ثمرِ محبوب: ہان کینگ (ترجمہ: عاصم بخشی)قسط3

SHOPPING

اگلی شام فلیٹ میں قدم رکھتے ہی میں نے اپنی بیوی کو دروازے پر خوش آمدید کے لیے موجود پایا، شاید اس نے برآمدے سے آتی میرے قدموں کی چاپ سن لی تھی۔ پاؤں ننگے تھے اور شاذ ونادر کترے جانے والے ناخنوں کی گولائی میں چمکتی سفیدی تھی ۔

’ہسپتال والوں نے کیا کہا؟‘

جواب ندارد۔ خاموشی سے مجھے جوتے اتارتے دیکھتے ، رخسار پر پڑی بالوں کی ایک لٹ کانوں کے پیچھے سرکاتی ہوئی وہ دوسری جانب مڑ گئی۔

اُف یہ سراپا، میں نے سوچا۔ مجھے یاد آیا کہ کیسے پہلی ملاقات پر جب ہمیں ایک دوسرے سے ملوانے والا میرے دفتر کا سینئر ساتھی ہمیں تنہائی کے لمحے مہیا کرنے کے واسطے اٹھ کر چلا گیا تھا تو میں اپنی مستقبل کی شریکِ حیات کے چہرے پر یہ پراسراریت دیکھ کر کتنا مضطرب ہوا تھا۔یوں لگتا تھا کہ وہ دور کسی گمنام خفیہ جگہ پر آوارہ گردی کر رہی ہے۔پہلی نظر میں روشن اور حسین لگنے والی اس صورت میں   میں یک ایسا غیرمتوقع اکیلا پن دیکھ سکتا تھا جو کسی اور ہی شخص کا محسوس ہوتا تھا، اسی لیے مجھے ایک لمحے کو یقین سا ہو گیا کہ وہ مجھے سمجھ گئی ہے۔ پھر جب اس یقین اورشراب کے ملے جلے نشے میں یہ مجھ سے یہ اعتراف سرزدہوا کہ میں پوری زندگی تنہا رہا ہوں تو وہ چھبیس سالہ عورت جو میری بیوی بننے والی تھی اپنا چہرہ موڑ کر کسی دور دراز افق کو گھورنے لگی، بالکل ایسا ہی سرد، یاسیت بھرا سراپا جو ابھی میرے سامنے تھا۔

’تم ہسپتال گئی تھی؟‘

اس نے مڑتے ہوئے’ ہاں‘ میں ہلکا سا سر ہلایا ۔ کیا وہ اپنی بیمار صورت چھپانا چاہتی تھی یا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تھی؟

’کیا ہوا، خدا کے لیے مجھ سے بات تو کرو۔ ڈاکٹر نے کیا کہا؟‘

’یہی کہ سب ٹھیک ہے۔‘ یہ جملہ زبان کی بجائے اس کی سانسوں سےخارج ہوتا محسوس ہوا۔ لہجہ خوفناک حد تک سپاٹ تھا۔

پہلی ملاقات میں اس کی شخصیت کی سب سے پُرکشش چیز اس کی آواز تھی۔یہ ایک احمقانہ موازنہ تھا لیکن اس کی آواز نے مجھے کسی صیقل ہوئی، چمک دار چائے کی تپائی کی یاد دلا دی ، ایک ایسا فرنیچر کا فن پارہ جو آپ اہم ترین مہمانوں کی آمد پر ہی سامنے لاتے ہیں، جس پر بہترین پیالیوں میں اعلی ترین چائے ہی پیش کی جا سکتی ہے۔ اس رات بظاہر میرے اعتراف پر رتی برابر الجھن محسوس نہ کرتے ہوئے، میری بیوی کا جواب بہت اٹل اور لہجہ ہمیشہ کی طرح مطمئن تھا۔ ’لیکن میں اپنی ساری زندگی کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں گزارنا چاہتی،‘ اس نے کہا۔

اس کے بعد میں نے پودوں کا ذکر چھیڑ دیا۔ اپنے سپنوں کا گھر جس کی پوری بالکونی سبز زرکاغذی اور پودینے کے بڑے بڑے گملوں سے بھری ہو گی۔ گرمیوں میں پودینے کے پودوں پر برف کے ذرات جیسے ننھے پھول کھل رہے ہوں گے ۔ رسوئی میں لوبیے کی کونپلیں پھوٹتی ہوں گی۔ اس پر وہ ذرا کھلکھلا کر ہنسی اور مجھے شک آمیز نظروں سے ایسے گھورا جیسے پودوں کے متعلق یہ گفتگو اس تاثر سے بالکل مختلف ہو جو اس نے میرے بارے میں قائم کر رکھا تھا۔اس کمزور اور معصوم ہنستی ڈھلان سے چمٹے رہنے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے اپنے وہی الفاظ دوبارہ دہرائے: ’میں اپنی تمام زندگی تنہا رہا ہوں۔‘

شادی کے بعد میں نے بالکونی میں گملے تو رکھ دیے لیکن ہم دونوں میں سے کسی کا مقدر کچھ خاص سبز نہیں تھا۔ نہ جانے کیا وجہ تھی لیکن سدابہار پودے بھی جنہیں میرے خیال سے باقاعدہ سیرابی کے علاوہ کسی اہتمام کی ضرورت نہیں تھی ، ایک بھی فصل دیے بغیر مرجھا کر دم توڑ گئے۔

کسی کا کہنا تھا کہ ہمارا اوپری منزل کا فلیٹ زمین کی توانائی سے بہت زیادہ دو رہے، ایک اور صاحب کہنے لگے کہ پودے خراب ہوا اور گندے پانی کے باعث مر رہے ہیں۔ ہم پر یہ الزام بھی لگا کہ ہم زندہ چیزوں کی پرورش کے لیے قلبِ سلیم نہیں رکھتے جو کہ ایک بالکل غلط بات تھی۔ جس طرح پوری دلجمعی سے میری بیوی نے اپنے آپ کو ان پودوں کے لیے وقف کر دیا تھا وہ تمام توقعات سے بڑھ کر تھا۔ اگر کوئی سلاد یا پودینے کاپودا مرجھا جاتا تو اس پر نصف دن پژمردگی طاری رہتی، اور اگر کوئی زندگی سے مضبوطی سے چمٹا نظر آتا تو وہ ادھر ادھر گھومتے ہوئے گنگناتی نظر آتی۔

نہ جانے کیا وجہ تھی لیکن بالکونی میں پڑے مستطیل گملوں میں خشک مٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں حیران تھا کہ سب مردہ پودے کہاں چلے گئے؟ اور وہ بارانی شب و روز کہاں گئے جب میں گملوں کو کھڑکیوں کی سِل پر رکھ آتا تھا تاکہ پودے ٹھنڈی بارش میں تروتازہ ہو جائیں، وہ سب جوان دن کہاں کھو گئے؟

میری بیو ی نے میری طرف مڑتے ہوئے کہا، ’چلو ہم دونوں کہیں دور نکل چلیں۔‘ پودوں کے برعکس جن میں بارش کے دوران ایک نئی روح دوڑ جاتی تھی، میری بیوی پر مزید گہری یاسیت طاری ہو رہی تھی۔ ’اس گھٹن میں رہنا ناممکن ہے،‘ اس نے اپنا لاغر ہاتھ سلاد کے پتوں کی جانب بڑھاتے ہوئے بارش کی پھوار کو بالکونی کی جانب پھینکنے کی کوشش کی۔ ’یہ بارش غلیظ ہے،‘ اس نے کہا،’رینٹھ اور تھوک سے سیاہ۔‘اس کی نگاہیں میری جانب ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے رضامندی چاہتی ہوں۔ ‘یہ زندگی تو نہیں،‘ وہ پھنکاری، ’بس ہمارا گمان ہے کہ ہم زندہ ہیں۔ ‘ اس کی آواز میں اشتعال کے آثار تھے، جیسے کوئی شرابی اونچی آواز میں بڑبڑائے کہ یہ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ’کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ یہاں کچھ اُگ نہیں سکتا؟ یہ گھٹن زدہ شور شرابا۔۔۔یہاں کون قید رہ سکتا ہے!‘

میری برداشت کی حد ختم ہو چکی تھی۔

’کون سی گھٹن ہے؟‘ میں اپنی نئی نویلی ڈری سہمی مسرتوں پر ہوتے یہ تابڑ توڑ حملے مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا، نہ ہی اس کے لاغر بدن سے پرانی دبی ہوئی تکلیفوں کا خون نچوڑتے وہ الفاظ اب مزید قابلِ قبول تھے۔’بولو بھی۔‘ میں نے بارش کا چلو بھر پانی اس کے شانوں پر ٹپکاتے ہوئے پوچھا۔ ’کیا گھٹن زدہ ہے؟ کیا بہرا کیے دے رہا ہے؟‘

میری بیوی کے حلق سے ایک ہلکی سی کراہ نکلی، شدید صدمے کے عالم میں اس کے ہاتھ اپنے چہرے کو نوچنے کی کوشش کر رہے تھے۔بالکونی کی کھڑکی سے میرے چہرے پر بارش کی سرد پھوار پڑ رہی تھی۔ کھڑی میں پڑا گملا بالکونی کے فرش پر گرنے سے پہلے میری بیوی کا پاؤں کچل گیا۔ ٹوٹی ہوئی ٹھیکریاں اور مٹی کے ننھے تودے میری بیوی کے کپڑوں ، اس کے ننگے پاؤں سے چمٹے تھے۔ جھک کر دونوں ہاتھوں سے اپنا زخمی پیر تھامتے ہوئے اس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کاٹ ڈالا۔

ہونٹ کو دانتوں میں دبانا اس کی پرانی عادت تھی، ہماری شادی سے بھی پہلے وہ غصے کے عالم میں یا میری آواز اونچی ہونے پر ہمیشہ یہی کرتی۔ ہونٹ کے ساتھ مصروف ہونا ارتکازِ فکر میں مددگار ثابت ہوتا اور پھر کچھ دیر بعد وہ میری بات یا ہمارے درمیان کسی بھی مسئلے کے متعلق سکون سے منطقی استدلال پیش کرنے لگتی۔ لیکن اس دن بالکونی میں اس کا کٹا ہوا ہونٹ ہی اس کا واحد ردعمل تھا۔ اس دن کے بعد ہم نے کبھی بحث نہیں کی۔

’ڈاکٹر نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے؟‘ میں نے اپنے سینے میں تنہائی اور تھکن کی ایک شدید لہر دوڑتی محسوس کی۔ جب میں نے اپنی جیکٹ اتاری تو میری بیوی نے تھامنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا۔

’اس کا کہنا تھا کہ اسے تو کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا،‘ اس کا منہ بدستور دوسری طرف تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آہستہ آہستہ میری بیوی کی بچی کھچی گویائی بھی جاتی رہی۔ جب تک بات نہ کی جاتی وہ کچھ نہ کہتی اور اس صورت میں بھی اس کا جواب ہاں یانہیں میں بس دھیرے سے سر کی حرکت ہوتی۔اگر میں اپنی آواز بڑھا کر مطالبہ کرتا کہ وہ جواب دے تو آنکھوں میں ایک موہوم سے بے توجہی بھر کر دور خلاؤں کو تکنے لگتی۔اس کے چہرے کی مسلسل بڑھتی زردی اب لیمپ کی مدھم روشنی میں بھی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

چونکہ ڈاکٹر کہہ چکا تھا کہ اسے کسی بیماری کے آثار نہیں ملے لہٰذا میری بیوی کے معدے یا آنتوں کے ساتھ کسی مسئلے کے بجائے یہ صرف کسی ذہنی پریشانی کا مسئلہ تھا۔ لیکن اسے دنیامیں کس چیز کی تمنا کھائے جا رہی تھی؟

پچھلے تین سال میری زندگی کے سب سے پرسکون سال تھے۔ کام بہت زیادہ سخت نہ تھا۔ خوش قسمتی تھی کہ مالک مکان کرایہ بڑھانے پر اصرار نہ کرتا تھا۔ میں نئے گھر کی تمام قسطیں پوری کر چکا تھا۔ بیوی ایسی کہ نہایت حسین و جمیل نہ ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک اچھی شریکِ حیات کے سب وصف رکھتی تھی ۔میرا اطمینان کسی بھرے ہوئے حوض میں نیم گرم ہلکے پھلکے ہچکولے کھاتے پانی کی طرح تھا جومیرے تھکن سے چور جسم کے لیے سکون بخش تھا۔

تو پھر میری بیوی کو کیا مسئلہ ہو سکتا تھا؟ اگر واقعی کوئی خواہش اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی تو سمجھ سے باہر تھا کہ اس کی شدت اس حد تک ذہنی انتشار کا باعث کیسے ہو سکتی تھی۔ خود سے یہ سوال پوچھتے ہی کہ اس عورت کو مجھے اس حد تک تنہا کر دینے کا کیا حق تھا ، مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میرا پورا وجود ایک لاانتہا نفرت کے سیلاب میں بہتا ہوا ، ریت کی کسی قدیم تہہ کی طرح اکیلا ہوتا جا رہا ہے۔

اگلے اتوار یعنی کاروبار کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے بیرونِ ملک دورے سے ایک روز قبل میں نے اپنی بیوی کو بالکونی میں کپڑے سکھاتے دیکھا۔ خراشیں اب اس کے بازوؤں کو اس حد تک بھر چکی تھیں کہ جِلد کے بچے کھچے سفید حصے اب خود نیلاہٹ کے بیچ سفید خراشوں کے دھبوں کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ یہ نظارہ میرے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔ جونہی وہ کپڑوں کی خالی ٹوکری کمرے میں لائی ، میں نے اس کا راستہ روکتے ہوئے سارے کپڑے اتارنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کچھ پس و پیش سے کام لیا لیکن میں نے اس کی ٹی شرٹ اتار دی ، سیاہ ہلکی گہری نیلاہٹ میں رنگا ایک کاندھا میرے سامنے تھا۔

میں گھبرا کر پیچھے کی جانب لڑکھڑایا اور اس کے بدن کو گھورنے لگا۔ بغلی بال جو کبھی ایک دبیز گچھے کی صورت ہوتے تھے اب نصف سے زیادہ گر چکے تھے، نرم بھورے پستانوں کا رنگ اڑ چکا تھا۔

’ایسے نہیں چلے گا۔ میں تمہاری ماں کو فون کرتا ہوں۔‘

’نہیں رکو ، میں خود کرتی ہوں،‘ میری بیوی فوراً چلائی۔ لفظ اس کے منہ سے یوں برآمد ہو رہے تھے جیسے وہ اپنی زبان چبا رہی ہو۔

’ہسپتال جاؤ، سمجھ گئی؟ کسی ماہرِ امراضِ جلد سے ملو۔ نہیں بلکہ جنرل ہسپتال جاؤ۔ ‘ وہ گنگ کھڑی سر ہلا رہی تھی۔ ’تم جانتی ہو کہ میرے پاس تمہارے ساتھ جانے کے لیے وقت نہیں۔ تم خود اپنے جسم کو جانتی ہو، اپنا

خیال تو انسان کو خود رکھنا ہوتا ہے نا؟‘ اس نے ایک بار پھر سر ہلایا۔ ’میر ی بات سنو۔ اپنی ماں کو فوراً فون کرو۔‘ میری بیوی وہاں کھڑی ، بس ہونٹ بھینچے سر ہلا رہی تھی۔ کیا یوں سر ہلانے کا مطلب یہ تھا کہ وہ میری بات سن رہی ہے؟ گمان یہی تھا کہ میرے الفاظ ایک کان سے داخل اور دوسرے سے خارج ہو رہے تھے، میں فرش پر گھٹیا بسکٹوں کے چُورے کی طرح گرتے ہوئے ان کے مسلے جانے کی آواز سن سکتا تھا۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *