شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔بتول

یہ تحریر ایک بہت پیارے انسان کی خوبصورت سوچ کے نام“

“اگر یتیموں کا اپنا ملک ہوتا تو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں نویں نمبر پہ ہوتا“ ۔۔ یونیسف
اقوامِ متحدہ کے ادارےیونیسف کے اعداد اور شمار کے مطابق دنیا بھر کے یتیم بچوں سے اگر انسانی زنجیر بنوائی  جاۓ تو پوری دنیا کے گرد ایک گھیرا بنایا جاسکتاہے ۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ پوری دنیا میں یتیم بچوں کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔ پاکستان میں کم و بیش 42لاکھ بچے والدین یا دونوں میں سے کسی ایک کے سائے سے محروم ہیں۔

مسئلہ صرف بچوں کا کم عمری میں یتیم ہوجانا نہیں کیوں کہ  موت برحق ہے۔ان کے والدین کا اس دنیا سے جانا بے شک اپنے آپ میں ایک بہت بڑی محرومی ہے ۔مگر میرے خیال سے اصل مسئلہ  ان بچوں کا اپنی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوجانا ہے ۔پاکستان کے ان 42 لاکھ بچوں میں زیادہ تعداد ایسے بچوں کی ہے جو کھانے پینے، تعلیم رہائش  تک کی  حقیقی خوشی اور مسکراہٹ سے بھی محروم ہیں۔

بچے مستقبل کا اثاثہ ہوتے ہیں مگر محرومیوں میں پل کر جوان ہونے والے یہ معمار ملک یا قوم کو کون سا فائدہ پہنچائیں گے؟ یہ بات سمجھنا کم از کم میری ناقص عقل سے تو بالاتر ہے۔ بلاشبہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بہت سی تنظیمیں ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشاں ہیں مگر کیا کسی بھی بچے کی بنیادی ضروریات صرف یہی ہیں؟ نہیں۔ بلکہ اصل ضرورت ایک ماں کی محبت ، باپ کی شفقت اور زندگی کی وہ خوشیاں اور مسکراہٹیں ہیں جو ہم سب نے اپنے بچپن میں محسوس کی تھیں اور جنہیں یاد کرکے ہم آج بھی مسکرا دیتے ہیں۔

آپ میں سے کسی نے اگر کسی یتیم ، بے سہارا بچے کو عید ، دیوالی، کرسمس یا کسی بھی موقعے پہ کوئی  چھوٹا سا گفٹ دیا ہے تو یقیناً   آپ نے اس بچے کے چہرے پہ ایک خوشی بھی دیکھی ہوگی اور اگر ایسا کوئی  تجربہ نہیں ہے تو کر کے دیکھ لیں ۔وہ خوشی، مسکراہٹ، آنکھوں کی چمک آپ کو اندر تک پرسکوں کر دے گی۔ کتنا اچھا ہو کہ کسی ایک پھول کو گود لے کر یہ مسکراہٹ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لائی  جاۓ۔

مگر نہیں ۔۔۔ لوگ کیا کہیں گے؟ تو جناب وہی کہیں گے جو اب تک کہتے آۓ ہیں۔ کسی کو بچہ ہو یا نا ہو۔ بیٹا ہو یا بیٹی۔ لوگ کون سی خوشی میں خوش ہوۓ ہیں آج تک ۔عزیز رشتے دار ہمارے کون سے دکھ پہ دکھی ہوۓ ہیں۔ یہ ہمارا ذاتی تجربہ ہے  کہ یہ جو ”لوگ“ ہوتے ہیں نا اُنہیں کچھ کہنے کے لیے کوئی  وجہ دَرکار نہیں ہوتی ۔ توکسی معصوم پھول یا کَلی کو نام دے کے ان کو کہنے سننے کی وجہ دے بھی دی جاۓ تو کوئی  مضائقہ نہیں۔

ہمارے اس معاشرے میں ایک بات یہ بھی دیکھنے میں آئی  ہے کہ  بےاولاد جوڑوں میں اگر عورت کسی بچے کو گود لے کر اپنا اور شوہر کا نام دینا چاہتی ہے تو شوہر اس بات پہ راضی نہیں ہوتا۔ خدا جانے کے اِس نیک کام میں مرد کی مردانگی کو کیا ٹھیس پہنچتی ہے؟ مگر ہاں ایسے لوگوں کے ہجوم میں ایک انسان دوست ایسا بھی دیکھا ہے میں نے جس کی دیرینہ خواہش ہے بلکہ یوں کہیں کہ  دل میں اس کام کی نیت باندھی ہوئی  ہے  اُس نے   شادی کے بعد سب سے پہلا کام یہی کرنا ہے کہ  کسی بے نام کو اپنا نام دینا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ  یہ خوبصورت سوچ اس معاشرے کے ہر فرد کی ہوجاۓ اور کوئی  پھول سا بچہ یتیمی کی زندگی گذارنے پہ مجبور نا ہو۔

فلاحی اداروں میں تحفے تحائف  بانٹنا بے شک ایک احسن عمل ہے مگر کسی ایک انسان کے دکھوں کو ہمیشہ کے لیے سمیٹ لینے سے خوبصورت عمل بھی کوئی  اور ہو سکتا ہے بھلا؟ المیہ یہ نہیں کہ  ہمارے ملک کے لاکھوں بچے یتیم ہیں ، المیہ یہ ہے کہ لاکھوں صاحبِ حیثیت لوگوں کے ہوتے ہوۓ بھی یہ بچے یتیمی کی زندگی گذارنے پہ مجبور ہیں۔ یہ معصوم پھول اگر خوشیوں سے محروم ہیں تو ہر وہ شخص ضمیر سے محروم ہوچکا ہے جو کفالت کی قدرت رکھتے ہوۓ بھی کسی ایک آدم کی اولاد کو اپنا نام صرف اس لیے نہیں دیتا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ نیت کو صاف رکھنا شرت ہے راستے کے کانٹے بھی صاف ہوتے چلے جائیں  گے۔ اپنا اپنا حصہ ڈالتے جائیں   معاشرہ گُل و  گلزار ہوتا چلا جاۓ گا ۔اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر کسی مرجھاتے ہوۓ پھول کو گھر لاکر محبت اور شفقت سے سینچ کے دیکھیں اس پھول کی خوشبو سے زندگی مہک اٹھے گی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *