عمار خان ناصر کو بات نہیں کرنے دیں گے/محمد حسن الیاس

نفسیات کاعلم انسانی رویوں کے مطالعے کا نام ہے۔ماہرین نفسیات سمجھتے ہیں کہ تعلیم، خاندان، معاش اور سماجی حالات وہ عوامل ہیں، جن کا اثر انسانوں کے انداز و اطوار اورفکر و عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔

ہمارے مذہبی علما کے مجموعی طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو دو چیزیں بہت نمایاں نظر آتی ہیں: ایک چیز، اپنی بات منوانے کے لیے تحکم بھرا انداز  اور دوسری چیز، لوگوں کے بارے میں حکم لگانے اور فیصلہ صادر کرنے کا جذبہ ہے۔

تاریخی تعامل میں اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ خلیفہ منصور کے عہد میں جب علما کوعدلیہ اور قانون سازی کے مناصب پر فائز کیا گیا تو وہ بالواسطہ طور پر ریاستی اقتدار میں شریک ہو گئے۔ اِسی سے اُن کے اندر لوگوں کے فکر و عمل پر اپنا تسلط قائم کرنے کا رویہ پیدا ہوا۔ چنانچہ وہ اپنی ہر رائے کو حتمی ، ہر قول کو فیصل اور ہر فیصلے کو حرف آخر سمجھنے لگے۔ اگر کوئی ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف کرتا تو اُس کی حیثیت باغی، گم راہ اور منحرف کی ہوتی۔ اُس کی بات کو دبانا، اُسے لوگوں میں ڈسکریڈٹ کرنا اور اسے نمونۂ عبرت بنانا حق کی حمایت اور دینی حمیت کا لازمی تقاضا قرار دیا جاتا۔

یہ وہ فکر و عمل ہے، جو کم و بیش ایک ہزار سال میں طاقت کے تہذیبی پس منظر سے پیدا ہو کر علما کی نفسیات کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔
لیکن زمانہ بڑا صراف ہے، ستم یہ ہوا کہ جس ماحول نے انھیں یہ رویہ اپنانے کی مہمیز فراہم کی تھی، وہ عثمانیوں اور مغلوں کے خاتمے کے ساتھ یک دم ختم ہوگیا۔ دنیا میں عالمی طاقتوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوا۔ اس کے بعد اب جناب شیخ نہ قاضی القضاۃ رہے، نہ دربار عالی کےمشیر خاص۔ زندگی کی تلخیاں ان کی منتظر تھیں۔ان حقائق کے ساتھ جی کر علما کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ غور کرتے کہ دین نے ان پر کیا ذمہ داری عائد کی ہے اور ان کا مقام ایک ناصح سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ وہ داعی ہیں،قاضی نہیں ہیں۔ لیکن خوئے بادشاہی کہاں جاتی ہے۔ انھوں نے ہوا کے مخالف چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنی عظمت رفتہ کی یافت میں بقیہ دن گزارنے کا عزم کر لیا ۔اور وہ مقام جو ان سے چھن گیا تھا،اس کی یاد تازہ رکھ کر اپنی نفسیاتی تسکین کرنے لگے۔

آخر الامر اب ان کے ہاتھ میں تین ہتھیار بچے تھے، جو اُن کے مقام گم گشتہ کو بحال کر سکتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ان تینوں ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
ان میں سے پہلا ہتھیار ’’تکفیر ‘‘ کا حق ہے۔
ہمارے علما یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے کفر و ایمان کا فیصلہ کر کے انھیں معاشرے میں اجنبی کر دینے کی یہ صلاحیت اور کسی کے پاس نہیں۔ یہ ان کی طاقت کا مظہر ہے ۔نظم ریاست میں وہ بھلے شریک نہ ہوں، لیکن اس کے باوجود ریاست کے سربراہ تک کے ایمان کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ حیثیت مان کر ان سے معاملہ کیا جانا چاہیے!

دوسرا ہتھیار حلت و حرمت کی اتھارٹی (authority ) کا ہے۔
کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر پہننے لگانے کی اشیا تک کے حرام وحلال کا فیصلہ ان کے قلم سے ہوگا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ وہ عدالتوں میں بیٹھ کر یہ فیصلے کرنے کا امکان کھو چکے ہیں، لیکن لوگ اب بھی خود کو مجبور محض سمجھ کر ان کے مدارس کی سلطنتوں میں مودب حاضر ہوں اور ان کی تصویب سے اپنے آلو اور پرفیوم حلال کرائیں،اور اپنے عقیدہ اور ایمان کی سند لیں۔

تیسرا ہتھیار لوگوں کے تقویٰ کی پیمائش ہے، ان کی دینی حیثیت کا  تعین اور ان کے راسخ العقیدہ ہونے اور ان کے مذہبی تشخص کا تعین ہے۔

علما یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے دینی فہم اور ان کے عقیدہ و ایمان کو چیلنج کر کے یہ باور کرا سکتے ہیں کہ یہ نہایت کم زور مسلمان ہیں، لہٰذا ان کی صحیح بات بھی بے وزن ہے۔ وہ نماز میں صحیح ہاتھ باندھنے کی تفتیش ہو یا قرآن کی تلاوت میں غنہ اور سکتے کی غلطی نکالنے کی کوشش ،داڑھی ناپنا ہو،گستاخی کا کوئی الزام لگانا ہو یا پھر مغربی فکر سے مرعوب ہونے کا طعنہ دینا ہو، یہ وہ ہتھیار ہیں، جو ان کی ہیبت کو پورے معاشرے پر قائم رکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ایک احمدی ملزم کے مقدمے میں جب انفرادی طور پر اظہار رائے کا موقع آیا تو چیف جسٹس نے انفرادی راے پیش کرنے والوں کا موقف سننے کی بات کی اور فہرست میں درج عمار خان ناصر صاحب کا نام پکار کر پوچھا کہ کیا وہ موجود ہیں؟ عمار صاحب کمرۂ عدالت میں موجود تھے، مگراِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے، حاضرین میں سے متعدد علما اکٹھے ہو گئے اور عدالت سے یہ مطالبہ کرنے لگے کہ کسی شخص کو انفرادی طور پر ہر گز نہ سنا جائے، صرف اداروں کے نمائندوں کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر کافی بحث و تکرار ہوئی۔ چیف جسٹس کہتے رہے کہ آج ہم سب کو سننا چاہ رہے ہیں، لیکن مذہبی نمائندوں اور بعض وکلا کا موقف یہ تھا کہ اس سے فیصلہ متنازع ہو جائے گا۔ بالآخر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پھر آپ حضرات اس سے متفق ہیں کہ ہم کسی بھی انفرادی رائے کو یہ موقع نہ دیں؟ علما نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ باقی افراد کو بھی نہ سنا جائے، لیکن عمار ناصر کو بالکل یہ موقع نہ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

یہ روداد سن کر مجھے اس طبقے پر بہت ترس آیا کہ انسان اپنی متاع گم گشتہ کی یافت میں جیے تو کیا بن جاتا ہے۔ وہ دلیل کے سامنے آنے سے خوف کھاتا ہے۔ کیونکہ اس کے نظام فکر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی شرح صدر ہوگیا کہ مسائل احمدیت، توہین مذہب اور رسالت سے اوپر اٹھ کر بقا کی جنگ بن چکے ہیں۔
علما کو یہ شدید احساس ہےکہ اگر انھوں نے اپنا وجود باقی رکھنا ہے تو یہ تین ہتھیار ہیں۔ انھیں ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔یہ گئے تو وہ گئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمارے اس تجزیے پر اگر کسی کو کوئی سوال ہو تو وہ مغرب میں جا کر اہل ’’کلیسا‘‘ سے پوچھ لے۔ معلوم ہو جائے گا کہ انھوں نے بھی اپنے زوال کی منزل کو انھی مراحل سے گزر کر حاصل کیا ہے۔
بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply