کیا میری زبان ہے اردو؟۔۔معیز الدین حیدر

دنیا میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں اور دنیا کے چند ممالک میں کچھ ایسے علاقے بھی ہیں کہ وہاں کے رہنے والوں کا معلوم ہی نہیں کہ  کونسی زبان بولتے ہیں۔ہر ملک کی اپنی ایک قومی زبان ہے جو وہاں کے لوگوں کے لیے ذریعہ   ابلاغ ہے او روہ اپنی زبان جیسے بولی جانی چاہیے ویسے ہی بولتے ہیں۔لیکن اگر بات کی جائے پاکستان کی قومی زبان اردو کی تو کیا واقعی اردو زبان پاکستان میں بولی جاتی ہے؟۔بالکل ویسے ہی جیسے برطانیہ میں انگریزی، چین میں چینی، جرمنی میں جرمن، ایران میں فارسی،فرانس میں فرانسیسی اور عرب ممالک میں عربی، نہیں ۔۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے،ملک پاکستان میں اردو صرف نام کی باقی رہ گئی ہے۔ تو آیئے اسی حوالے سے اس پہ مزید نظر ڈالتے ہیں۔

آپ نے بہت ہی کم لوگوں کو آج کے زمانے میں اچھی اردو بولتے سنا ہوگا۔میں کوئی اردوئے معلی کی بات نہیں کر رہا بلکہ سطحی اردو کی بات کر رہا ہوں اور یہ وہی اردو ہے جو لوگ عام طور پر بولتے ہیں۔آپ پاکستان کا کوئی علاقہ دیکھ لیں جہاں یہ زبان درست طریقے سے بولی جاتی ہو۔ کہیں تلفظ خراب تو کہیں الفاظ ہی غلط ادا کیے جاتے ہیں۔ایسا اس لیے بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ اردو بولنے پر اپنی علاقائی زبان کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور جب وہ اردو بولتے ہیں تو اردو،اردو نہیں بلکہ ان ہی کی علاقائی زبان سے اخذ کی ہوئی کوئی زبان معلوم ہوتی ہے۔پنجاب میں عموماََ لوگ پنجابی ہی بولتے ہیں اور اردو بول بھی دیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پنجابی ہیں جو اردو بولتے ہوئے اس کا تلفظ خراب کر رہے ہیں۔

tripako tours pakistan

سندھ کا تو نہ ہی پوچھیں کہ یہاں اردو کو نہیں بلکہ سندھی کو مادری زبان مانا جاتا ہے۔دنیا کے اور ممالک میں شاید ہی ایسا ہوتا ہو سوائے  ہندوستان اور پاکستان کے،کہ یہ دو ممالک اپنی اصل زبان بھول کر اور ہی کوئی زبان بولنے لگے ہیں۔لاہور کا کوئی باشندہ اگر”یار“ کہتا ہے تو اس کے منہ سے ”یاڑ“ ادا ہوتا ہے ایسے ہی اگر ”کرو“ کہتا ہے تو ”کڑو“ ادا ہوتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر آپ سے کرتا چلوں کہ جب میں ایک آسٹریلین خاتون کو اردو سکھا رہا تھا جو کہ لاہور میں مقیم تھیں۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان کو کافی مشکل ہوتی ہے کیونکہ میں ان کو جو تلفظ بتاتا ہوں ویسا لاہور کے لوگ نہیں بولتے ہیں اور مذکر مونث کی غلطیاں تو عام ہیں۔جیسے پنجاب میں دہی”ہوتی“ ہے جبکہ اردو میں دہی مذکر ہے۔

خواتین مالکان کی جانب سے منیجر کی انگلش کا مذاق اڑانے پر سوشل میڈیا پر بحث۔۔مائرہ علی

ایک دفعہ اور میرے ساتھ یہ ہوا کہ میری اپنے معلم سے گفتگو ہو رہی تھی تو میرے منہ سے لفظ ”محو“ ادا ہواجس پہ معلم نے کہا،کیا؟ کیا کہا؟میں نے کہا جناب ”محو“۔۔تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے بہر حال ان کو مطلب سمجھا دیا تھا۔بعد میں معلوم ہوا کہ  معلم کا تعلق پنجاب بھاولپور سے ہے۔ہم یہاں پہاڑی علاقوں کی بات نہیں کریں گے کیونکہ وہاں کے لوگوں کو اردو بہت ہی کم بولنی آتی ہے اگر آپ واقعی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اردو کی والدہ ہمشیرہ کیسے ہوتی ہے تو کبھی کسی پہاڑی علاقے کا رخ کیجیے۔

بات کی جائے شہر کراچی کی تو یہاں مہاجر کثیر تعداد میں موجود ہیں جن کو اردو  سپیک بھی کہا جاتا ہے۔یہ اردو  سپیکس یا اردو بانوں نے بھی کونسا اردو کو بخشا ہے؟ ”چورنگی“ کو ”چرنگی“ کردیا ہے ”نہیں کیا کرو“ کو ”نہیں کرا کرو“ گویا معلوم ہو کہ کراکرم ایکسپریس کہنے لگے ہوں۔اور کچھ میلے (mely) جن کا نام لفظ”میلا“سے اخذ کیا گیا ہے،اردو کو بہت ہی بے ادب طریقے سے بولتے ہیں گو کہ اردو کی ساری مٹھاس مین پوری اور ماوے کی نظر کردی ہو۔

اب بات کریں ہم اگر اپنی نوجوان نسل کی تو اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے کہ یہ وہ نسل ہے جو نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں! اس نئی نسل کو نہ ہی انگریزی مکمل سمجھ آتی ہے نہ ہی اردو۔معذرت کے ساتھ اس نئی نسل کا بیڑا غرق زبان کے حوالے سے سب سے زیادہ تعلیمی اداروں نے ،اس کے بعد والدین نے خاص کر یوٹیوب والی آنٹیوں نے کیا ہے، جو کہ رہتے تو پاکستان میں ہیں لیکن بچے ان کو انگریز کے پیدا کرنے ہوتے ہیں۔اوّل جماعت کے کسی بچے کو اٹھا لیں یا جامعات کے طلباء کو سب کا اپنی اپنی جگہ حال خراب ہے۔ انگریزی اور اردو کے بن کا کباب بن چکے ہیں۔ہم بحیثیت قوم احساسِ کم تری کا شکار ہوچکے ہیں۔تعلیمی اداروں میں خطابت انگریزی میں ہوتی ہے،بچوں پر دباؤ ہے کہ وہ انگریزی لازمی سیکھیں۔اب ہمارے فلسفے کے معلم کو ہی لے لیں وہ دورانِ خطاب بیس فیصد ہی اردو بول پاتے ہیں وہ بھی جب کہ انگریزی کے الفاظ نہ ملیں۔مزے کی بات یہ کہ آدھی جماعت کو کچھ پلے نہیں پڑتا، ایک تو فلسفہ اوپر سے انگریزی میں، پھر طلباء کارِ مفوضہ کے وقت پریشان گھومتے نظر آتے ہیں۔ہم اپنے بچوں کو اردو سکھاتے ہی نہیں ہیں بلکہ کوئی نئی زبان جو انگریزی اور اردو کا مرکب ہے وہ سکھاتے ہیں جیسے آج کل بچوں کو 30  سے آگے شاید ہی اردو میں گنتی آتی ہو۔

میں نے بعض ماؤں کو کہتے سنا کہ بیٹا وہ دیکھو کیٹ(cat)،آپ کیوں ہچکچاہٹ   محسوس کرتے ہیں؟ بچے کو یہ بتانے میں کہ وہ ایک بلی ہے۔ انگریزی آپ کا بچہ  سکول میں سیکھ جائے گا،کیوں گھر پہ بھی آپ کو انگریزی ہی سکھانی ہے؟ جیریمی بینتھم بنانا ہے بچے کو؟۔ انگریزی ایک انٹرنیشنل زبان ہے اور ایک (common medium of communication) ہے ان لوگوں کے درمیان جن کا تعلق مختلف اقوام سے ہے اور ان کی زبانیں مختلف ہیں۔ انگریزی سیکھنی چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انگریزی کو دماغ پہ سوار کر کے اپنی زبان کا بیڑا غرق کردیا جائے۔میری ذاتی طور پر دنیا کے تمام بڑے ممالک کے لوگوں سے دوستی رہی ہے ان میں سے اکثر لوگوں کی انگریزی کمزور تھی سوائے  ان کے جن کا تعلق برطانیہ یا امریکی ریاستوں سے تھا۔میں نے ان میں سے چند لوگوں سے سوال کیا کہ آپ کی انگریزی کیوں کمزور ہے تو یہی جواب ملا کہ ہمیں انگریزی صرف ایک مضمون کے طور پہ پڑھائی جاتی ہے اور انگریزی سیکھنے کے خواہش مند بعد میں لینگویج کورس کر لیتے ہیں۔

نفرت !اُردو پڑھنے والوں سے یا اپنی قومی زبان سے۔۔۔خنساء سعید

میرے ایک رفیق مجھ سے کہنے لگے کہ ان کو علامہ اقبال بہت پسند ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بھائی ان کو پڑھا ہے کبھی؟ تو کہنے لگے کہ کوشش کی تھی لیکن سمجھ نہیں آتی اردو۔ جہاں نہم،دہم جماعت کے طلباء کو اردو ایک مشکل مضمون معلوم ہوتا ہے غالب کی شاعری صرف تمسخر کے لیے پڑھتے ہیں،علامہ اقبال کا سوشل میڈیا پر مذاق بناتے ہیں تو سوچیے ان کے شعور کیا ہونگے؟

ہم نے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے اپنی زبان کا بیڑا غرق کردیا ہے اور ہمیں اردو سے زیادہ انگریزی بولنے میں فخر محسوس ہوتا ہے اس کا حل شاید اب نہیں کہ ہم اردو اپنی قومی زبان کو دوبارہ سہی طریقے سے اپنا سکیں۔اگر اس کے حل کی طرف جائیں گے تو نظام میں تبدیلی لانا  ہوگی، تعلیمی اداروں میں انگریزی سے زیادہ اردو کو عام کرنا ہوگا،بول چال میں بھی اور کسی حد تک نصاب میں بھی،ساتھ ہی والدین کو بھی اس میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ زبانو ں کے ماہرین کے حساب سے ایسی زبانیں وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں ،یا اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہتیں۔اردو ہماری پہچان ہے زبانیں بھی قوموں کی شناخت ہوا کرتی ہیں۔ہمیں اس سوچ کو اپنے دماغ سے نکالنا ہوگا کہ جسے انگریزی نہیں آتی وہ جاہل یا کمتر ہے، ہمیں انگریزی کو اپنی زبان پر ترجیح دینا چھوڑنا ہوگا۔ جن حضرات کو تلفظ نہیں آتے انھیں چاہیے کہ ایک لغت اپنے موبائل میں رکھیں، جو مطلب کے ساتھ ساتھ تلفظ بھی بتاتی ہے۔جن لوگوں کو الفاظ نہیں آتے وہ بھی اپنے موبائل میں ڈکشنری استعما ل کر سکتے ہیں جو بآسانی انگریزی الفاظ کا اردو ترجمہ بتا دے گی، یا دو منٹ لگتے ہیں گوگل کرنے میں۔ جہاں دنیا بھر کے کام ہم گوگل پہ کرتے پھرتے ہیں موبائل کے سوا ہمارے دیدے کہیں نہیں ٹھہرتے تو ایک ترجمہ تلاش کرنے میں کیا گھس جانا ہے۔

یہ بول کر شرمندہ ہونے سے تو بہتر ہی ہے کہ یار یہ لفظ انگریزی میں بولو سمجھ نہیں آیا۔ آخر میں میری یہی دعا ہے کہ خدا اس ملک پر یہاں کے لوگوں پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائے اور پاکستان کا سبز حلالی پرچم دنیا میں روشن کردے اور اس قوم کو بہترین اقوام میں سے ایک کردے، آمین یا رب العالمین۔

معیز الدین حیدر
معیز الدین حیدر
ایک شاعر، مضمون نگار اور افسانہ نگار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *