مسلمان،گونگی کتابیں پڑھنے والے لوگ۔۔اسد مفتی

شیخ سعدی نے کہا تھا”میں خدا سے ڈرتا ہوں،اور خدا کے بعد اُس شخص سے جو خدا سے نہیں ڈرتا”۔۔

اسی بات کو شیکسپئر نے اپنے انداز میں اس طرح کہا ہے”انسان ہی ایک ایسا جانور ہے جس سے میں بزدل کی طرح ڈرتا ہوں “۔

tripako tours pakistan

اس دنیا میں ہر چیز،ہر شئے ایک قابلِ پیشن گوئی کردار رکھتی ہے۔آگ کے بارے میں آپ پیشگی طور پر یہ اندازہ کرکستے ہیں کہ اگر آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تو وہ آپ کا ہاتھ جلا ڈالے گی۔اگر آپ اپنے ہاتھ کو اس سے دور رکھیں تو وہ ایسا نہیں کرے گی،کہ وہ اُچھل کر آپ کے ہاتھ پر آن گِرے۔
یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔۔حتیٰ کہ خونخوار اور موذی جانوروں کے بارے میں بھی ہم کو پیشگی طور پر معلوم ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ان کا حملہ ہمیشہ دفاعی ہوتا ہے،نہ کہ جارحانہ۔۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک لگے بندھے قاعدے کے تحت کام کررہی ہے،اور اس قاعدہ کو دیکھتے ہوئے آپ اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں،مگر انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے عمل کا کوئی اُصول،کوئی قاعدہ،کوئی روش اور کوئی طریقہ لازمی نہیں،وہ مکمل طور پر آزاد ہے،اور جس وقت جو چاہے کرسکتا ہے،کہ اُس نے خود پر کوئی اور روک ٹوک عائد نہیں کررکھی۔۔
اس دنیا میں انسان ہی ایک ایسا وجود رکھتا ہے جو یکطرفہ طور پر دوسرے کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔۔جوکسی حقیقی سبب کے بغیر دوسرے کے اوپر حملہ کرتا ہے۔انسان کے حِرص اور انتقام کی کوئی وجہ نہیں۔۔۔آپ خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہوں اور محض ذاتی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ترقی کی منزلیں طے کررہے ہوں،تب بھی آپ محفوظ نہیں کہ دوسروں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا ہونا ناگزیر ہے،اور حسد کے جذبے نے ذرا سا بھی سر اُٹھایا تو یہ آپ کو گرانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوگا۔

انسان خود محدود طور پر اپنی خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے۔اور بے حساب حد تک دوسروں کی تباہ و برباد کرکے اس کی بربادی کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔چاہے دوسروں کی بربادی میں اُس کو رتی برابر فائدہ نہ حاصل ہو۔۔۔یہ سب کچھ کبھی حسد کے نام پر،کبھی انا کی تسکین کے حوالے سے اور کبھی دوسروں کو گرانے میں محض لطف اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔۔
کوئی بدترین موذی جانور بھی اسکو نہیں جانتا کہ وہ کسی کو ذلیل و خوار کرنے کا منصوبہ بنائے،وہ کسی کو خوامخواہ مصیبتوں کے جال میں پھنسا کر اس کی پریشانی کا تماشہ دیکھے۔۔
یہ صرف حضرتِ انسان جو ایسا کرتا ہے۔۔انسان زمین کے اوپر ایک تضاد ہے،وہ حقیقتوں کی دنیا میں حقیقتوں کو نظر انداز کرکے رہنا چاہتا ہے،انسان کو ایک نہائیت حسین اور مکمل دنیادی گئی ہے۔۔مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے وہ اپنی دنیا کی تردید کررہا ہو۔انسان کھلے ہوئے آسمان کے نیچے بند ذہن کے ساتھ جینا چاہتا ہے،لطیف ہواؤں کے درمیان اسکو صرف کثیف اخلاق کے ساتھ رہنا پسند ہے۔اونچے پہاڑوں کی آغوش اور پڑوس میں وہ چھوٹے چھوٹے مسائل میں اُلجھا ہوا ہے۔۔

سر سبز و شاداب درختوں اور پیڑوں کے ماحول میں وہ سرکنڈا بنا ہوا نظر آتا ہے۔دریاؤں،ندی،نہروں اور چشموں کی روانی کے درمیان وہ جمود و تعطل کی تصویر بنا ہوا ہے۔اس صورت ھال ی سب سے عبرت ناک مثال ہم لوگ ہیں،جن کو پاکستانی اور مسلمان کہا جاتا ہے۔یہاں جو میں واقعات سنانے چلا ہوں،یہ حال ہی میں پیش آیا ہے۔۔

جنوری کے پہلے ہفتے میں ہالینڈ کے وزیراعظم کیساتھ ہم صحافیوں کا ورکنگ لنچ تھا،یہ لنچ روایتی طور پر ہر برس صحافیوں کی ایک ٹیم کو دیا جاتا ہے۔حسبِ سابق اس سال بھی 15جنوری کو لنچ کے لیے مجھے بھی جانا پڑا،لنچ کے بعد چند پاکستانی روشن خیال دوستوں کے ساتھ ملاقات پہلے سے طے پائی ہوئی تھی۔سو ٹھیک اڑھائی بجے وہ دوست مجھے اپنے ہاں لے گئے،وہاں میرے ایک اور دوست جو پاکستان سے آئے تھے،بھی موجود تھے۔۔گفتگو رات تک چلتی رہی،واپس ایمسٹر ڈیم آنے کے لیے جب میں ھیگ کے ریلوے سٹیشن پر پہنچا اور ٹرین کی روانگی کے انتظار میں ایک بنچ پر بیٹھا تھا،دو پاکستانی نوجوان میرے پاس آئے (اخبار میں چھپنے والی تصویر کی وجہ سے انہوں نے مجھے پہچان لیا تھا،اس لیے تعارف کی کوئی ضرورت نہ پیش آئی)ایک نے کہا۔۔مجھے ایک مسئلہ بتائیے!افغانستان میں مسلمان بھائیوں کا خون ہورہا ہے،میں چاہتا ہوں کہ ان کے خون کے صدقے کے طور پر ایک بکرا ذبح کروں۔۔ودسرے نے کہا میں مقبوضہ کشمیر جانا چاہتا ہوں،مجھے بتائیے کہ کشمیر جانے کا طریقہ کیا ہے،دونوں مجھ سے مشورہ چاہتے تھے مگر میں ان کو کوئی مشورہ نہ دے سکا۔۔مجھے ایسا محسوس ہوا،جیسے میرے دماغ میں الفاظ کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہو،اور اب میرے پاس ان سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔موجودہ زمانے میں ہم پاکستانی مسلمانوں کی شاید سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خیالی پرواز میں سب سے آگے ہیں اور حقیقی عمل میں سب سے پیچھے۔۔
ان کو سیاست میں صرف نعرہ بازی پسند ہے۔۔ادب میں شاعری اور مذہب میں روحانیت۔۔مسلمانون نے نہ اپنی مقدس کتاب سے کچھ سیکھاہے،نہ دنیا کے تجربات سے۔۔

ایسا معلوم ہوتا ہے،کہ راہنماؤں اور اکابر کی افواج خوش فکری اور خوش فہمی کے خول میں بند ہے۔اپنے فکری خول سے باہر کی حقیقتوں کی اسے خبر ہی نہیں،اپنی ہی دنیا میں مگن اور اپنے ہی تخیل کے کنویں میں اُتری ہوئی ہے۔آخر ایسے لوگوں کو کیا مشورہ دیا جائے،جو افغانستان جیسے سنگین مسئلہ میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے لیے ایک بکرا ذبح کرادیں،یا اپنی انتہائی بے خبری،بے علمی اور بے قاعدگی کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی طرح کشمیر پہنچ جائیں تو وہاں لڑ کر وہ اس کا سارا مسئلہ حل کردیں گے۔۔
جہالت کے حوالے پڑھتے پڑھتے
کتابوں سے میرا جی بھر گیا ہے

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *