کراچی کا مرثیہ ۔۔محمد فیصل

SHOPPING

کراچی کا درد محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس شہر کے گلی کوچوں میں پلے بڑھے ہوں ۔آپ نے اس کی روشنیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو ۔اس شہر کی وسعت قلب دیکھی ہو ،جو ہرآنے والے کے لیے اپنے بازو کھول دیتی ہے ۔کراچی میرے لیے محض ایک شہر نہیں بلکہ میری محبت ہ ے اور اپنے محبوب کی بربادی کوئی بھی حساس انسان برداشت نہیں کرسکتا ہے ۔کہتے ہیں کہ ہندوستان کے پانچ سو شہر اجڑے تھے تو یہ نابغہ روزگار شہر آباد ہوا تھا ۔ہر رنگ ،نسل ،مذہب ،فرقے اور زبان بولنے والے افراد نے اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا اور اس کو ملک کی معاشی شہ رگ بنادیا ۔میں نے اس شہر کا عروج بھی دیکھا ہے او اب اس کا زوال بھی دیکھ رہا ہوں ۔میں نے سنا ہے کہ کسی وقت شہر کی سڑکیں علی الصبح پانی سے دھلا کرتی تھیں اور اب میں کراچی کا وہ وقت دیکھ رہاہوں جب پینے کے پانی کے حصول کے لیے شہری دربدر گھوم رہے ہوتے ہیں اور جو صاحب حیثیت  ہیں وہ باقاعدہ پانی کو خرید کر پیتے ہیں ۔لوگوں نے اس شہر قائد کا وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ جب یہاں کی راتیں جاگا کرتی تھیں او رانہوں نے وہ وقت بھی دیکھا کہ جب سرِشام ہی شہر کی سڑکوں پر موت کے سائے لہرایا کرتے تھے ۔صبح اپنے گھر سے نکلنے والا اس بات سے لاعلم ہوتا تھا کہ وہ زندہ سلامت اپنے گھر واپس پہنچ سکے گا یا نہیں ۔ کراچی کا ایک وہ وقت بھی تھا جب گھر کے داخلی دروازوں پر صرف پردے ڈال دیئے جاتے تھے اور ان کو بند کرنے کی ضرورت شاد ر و نادر ہی پڑتی تھی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب لوگ ڈاکوؤں کے خوف سے گھروں کے اندراور باہر تالے ڈال کر بیٹھ جاتے تھے ۔لوگوں نے اس شہر کی روشنیاں بھی دیکھی ہیں او ر اب اس شہر کے اندھیرے بھی دیکھ رہے ہیں ۔یہاں کے پرانے باسیوں نے یہاں ٹرام اور سرکلر ریلوے بھی دیکھی تو اب ٹوٹی پھوٹی بسیں اور چنگ چی رکشے بھی دیکھ رہے ہیں ۔دنیا کا اصول تو یہی ہے کہ ہر چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے لیکن یہ تبدیلی زمین سے آسمان کی جانب ہوتی ہے لیکن کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم آسمان سے زمین کی جانب تنزلی کا شکار ہیں ۔

یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوا ؟ اس کو جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ تمام عوامل روزروشن کی طرح عیاں ہیں جن کی وجہ سے آج شہر نوحہ کناں ہے ۔1970کی دہائی اور 1980کی دہائی کے اوائل تک کراچی اپنے جوبن پر تھا لیکن اس کے بعد اس شہر کو ایک سیاسی دنگل بنادیا گیا ۔”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے“ کے مقولے کے تحت اس میں ایک نئی چیز کا مزید اضافہ کردیا گیا کہ ’سیاست میں سب کچھ جائز ہے “ اور جہاں سب کچھ جائز ہوجائے تو وہاں نتائج انتہائی بھیانک ہوتے ہیں اور آج کا لاوارث کراچی ماضی میں کچھ جماعتوں کو دی جانے والی شتر بے مہار آزادی کاعملی نمونہ ہے ۔وہ جو اپنے آپ کو اس شہر کا ”وارث“ کہتے تھے انہوں نے اسے محض ایک دودھ دینے والی بھینس جانا او ر اس کا دودھ نکال کر نجانے کتنوں کی شکم پُری کی ۔جس کا جتنا ہاتھ لگا اس نے شہر بے اماں کو اتنا ہی لوٹا ۔یہاں کے پارکس محفوظ رہے نہ فٹ پاتھ،یہاں نالوں پر قبضے کیے گئے تو مساجد کی زمینوں پر سپر مارکیٹیں قائم کردی گئیں ۔یہاں خون کی ندیاں بہتی رہیں ۔لوگ مارے جاتے رہے لیکن ارباب اختیار اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھے رہے ۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کراچی میں اتنی قتل و غارت ہوئی کہ دنیا کا کوئی دوسرا شہر کی اس کی مثال بن ہی نہیں سکتا اور آپ یہ بھی سوچیں کہ کراچی کی یہ بدامنی کیسے کیسے ہیروں اپنے ساتھ لے گئی ۔کراچی کی مٹی وہ بدقسمت مٹی ہے کہ جس نے حکیم محمد سعید جیسے محسن کو بھی نہیں بخشا ۔یہاں وکیل ،ڈاکٹر،سیاست دان ،انجینئرز سمیت عام لوگ انتہائی بے دردی کے ساتھ سیاست کی بھینٹ چڑھتے رہے ۔2012کے آپریشن کے بعد شہر میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری تو آئی لیکن گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہونے والی مادر پدر ”آزاد سیاست“ نے شہر کا بنیادی نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ۔

SHOPPING

یہ خاموشی ایسی ہی جاری رہتی اگر حالیہ مون سون سیزن میں ریکارڈ بارشیں نہیں ہوتیں ۔کراچی میں ہونے والی ان تباہ کن بارشوں نے یہاں کے ہرمحکمے کا پول کھول کر رکھ دیا لیکن اس مرتبہ اسلام آباد تک گونج اس لیے گئی کیونکہ ڈیفنس سمیت شہر کے تمام پوش ایریاز بھی اس کی زد میں آگئے وگرنہ ہر بارش میں لیاقت آباد ،کورنگی ،لانڈھی ،نیو کراچی ،سرجانی ،یوسف گوٹھ ،اورنگی ٹاؤن سمیت سمیت دیگر علاقے ڈوبتے ہی رہے ہیں ،نجانے کتنی بچیوں کے جہیز کا سامان ان بارشوں کے پانی میں بہہ گیا ۔کتنے لوگ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے ۔کتنے نالوں میں بہہ گئے کہ جن کا آج تک کچھ نہیں پتہ چل سکا ہے لیکن کیونکہ یہ عام لوگ تھے اس لیے کبھی اس بات کا نوٹس ہی نہیں لیا گیا ۔بات ان کے محلوں تک پہنچی تو کراچی کی بھی سنی گئی اور وزیراعظم عمران خان نے کراچی پہنچ کر شہر کے لیے گیارہ سو ارب روپے کے ایک ترقیاتی پیکج کا اعلان کردیا ۔
کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے اعلان کو تقریباً 2 ماہ گذر گئے ہیں تاہم اب تک اس پر کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے ۔وزیراعظم ماضی میں بھی شہر کے لیے 162ارب روپے کے پیکج کا اعلان کرکے گئے تھے جو محض اعلان تک ہی محدود رہا تھا اسی وجہ سے کراچی کے شہری متفکر ہیں کہ موجودہ پلان بھی ان کے لیے ایک سراب ہی ثابت نہ ہو۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے اعلان کے بعد جس طرح پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اس پر بیان بازی شروع کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے اعلانات کراچی کے عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں ۔وفاقی حکومت کہتی ہے کہ ہم اس میں سے سندھ حکومت کو ایک پیسہ نہیں دیں گے تو صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی پلان میں شامل تمام منصوبے اس کے ہیں اور ان پر پہلے سے ہی کام جاری ہے اور ادھر کراچی کے عوام دکھی ہیں کہ ایک مرتبہ پھر ان کے زخموں پر نمک پاشی کی جارہی ہے ۔میں اس شہر کی گلی کوچوں میں پلا بڑھا ہوں ۔میں اس شہر کی نفسیات سے مکمل طور پر واقف ہوں ۔اس لیے اپنے تجربہ کی بنیاد پر حکمرانوں کو ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اس شہر کا دل جتنا بڑا ہے تو اس کی نفرت کی شدت بھی اس سے بڑھ کر ہے ۔اگر اس مرتبہ پھر اس شہر کے ساتھ دھوکا ہوا تو پھر کسی سیاسی جماعت کے لیے یہاں پر جگہ نہیں بچے گی اور پھر اہل کراچی اپنے حقوق کے لیے تمام آئینی و قانونی پلیٹ فارمز کو استعمال کریں گے اور تمام ”سیاسی دیوتا“ اپنی موت آپ مرجائیں گے ۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *