام آدمی کی چیز ہی نہیں اور ماسوائے ایک محدود انگریزی دان مقامی ادبی اشرافیائی طبقے کے کسی کی سمجھ سے ہی بالاتر ہے۔

عوامی سطح پر اس خالص چربہ اور غیر روائتی لکھت کا ابھی یہاں کوئی سچا قاری ہی پیدا نہیں ہوا کہ جیسا فریڈرک نطشے اور دیگر مغربی لکھاریوں اور پینٹروں کو اپنے ہاں، اپنے اپنے وقت پر دستیاب تھا اور جسکی وہاں پر موجود عوامی پذیرائی نے ہی بالآخر اسے ایک نئے طاقتور رمزیہ  انداز  کی حیثیت سے منوا کر اسے وہاں کی “مین سٹریم” ادبی روایت کا حصہ بنوا ڈالا۔

مگر ادھر ہمارے جدت مارے، خیرہ نظر، لکھاری اور دانشور کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس نے یونہی بیٹھے بٹھائے ” بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” کے مصداق اس دور دیس کی مخصوص آرٹسٹک واردات کو ایک تبرک سمجھ کر یوں گلے لگایا کہ جیسے یہاں بھی، راتوں رات، یورپ کے صنعتی انقلاب کی طرح کی کوئی بے رحم کارپوریٹ معاشرت پیدا ہو گئی ہو کہ جس کی اندھی کوکھ کے اندر سے دو عالمی جنگوں کی تباہ کاری کے عفریت نے وہاں کے حساس لکھاری اور فنکار کو اندر سے کچھ یوں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہو کہ لامعنویت، nihilism اور خود اپنے آپ سے بیگانگی کی بنیادیں خود بخود ہی استوار ہوتی چلی گئی ہوں اور بالآخر ایک بگڑے ہوئے، دانت پیستے، پکاسو یا پھر ٹی ایس ایلیٹ نے اننا”فنا” ہر سیدھی ” ریلیسٹ” realist لائن اور rhyme اور سابقہ “کلاسیک” کو توڑ پھوڑ کر ایک نئے لہجے اور لہن میں بدل ڈالا ہو۔۔( یہ بحث بہت نازک اور وقت طلب ہے پھر کبھی)

یہاں تو کچھ بھی نہ بدلا تھا، وہی پرانا گاؤں اور پنگھٹ پر گیت گاتی “رادھیکا”۔۔وہی اپنا برھمن اور اسکا خون تھوکتا شودر۔۔وہی خلیل خان اور اسکی پیاری اڑتی فاختہ۔۔
ابھی تو غالب و پریم چند کے بعد فیض اور قرتہ العین حیدر اور استاد اللہ بخش و چغتائی نے ہمارے قاری کا ہاتھ، بڑے پیار سے، اپنی روایت کی نرمی کے اندر گرم و نرم رکھ کر، دھیرے دھیرے سے اسے مغرب کی نئی جدت اور طرز کیطرف لانا تھا کہ میرا جی نے اپنا باولا لٹھ اسکے سر پر دے مارا۔۔اور پھر تو بس چل سو چل۔۔

60 کی دہائی سے آگے چل کر تو یہاں میرا جی ہی میرا جی تھی۔۔یہاں کا ہر ن م راشد، ڈاکٹر  انور سجاد اور انیس ناگی یا تو کوئی سلواڈور ڈالی تھا یا پھر ٹی ایس ایلیٹ و جیمز جوائس اور یا پھر سارتر و بودلیئر۔۔اس سے کم پر تو کسی کی لکھت ہی نہ تھی۔۔مقامی روایت اور ہمارے اچھے بھلے چلتے شاندار ادبی تسلسل کو ناک سکوڑ کر ” روائتی اور ہلکا” قرار دے کر لامعنویت کی امپورٹڈ دیوار میں چن ڈالا گیا۔۔ہمارا حیران و پریشاں قاری بیچ منجدھار ایسا پھنسا کہ پھر نہ نکلا۔۔

“جدیدیت” اور پھر آگے چلکر”مابعد جدیدیت” کی لامعنی و لایعنی اردو افتاد نے بس اسکی پھرکی گھما کر رکھدی۔۔

کیونکہ نہ تو اس بیچارے کے ہاں وہ مخصوص حالات و حادثات موجود تھے کہ جن کے اوپر بیان کردہ جبر کے اندر سے فریڈرک نطشے جیسے مستوار اور کارل مارکس، فرائیڈ، پکاسو، ٹی ایس ایلیٹ اور جیمز جوائس جیسے ناگزیر اور دردمند روایت شکن پیدا ہو جاتے اور ہمارا بدقسمت قاری اس نئے لفظ اور لائن کو پکڑ پاتا۔۔یہاں تو بیٹھے بٹھائے ایک ناگہانی افتاد اسکے سر آ پڑی تھی۔۔

کیا کھلواڑ تھا کہ ہمارے ہاں موجود انتہائی توانا اور خوبصورت ادبی روایت اور شاہ رگ سے بھی قریب ایک بیکراں و مہرباں خدا کی یکتا و منفرد قرآنی صورت کو مغرب سے درامدہ ٹھنڈی ٹھار بے حسی اور ادبی سنگ پاشی کے حوالے کر کے خود کو پہلے ماڈرن اور پھر پوسٹ ماڈرن ثابت کر ڈالا گیا ۔۔

تو درحقیقت، استاد امر جلیل بھی اسی خاص الخاص یورپیئن شجر معرفت کی ایک شاخ ہے جو خود پر کسی مشرقی مجذوب اور “قلندر” کا خول چڑھا کر اپنا بدیسی گوگا نیش کرتا ہے اور بس۔۔
مگر شاید کسی کو یہ یاد نہیں کہ فڑیڈرک نطشے، جسے اقبال نے ” وہ مجذوب فرنگی” کے لقب سے پکارا، اپنے درد میں ڈوبا وہ سچا “عاشق و مجذوب” تھا کہ جو بالاخر سچ معنوں میں ہی پاگل ہو کر اپنے حق سچ تک پہنچا اور اسی بہر بیکراں میں ڈوبا اس دنیا سے رخصت ہوا۔۔۔۔۔مگر پتہ نہیں کیوں مجھے پورا یقین ہے کہ اپنے استاد امر جلیل کو کچھ بھی نہیں ہو گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *