کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط8

میں استاذی منشی تلوک چند محروم سے ملنے کے لیے دوسرے دن وقت سے پہلے ہی پہنچ گیا۔ ابھی کوئی کلاس پڑھا رہے تھے۔ چپڑاسی کواب میری آمد شاید قبول تھی کہ وہ مجھے ان کا بھتیجا یا بھانجا سمجھ رہا تھا جو پڑھنے کے لیے اُن کے پاس آیا کرتا تھا۔اُس نے محروم صاحب کی کرسی کے پاس ہی لان میں میرے لیے دوسری کرسی رکھ دی۔ میں بیٹھ گیا اور اپنی کاپی کھول کر وہ سب اشعار دوبارہ دیکھنے لگا جن میں امرد پرستی کا مضمون مختلف اردو شعرا نے باندھا تھا۔ گذشتہ رات دیر تک میں یہی کام کرتا رہا تھا اور پرانی کتابوں سے جو میں عارفؔ صاحب سے مانگ لایا تھا، ایسے اشعار تلاش کرتا رہا تھا، جن میں ’سبزہئ خط‘ وغیرہ کا ذکر اس مناسبت سے پڑھنے والے کو دُور سے ہی للکار کر بتا دیتا تھا کہ یہ ذکر کسی خاتون کے بارے میں نہیں، کم عمر لڑکے کے بارے میں ہے۔
 یہ اس قسم کے اشعار تھے
خط کو روئے یار پر نشوو نما ہوتا نہیں
سبزہ ء  بیگانہ گل سے آشنا ہوتا نہیں!

استعارہ توآسان فہم تھا۔ یعنی معشوق کے رخسار پھول کی طرح تھے اور ان پر خط یعنی داڑھی کی روئیدگی نا پسندیدہ تھی۔ اس قسم کے سوقیانہ اشعار بھی تھے۔
اسدؔ خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے
کہا جو اس نے مرے پاؤں ذرا داب تو دے!

ظاہر ہے کہ کوئی معشوقہ کسی عاشق سے یہ فرمائش کیسے کرے گی۔ ہاں، اگر معشوق صنف ِ نازک نہیں ہے بلکہ ایک لڑکا ہے تو ناز و نخرے سے اُسے یہ حکم دینے میں کوئی عار نہیں ہو گا۔یا پھر استعاروں کی لیپا پوتی کے بغیر اس قسم کے اشعار تھے:
میر ؔ کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں!

یا سودا ؔ کی ہجویات میں سے اس قسم کے اشعار بھی تھے جو وہ اکثر و بیشتر اپنے نوکر مسّمی ’غنچہ‘ (جو ایک خواجہ سرا تھا) کو بلا کر فی البدیہہ کہنے کے بعد لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ حکایت تھی کہ کسی لڑکے کے اُن کو دھّتا بتا کر اور ہاتھ چھُڑا کر چلے جانے کے بعدان کی طبع ِ ِ کرخت سے یہ شعر خلق ہوا تھا۔
تین سو تیلی، تنبولی، چار سو چوہڑے، چمار
اک ہجوم ِ عاشقاں ہے اُس کے گھر کے سامنے!

یا لگی لپٹی رکھے بغیر یہ شعر بھی تھا جواُس عظیم صوفی شاعر امیر خسرو کے نام منسوب ہے، جو جامع مسجد دلی میں اپنے پیر و مرشد کی بغل میں اپنی ابدی نیند سو رہا ہے۔
لڑکے براہمنوں کے ہندوستاں میں دیکھے
پیشانیوں پہ چندن، گالوں پہ لالیاں ہیں!
میں اپنی کاپی کے صفحات کو کئی بار الٹ پلٹ کر ان اشعار کوپڑھ چکا تھا، ہر بار طبیعت مکّدر ہو جاتی،حضور محروم صاحب کا وہ لفظ یاد آ جاتا، جو لواطت کے معنی ”لونڈے بازی“ بتانے کے بعد استغفر اللہ کہتے ہوئے رومال سے اپنا منہ پونچھنے لگے تھے اور مجھے جلدی سے نکل جانے کو کہتے ہوئے اندر غسل خانے میں شاید پانی کا کُلاکا کرنے کے لیے چلے گئے تھے تا کہ زبان پاک ہو جائے ۔

میں بیٹھا ہوا اپنی کاپی کے صفحات الٹ پلٹ رہا تھا کہ مجھے پتہ ہی نہ چلا، حضور محروم صاحب کب اندر سے آئے اور سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تک میری طرف دیکھتے رہے، پھر پوچھا، ”کیا ڈھونڈھ رہے ہو، ستیہ پال؟“
میں ہڑبڑا گیا۔ ”جی، جی، میں لوطیت کے بارے میں کچھ اردو کے اشعار لکھ کر لایا تھا …..“
خشمگیں نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولے، ”کس نے کہا تھا تمہیں یہ غلاظت کا ڈھیر الٹنے پلٹنے کے لیے؟ بند کر و یہ کاپی۔۔۔آج ہم اردو غزل کی اس روش کے بارے میں بات کریں گے جس میں ما سواء غم کے اور کچھ نہیں ہے۔“
”جی۔۔“ میں چست و چوبند ہو کر کرسی پر سمٹ کر بیٹھ گیا۔

فرمایا۔ ”کل ہم نے اس موضوع پر بات کی تھی کہ شمالی، وسط ہندوستانی یعنی یو پی اور سی پی، یا اس کے ساتھ لگتے ہوئے علاقوں یعنی صوبہ بہار میں بسے ہوئے، خود کو عجمی اور عربی آباد کاروں کی اولا د تسلیم کرنے والے شاعر اپنے اس ورثے کو غزل میں بھی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ،لیکن یہ کامیابی اپنے ارد گرد کی زندگی سے منہ موڑ کر عرب کے ریگستانوں یا فارس کے مرغزاروں کی یاداشتوں پر، یعنی اپنے بزرگوں کے ماضی سے رشتہ جوڑ کر رہنے کی تھی۔“

میں سرعت سے نوٹس لے رہا تھا، لیکن اب وہ میری حاضری سے بھی بے نیاز تھے اور ایسے بول رہے تھے، جیسے کسی جلسے میں یا کلاس روم میں ایک لیکچر دے رہے ہوں۔
”یہاں تک تو کوئی برائی نہیں تھی… یعنی ایران یعنی فارس یعنی عجم کی شاعری لا مثال ہے۔شیخ سعدی سے لے کر انیسویں صدی تک ایک درجن کے قریب تو ایسے شعرا ہیں جن کا بدل دنیا کی شاعری میں ملنا مشکل ہے …. لیکن جب ہندوستان کے اردو شعرا نے ان کا تتبع کیا تو اُن مضامین کا بطور ِ خاص انتخاب کر لیا، جن میں ما سوا حزن و ملال کے اور کچھ نہیں تھا۔ محبوب کی یاد، اس کی بے وفائی، حیلہ کاری، ٹال مٹول، تو چلو، مان لیا، روز مرہ کی بات ہے۔ لیکن معشوق کی روباہ بازی کے علاوہ بھی جو مضمون منتخب کیے…..اور، ستیہ پال، جن سے اردو کی غزلیا ت کے نصف سے زیادہ اشعار عبارت ہیں، وہ یا تو اپنی افسردگی، سر گشتگی کے ہیں، یا زمانے کے ظلم و ستم کے۔ اگر ایک غزل میں سولہہ سترہ اشعار ہیں، تو جہنم، تصلیب، شہادت، نزع، جانکنی،سوگ، ماتم وغیرہ کے سات آٹھ اشعار ہوں گے….“

سانس لینے کو رک گئے۔ میں اس دوران میں جلدی جلدی، اپنے ذہن پر زور دے کر، یہ سارے الفاظ جو آج ساٹھ ستر برسوں کے بعد دوبارہ لکھ رہا ہوں، یاد کر کے کاپی بک میں لکھتا رہا۔ لیکن وہ شاید اب میری موجودگی سے بھی بے خبر تھے، کیونکہ جب ایک بار پھر بولنا شروع کیا، تو بولتے ہی گئے۔

”جی ہاں، یہ گویا اردو شعرا کا فرض ِ اولیں ہو گیا کہ کبیدگی، تکلیف اور آزردگی کے مضامین ہی سکہ ٗ رائج الوقت ہیں۔خوشی، آرام، آسودگی کھوٹے سکے سمجھے گئے۔ فرش ِ گل کا ذکر آیا ہے تو ساتھ کانٹوں کی سیج کی تشبیہہ کا بھی آنا ضروری ہے….اب چونکہ شاعری میں بات کو تشبیہات، علامات اور استعارات کے لبادے میں لپیٹ کر کہنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہی پرانی تشبیہیں جو فارسی شاعری کی تھیں، حرف بحرف نقل کر لی گئیں۔ اگر زندگی کے سفر کو بری سفر سمجھا گیا، تو مسافت، صحرا نوردی، دشت کے کانٹے، تشنگی، ہمسفروں کا ساتھ چھوٹ جانا، رہنماؤں کا غلط راستوں پر ڈال دینا، رہزنوں کا خوف، برہنہ پاؤں ہونا، کانٹے، پاؤں کے چھالے ….خدا جانے کیا کیا کچھ۔ یعنی یہ سوچے بغیر کہ یو پی، پنجاب، سی پی اور بہار میں کہاں ریگستان، یا جنگل، یا صحرا ہیں، جنہیں شاعروں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، فارسی کے شعرا کی دیکھا دیکھی، یہی غزلوں کے اشعار کی جھولی میں بطور بھیک یا تبرک ڈال کر اپنی تسلی کر لینا کہ انہوں نے اردو شاعر ہونے کا فرض بخوبی سر انجام دے دیا ….اور بحری سفر کا تو کچھ نہ پوچھو،! ان شعرا نے، جنہوں نے کبھی سمندر کی شکل تک نہ دیکھی تھی، بحر ذخّار، قلزم، آب ِشور، تنگنائے، آبنائے وغیرہ الفاظ استعمال کیے۔ بات تو انسانی زندگی کی تھی جسے سمندر کے سفر سے تشبیہہ دے کر اس کی مشکلات کو ایک شعری شکل و صورت میں تصویر بنا کر پیش کرنا تھا، لیکن چونکہ شعرا نے کبھی سمندر دیکھا تک نہیں تھا، اس لیے موج، تلاطم، سیلاب، ورطہ، مد و جزر، جہاز، کشتی، بادبان، طوفان، نا خدا، ساحل….او میرے خدا، کیا کیا الفاظ نہ برتے گئے، جو شعرا کے ذاتی تجربے میں کبھی نہیں آئے تھے….“
تھک گئے۔ چپراسی سے پانی منگوایا۔ کچھ دیر آرام کیا۔ پھر میری طرف کمال شفقت اور مہربانی کی نظر سے دیکھا۔ دستار (کلاہ اور اس پر بندھی ہوئی ریشمی لُنگی) اندر اسٹاف روم میں کھونٹی پر ٹنگی تھی۔ سر پر ہاتھ پھیرا، تو میں نے غور کیا کہ ان کا آدھا سر تو فارغ البال تھا، باقی بالوں میں بھی سپیدی کی جھلک تھی۔ استاذی کی عمر؟ میں نے سوچا…. ساٹھ سے تو کم ہی ہے۔ اسکول کی ہیڈ ماسٹری سے ریٹائر چھپّن (۶۵) برس کی عمر میں ہوئے، یہاں گورڈن کالج میں گذشتہ چار برسوں سے ہیں، تو ساٹھ کے ہی ہوئے۔ نہیں کیا؟
(جاری ہے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *