جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات(4)۔۔نذر حافی

بظاہر فلسطین سے عرب اور کشمیر سے پاکستان دستبردار ہونے کو ہے۔ گویا جہانِ اسلام کے دونوں سنگین مسئلے اس طرح حل ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس دستبرداری کا جائزہ لیں تھوڑی سی بات کشمیر کی کر لیتے ہیں۔ کشمیر کی اہمیت صرف آبی و معدنی ذخائر کی وجہ سے نہیں۔ اس منطقے کی خاص اہمیت اس کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک حیثیت کی وجہ سے ہے۔ اہلیانِ کشمیر صرف اپنی شناخت اور بقاء کی جنگ نہیں لڑ رہے، ان کی لڑائی اور جدوجہد ہندوستان کے مسلمانوں اور پاکستان کی سالمیت کی خاطر ہے۔ آپ ہندوستان کے مسلمانوں سے پوچھ سکتے ہیں، نیز ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر نظر رکھ کر خود بھی تجزیہ کرسکتے ہیں۔ آج یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب بھی کسی ہندوستانی حکومت نے ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے مشکلات کھڑی کی ہیں تو ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں سب سے موثر اور بروقت آواز مقبوضہ کشمیر سے ہی اٹھی ہے۔

پاکستان کی سیاسی انارکی اور فرقہ وارانہ خلفشار کے باوجود جس نکتے پر ساری ملت پاکستان متحد ہو جاتی ہے، وہ کشمیر کی آزادی ہے۔ یہ واحد موضوع ہے، جس پر سارے پاکستانی اپنے اختلافات کو بھلا کر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان جیسے جارح ملک سے ابھی تک اگر پاکستان محفوظ ہے تو اس کی اہم وجہ محاذ کشمیر ہے۔ مسئلہ کشمیر نے اونٹ کی ناک میں نکیل کی طرح ہندوستان کو رام کیا ہوا ہے۔ اس کے لئے کشمیریوں کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اگر پاکستان میں انسانی حقوق، رفاہِ عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی۔۔۔ میں پیشرفت ہو رہی ہے تو اس کے پیچھے مقبوضہ کشمیر میں لٹنے والی عزتوں اور بہتے ہوئے خون کی قربانیاں ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیاں دراصل نظریہ پاکستان، دفاعِ پاکستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے ہیں۔

tripako tours pakistan

اگر خدانخواستہ ہمارا آج کا دوست چین کل کو ہمارا دشمن ہو جائے، کبھی اس بارے میں بھی سوچئے، سوچنے میں کوئی ہرج نہیں، اس ممکنہ دشمنی میں بھی پاکستان کی حفاظت کیلئے منطقہ کشمیر کو انتہائی اہمیت حاصل ہوگی۔ اگر آج پاکستان کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی اور سفارتی مدد کرتا ہے تو یہ کسی دوسرے فریق کی مدد نہیں ہے بلکہ خود پاکستان کی اپنی بقاء اور سلامتی کیلئے مدد ہے۔ نظریہ پاکستان کے اعتبار سے کشمیر کوئی دوسرا ملک نہیں ہے کہ پاکستان جس کا بوجھ برداشت کر رہا ہے بلکہ کشمیر پاکستان ہی ہے کہ جس پر ایک جارح ملک نے قبضہ کر لیا ہے۔

بے شک آج کشمیر کو جہانِ اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی فراموش کر دیا گیا ہے۔ یعنی خود پاکستان ہی اپنی شہ رگ اور اپنے وجود کے ایک ٹکڑے کو بھولتا جا رہا ہے۔ چنانچہ آج کے پاکستانی نوجوان کو اب یہ نہیں پتہ کہ کشمیر اصل میں ہے کتنا؟ اس کے رقبے پر موجود انسانی آبادی کس کی خاطر تلف ہو رہی ہے؟ اس کی اسٹریٹیجک اہمیت کیا ہے؟ اس مسئلے کے حل میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں؟ ان رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟ بلکہ اب تو یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ بس اب کشمیر جیسے ہے، ویسے ہی رہنے دیجئے اور یا پھر ہندوستان کو ہی دیدیجئے اور اپنی اقتصاد اور ترقی پر توجہ دیجئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی ملکی تاریخ کے گذشتہ تہتر سالوں سے کچھ نہیں سیکھا اور کچھ نہیں سمجھا۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسائل ہمارے دماغ کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہندوستان کا پاکستان کے ساتھ کشمیر کے رقبے پر تنازعہ نہیں ہے بلکہ اصلی تنازعہ نظریہ پاکستان پر ہے۔ ہندوستان نظریاتی طور پر پاکستان کے وجود کو برداشت کر ہی نہیں سکتا۔ اُس کے نزدیک مسلمان نام کی کوئی قوم نہیں۔ وہ ہندوستانی قومیت کا علمبردار ہے۔ مملکت ہندوستان کے مطابق سارے ہندوستانی ایک قوم ہیں، چنانچہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان، کشمیر سے دستبردار ہو جائے تو پھر پاکستان ترقی کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہندوستان کی نظریاتی اساس، اس کے پالیسی ساز اداروں اور ہندو سماج کی خبر نہیں۔

سانحہ بنگلہ دیش سے لے کر آج بھی پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی پشت پر موجود ہندوستان کبھی بھی اپنے نظریات سے ہاتھ اٹھانے والا نہیں۔ خلاصہ یہ کہ یہ جغرافیائی جنگ کے بجائے ایک نظریاتی لڑائی ہے۔ اگر بفرضِ محال پاکستان کشمیر سے دستبردار ہو بھی جائے تو اس سے ہندوستان پیچھے ہٹنے کے بجائے پاکستان کے دیگر علاقوں کو ہتھیانے کی کوشش کرے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مطابق جب ہم دشمن کے مقابلے میں ایک قدم عقب نشینی کرتے ہیں تو دشمن ہم پر رحم نہیں کرتا بلکہ وہ سات قدم آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت کسی بھی بالغ نظر شخص سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مسئلہ کشمیر سے پاکستان کی پسپائی دراصل پاکستان کی وحدت اور بقاء پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔ دوسری طرف اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو کشمیر میں ہندوستان کے قدم مضبوط کرنے کا باعث بنے ہیں۔

بلاشبہ اس میں پاکستانی حکومتوں کی کاہلی اور نااہلی کا عمل دخل اپنی جگہ ہے، لیکن دوسری طرف مقبوضہ کشمیر پر بھارتی گرفت مضبوط کرنے میں اسرائیل اور سعودی عرب کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان، عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب و متحدہ عرب امارات نیز او آئی سی پر اعتماد کرتا رہا جبکہ مذکورہ ممالک اسرائیل اور ہندوستان کے منافع کیلئے سرگرم رہے۔ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان سیاسی و سفارتی محاذ پر اس لئے شکست کھا گیا، چونکہ پاکستان کے دوست ناقابلِ اعتماد تھے۔ شاید ہم میں سے بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ اسرائیل کیلئے کشمیر بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا فلسطین ہے۔ چنانچہ اس وقت ہندوستان اور عرب ممالک کے توسط سے اسرائیل بھی مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔ یعنی اس وقت مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ایک کے بجائے دو ازلی دشمن اپنے مورچے بنائے بیٹھے ہیں۔

یہاں پر 1971ء کے حوالے سے عرض کرتا چلوں کہ اُس وقت بھی مشرقی پاکستان میں بھارتی فوجی آپریشن کی قیادت ایک یہودی افسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب کر رہے تھے اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم گولڈامیئر نے ایک بڑی مقدار میں اسرائیلی اسلحہ ہندوستان بھیجا تھا۔ اسرائیل اور ہندوستان کے تھنک ٹینکس گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو توڑنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ شواہد بھی اب منظرِ عام پر آچکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات فوجیوں کو اسرائیلی آفیسرز ہی ٹریننگ دیتے ہیں۔ چنانچہ فلسطین کی طرز پر یہاں بھی کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ، گھر گھر تلاشی، نوجوانوں کو لاپتہ کرنا، جعلی پولیس مقابلے، ٹارچر سیلوں میں وحشتناک تشدد اور شکنجہ، مقامی لوگوں کی املاک و کاروبار کی تباہی، عسکری کو غیر عسکری لوگوں کے ساتھ ایک جیسا برتاو، سرِ عام اسرائیلی اسلحے کا استعمال۔۔۔ یہ سب اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی عسکری تربیت کا خاصہ ہے۔

صاحبانِ نظر اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر عملاً بھارتی و اسرائیلی فوجی چھاونی میں بدل چکا ہے۔ نظریہ پاکستان کے اعتبار سے ہمارا جتنا دشمن ہندوستان ہے، اتنا ہی اسرائیل بھی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ بانی پاکستان کے جو نظریات ہندوستان کے بارے میں تھے، وہی اسرائیل کے بارے میں بھی تھے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اگر پاکستان کسی بھی دباو کے پیشِ نظر اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو اپنی نظریاتی موت کا اعلان کرتا ہے۔ یوں گویا یہ پاکستان کی مقبوضہ کشمیر سے عملاً دستبرداری کا اعلان بھی ہوگا۔ اس وقت پاکستان کے سامنے دو راستے اور دو بلاک ہیں۔ ایک نظریاتی موت کا راستہ ہے، جو سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن سے ہوتا ہوا سیدھا اسرائیل اور ہندوستان تک جاتا ہے۔ مذکورہ ممالک اسرائیل کو پہلے سے ہی تسلیم کرچکے ہیں۔ دوسرا راستہ نظریاتی زندگی اور جدوجہد کا راستہ ہے، جو شام، عراق اور ایران سے ہوتا ہوا ایک اسلامی یا مقاومتی اور مزاحمتی بلاک کی طرف جاتا ہے، جو کہ خاصا کٹھن اور دشوار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *