اردو جی۔۔ثمینہ مشتاق

اُردو جی ! آپ اداس نہ ہوں اگر ہم نے آپ کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ! دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کو خود پر فخر اپنی سلاست و آسانی ، زرخیزی الفاظ نیز مقبولیت کے لئے نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ سوچ لینا چاہیے کے آبادی میں اضافہ اس کی اولین وجہ ہے ۔

اُردو جی ! رسم الخط ،تلفظ و ادائیگی سے لے کر لکھائی کی پٹائی تک آپ سے سب اتنا پیار کرتے ہیں کہ آپ ہر زبان میں بولی لکھی اور کہی جاتی ہیں ،یہاں تک کہ  اس قوم نے آپ کو رومن میں بھی لکھنا شروع کر دیا ہے جسے پڑھنا کسی اردو دان کے لئے جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔ نجانے اس قوم کی خلاصی کیسے ہو گی جو ہر لہجہ آپ کو اپنی شیریں زبانی سے نچوڑتا ہے ۔یہاں تک کہ  نئی نسل اردو الفاظ کا ترجمہ انگریزی میں سمجھتے ہیں ۔

tripako tours pakistan

اُردو جی ! پلیز برا نہ مانیں آپ نے ہی  تو کہا ہے ” جو دل کے قریب ہے وہی زیادہ رقیب ہے ” اب ہر جگہ تو آپ کو لکھنو والا پروٹوکول ملنے سے رہا کچھ آپ بھی کوآپریٹو (cooperative ) ہیں، ہر جگہ فٹ ہو جاتی ہیں ماشاءالله  ۔

برصغیر میں آپ کی ایجاد نے کسی کا بھلا کیا ہو نہ کیا ہو، سیاست دانوں اور شاعروں کی خوب چاندی رہی ۔اردو میں وہ وہ نعرے مشہور ہوئے کہ  الامان الحفیظ جیسے “روٹی کپڑا اور مکان ” کا نعرہ آج تک جاری ہے ۔

آپ نے سب کے اُلو سیدھے کیے لیکن کسی نے آپ کو سرکاری اداروں میں “پر “بھی نہ مارنے دیا،بدلے میں آپ نے اردو میں سارے سیاسی فقرے مشہور کروائے جیسے ۔۔۔
“مجھے کیوں نکالا”
“ایک پپّی اِدھر ایک پپّی اِدھر”
“کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے!”۔
“تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے”
“ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی!” وغیرہ وغیرہ

پہلے نعرے فقط بینروں، دستی رقعوں اور دیواروں پر لکھے جاتے تھے، مگر اردو جی ! ہمیں دعائیں دیں کہ  اب ہمارے توسط سے ’فیس بک‘ کی دیوار زیادہ آسان اور پُراثر ہوگئی ہے۔

فن ِ موسیقی میں آپ کو کمال ملکہ ترنم   حاصل ہیں ، مہدی حسن حاصل ہیں ، کیونکہ یہ کبھی ہندوستان کی بھاشا بھی تھی ۔۔۔تو کشور جی اور لتا جی، محمد رفیع۔۔۔۔کی بدولت آج بھی پاکستانی کبھی “لگ جا گلے ۔۔۔”تو کبھی
“میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو ۔۔۔” جیسے ہزارہا گانوں کی صورت آپ کے گُن گاتے ہیں اور کیا چاہیے ۔

اب ہم مولوی عبدالحق کہاں سے لائیں جو “بابائے اردو ” کہلائیں اور انجمن ترقی اردو ، اردو کالج کراچی (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی) کے بانی ہوں ۔ جو اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کردیں ۔۔ ہمارے پاس تو لے دے کر اب مولوی قوی ہیں ۔۔ ان ایکشن !

اور نہ تو اب سر سید احمد خان ہیں کہ  قوم کو اخلاقی و اُردو کی پستی پر جگائیں ۔”سائنٹیفک سوسائٹی” کی بنیاد ڈالیں ، جدید علوم و فنون کے ترجمے انگریزی سے کروائیں یا پھر “تہذیب الاخلاق “ کے ذریعے اردو ادب میں انقلاب پیدا کریں ۔اور نہ اب ہمارے پاس اردو کے دیگر ارکان خمسہ میں سے کوئی بھی باقی ہے ۔۔۔

ویسے آپ رائٹر حضرات تو جانتے ہی ہونگے، اردو جی کے ارکان خمسہ کون ہیں ۔؟
واہ جی واہ ماشاءالله فر فر رٹے ہوئے ہیں سبحان اللّه
دیکھے یہ بے ایمانی ہے اب گوگل بابا کو تو زحمت نہ دیں چلیں جانے دیں ۔۔۔

اردو جی ! آپ یہاں آئیں ہمیں بہت کچھ دے گئیں لیکن اس تمام تر پیار کے بدلے ہم آپ کو انگریزی کے مقابلے میں تسلیم نہ کر سکے اور نہ کبھی کریں گے کیونکہ ہماری ذہنی سطح و زندگی کے معیار کا فیصلہ انگریزی زبان سے وابستہ ہے ۔انگریز تو چلا گیا انگریزی چھوڑ گیا ۔۔۔ ویسے تو محمد بن قاسم بھی چلا گیا پیچھے تاریخ کا جھگڑا چھوڑ گیا ۔

خیر اردو جی ! آپ تسلیم کی جائیں یا نہیں ،کوئی چاہے آپ کی ٹانگ توڑے یا منہ ،کوئی چاہے آپ کو آنکھ دکھائے یا قینچی آپ نے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ سکون تو قبر میں ہی ہے، جہاں ہم آپ کو دفنا کر ہی دم لیں گے ۔ہماری اس ذہنی غلامی میں آپ خود کو ہی موردِ الزام نہ ٹھہرائیں، ہم اب تک افسانے ، ناول، کہانی اور خبرنامے کا فرق نہ سمجھنے والی معصوم عوام ہیں ،یقینا ًہمیں اردو جی کی یتیمی کا نہیں بلکہ اپنی کم علمی کا ماتم کرنا چاہیے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *