جرنیلی سڑک ۔ابنِ فاضل/قسط4

گکھڑ سے ذرا آگے وزیر آباد ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیرآباد کسی وزیر نے آباد نہیں کیا تھا ۔ بلکہ یہ پہلے سے آباد تھا ۔ اور نگزیب عالمگیر کے وزیر حکیم لمودین نے یہاں محض ایک کسی قدر خوبصورت عمارت ،شیش محل ،تعمیر کروائی تھی ۔ ہوسکتا ہے کوئی دو چار سڑکیں وغیرہ بھی بنوا دی ہوں ۔بس اسی سے متاثر ہو کر اہلیانِ وزیر آباد نے علاقہ کا نام ‘وزیر آباد’ رکھ لیا ۔ دوستوں کی اس فیاضی کا اپنے خادمِ اعلیٰ کو شاید علم نہ ہو سکا ورنہ ایک آدھ حرم تو یہ بھی وہاں بنا ہی سکتے تھے ۔یوں یہ کب کا ‘وزیرِاعلیٰ آباد ‘ ہوا ہوتا ۔ ویسے اگر اہلِ لاہور والوں میں وزیرآباد والوں سے آدھی بھی ‘سمجھ’ ہوتی تو کم از کم لاہور تو اب تک ‘خادمِ اعلیٰ آباد’ ضرور ہوتا ۔ وزیر آباد چاقو چھریاں اور دیگر آلاتِ غذا خوری کی صناعی کے لیے مشہور ہے  اوراسقدر مشہور ہے کہ بیشتر اوقات اس شہر کے باسیوں کےعروفِ عام (nicknames )بھی انہی کے نام پر ہوتے ہیں ۔

ہمارے ساتھ یونیورسٹی میں جو دوست وزیر آباد سے تھے ان کو پیار سے استرا، گول متھے والا چاقو وغیرہ کے تکنیکی ناموں سے پکارا جاتا تھا ۔ وزیر آباد کے محنت کش بھی گوجرانوالہ کے باسیوں کی مانند بہت محنتی اور اختراع وابدا کے شوقین ہیں مگر یہاں بھی جدید ٹیکنالوجی سے کم آشنائی ترقی کی راہ میں حاجز ہے۔ اس کے باوجود عالمی منڈی میں وزیر آباد کی اشیاء کا نام اور مانگ ہے۔ اس کے ساتھ ہی نالہ  پلہو ہے جس کی تازہ شکار  شدہ مچھلی وزیر آباد میں خاص انداز سے پکائی جاتی تھی جس کی بڑی دھوم تھی۔ گمانِ فاضل ہے کہ صنعتی فضلے کے باعث اب پلہو میں حیاتِ آبی ناپید ہے۔

وزیرآباد کے بعد جرنیلی سڑک دریائے چناب سے گذرتی ہوئی گجرات میں داخل ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہی چناب ہے جس کو کچے گڑھے پر پار کرنے کی آرزو میں سوہنی اور اس کو بچاتے ہوئے مہینوال دونوں موت کے پار اتر گئے ۔ ہمیں کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ جناب عزت بیگ المشہور مہینوال صاحب بخارا کے اتنے بڑے بین الاقوامی تاجر تھے جو ہندوستان کے مختلف شہروں سے مختلف اشیاء خرید کر بخارا اور ایشاءِ کوچک میں فروخت کیا کرتےتھے ، سےاتنا نہ ہو سکا بیچاری سوہنی کو بشیر پنکچر والے سے ٹریکٹر کی اک پرانی ٹیوب ہی لے دیتے ۔غریب بھری جوانی میں جان سے تو نہ جاتی ۔ اور کچھ نہیں تو جیسے خود بخارا کا ہوتے ہوئے سوہنی سے گپیں لگانے کے لیے پنجابی زبان کا کورس کیا تھا اس بیچاری کو بھی کہیں سے سوئمنگ کورس کروا دیتے ۔ لیکن یہ عشق واقعی اندھا ہوتا ہے عقل کا ۔

مزید حماقت دیکھیے کہ روزانہ معصوم بچی کو مچھلی پکڑ کر کھلاتا ۔وہ تو شکر ہے کہ جلد ڈوب مری ورنہ اس کے سارے نازک جسم پر روزانہ مچھلی کھانے سے گرمی دانے وغیرہ نکل آتے ۔ ستم بالائے ستم دیکھیے کہ ایک دن مچھلی نہ ملی تو اپنی ران کی مچھلی نکال لی اور بھون کر پیش کردی۔ جیسے بیچاری معصوم کمہارن نہ ہو افریقہ کے کسی آدم خور قبیلہ سے ہو۔ ویسے احتیاطاً صاحبانِ علم وواقفان قانون سے التماس ہے کہ انسانی ران کی مچھلی خوری کی بابت کچھ قانونی وآئینی حیثیت واضح کر دیں تاکہ مستقبل کے مہینوالوں کو آسانی ہو ۔ ادھربیحد مصروف کہانی نویس شاید مصروفیت کے باعث یہ نہیں بتا سکا کہ محترمہ سوہنی صاحبہ نے دریائی مچھلی کی جگہ اچانک انسانی ران کی مچھلی دیکھ کرکیا ردِ عمل ظاہر کیا ۔

نیز یہ کہ اس مچھلی میں کانٹوں کی عدم موجودگی کے متعلق مہینوال نے کیا عذر تراشا یا وہ بھی عشق میں اندھی ہو چکی تھی آنکھوں سے ۔ اور ظالم کہانی نویس کی مزید بے حسی دیکھیے کہ پاس کھڑا یہ تک دیکھتا رہا کہ نند نے گھڑا بدل دیا ہے ۔ اور پھر یہ بھی کہ گھڑا بیچ دریا کے گھل گیا تھا اور سوہنی ڈوبتے ہوئے چیخ و پکار کر رہی ہے ۔یہاں تک عزت بیگ صاحب اس کی چیخیں سن کر اسے بچانے آگئے اور اس کے سنگ ڈوب مرے لیکن یہ پاس کھڑا گانے کے بول نوٹ کرتا رہا جو سوہنی ڈوبتے ڈوبتے گنگنا رہی تھی۔ لیکن ان کو بچانے کی کوشش نہ کی۔ ظاہر ہے اگر یہ اس وقت پاس موجود نہ ہوتا تو پھر کون اس کو یہ ساری جزیات بتاتا ۔ کیوں کہ اس کے سوا وقوعہ کا واحد گواہ کچا گڑھا تو پہلے ہی گھل چکا تھا ۔اور رہی نند تو اس نے تاحال اعترافی بیان ریکارڈ نہیں کروایا ۔

ویسے ہماری ذاتی رائے میں کسی عورت کا یوں شادی شدہ ہوتے ہوئے راتوں کو چوری چھپے غیر آدمی سے ملنا ایسا ہی قبیح عمل ہے کہ ان دونوں کا ڈوب مرنا ہی بنتا تھا ۔ وہ الگ بات ہے کہ کہانی نویس اور دورِ حاضر کے ٹیلیوژن ڈرامہ نویسوں کے نزدیک یہ قابلِ رشک بات ہے ۔ لیکن اس ساری کہانی میں ایک بات قابلِ غور ضرور ہے کہ تلا کمہار یعنی سوہنی کا باپ اس وقت بھی اتنے خوبصورت برتن بناتا تھا جو کہ ترکی تک برآمد ہوتے تھے ۔اور آج بھی اس خطہ میں کراکری کے بہت سے کارخانے ہیں ۔گویا اس علاقہ میں یہ ہنر صدیوں سے ہے۔ جدید علم کے ساتھ اس قدیم ہنر کی پیوندکاری سے ترقیوں کے بہت سے در وا کیے جا سکتے ہیں ۔

گجرات شہر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے ۔ اس جگہ پر کسی باقاعدہ آبادی کے آثارتو قبل مسیح سے ملتے ہیں ۔ لیکن شنید و پڑھید ہے کہ گجرات کے نام سے بستی جلال الدین اکبر نے تعمیر کرائی ۔ کہ ایک روز وہ کشمیر کی سیر کے لیے جارہا تھا کہ چناب سے گذرتے ہوئے اس کا جی کیا کہ کیوں نہ یہاں ایک قلعہ بنا دیا جائے اور پھراس نے وہا ں قلعہ بنا دیا ۔ اور تھوڑا آگے جا کے اس کے من  میں آئی کہ ادھر ایک شہر ہونا چاہیے ۔تو اس نے علاقے کے گوجروں کو وہا ں اکٹھا کر کے گجرات کی بنیاد رکھ دی ۔ اب یہ تاریخ دانوں نے نہیں بتایا کہ اگر اس وقت فوری طور پر وہا ں گجر دستیاب نہ ہوتے تو اس جگہ کا نام کونسی رات ہوتا ۔ تاریخ کی کتابیں پڑھتے ہوئے اکثر گمان ہوتا ہے کہ بادشاہوں کے لیے شہر بسانا اور قلعے بنانا ایسا ہی تھا جیسے ہمارے لیے پکوڑے بنانا ۔ یا سست الوجود لوگوں کے لیے بہانے بنانا ۔

جاری ہے۔۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *