گدھوں پر لکھنا آسان ہے۔۔عبدالرؤف

SHOPPING

واقعی گدھوں پر لکھنا بہت مشکل اور جان جوکھوں کا کام تھا، میرے اس دوست نے درست ہی کہا تھا کہ ستر سال سے گدھوں پر لکھا جارہا ہے آپ بھی لکھ کر شوق پورا کرلیجیے گا۔
اور جب ہم نے لکھنا شروع کیا اور کچھ صفحے ہی بھرے تھے کہ وہ سب کچھ ہماری چھوٹی بیٹی نے ڈیلیٹ کردیا، جب ہم نے اپنی لاڈلی بیٹی سے اس بات پر احتجاج کیا تو کہا کہ ابا جان مجھے کیا پتا کہ آپ نے کچھ لکھا ہے۔۔مجھے تو تمام صفحات پر گدھے ہی نظر آئے میرا مطلب ہے گدھے ہی لکھا نظر آیا، اسی لیے گدھوں کو ڈیلیٹ کر دیا۔

اب اک بار پھر میں نے گدھوں پر لکھنا شروع کردیا، اب کی بار کچھ سہولت تھی پہلے کی نسبت۔
اس کی وجہ گدھوں سے انسیت تھی۔

ہمارے یہاں گدھا  ذومعنی ہے وقتاً فوقتاً ہم اس صیغے کو انسانوں پر بھی  لاگو کرتے ہیں، اور جب ہم انسان کو گدھا کہتے ہیں تو اس کے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں، ہمارے یہاں گدھے کے معنی بیوقوف کے ہیں لیکن ہم انسان کو بیوقوف کہنے کے بجائے گدھا کہتے ہیں۔
انسان اور گدھے میں سب کچھ مختلف ہونے کے باوجود بھی انسان کو کہیں نہ کہیں گدھا بننا پڑتا ہے حقیقت میں نہیں محاورتاً،میرے دوست نے مجھ  سے کہا تھا کہ گدھوں پر لکھنا بہت ہی آسان ہے آپ کسی اور میدان میں طبع آزمائی کریں، لیکن مجھے تو گدھوں پر لکھنا بہت ہی  مشکل لگا۔

جب میں لکھنے لگا تو مجھے ہر طرف گدھے ہی گدھے نظر آنے لگے، شش و پنج میں مبتلا ہوگیا کہ گدھوں پر لکھوں کیا؟ رنگ، نسل، شکل، سب کچھ ایک، اقسام ایک، لکھوں کیا ؟ پھر سوچنے لگا ان گدھوں کے ساتھ ان گدھوں کو بھی شامل کرلوں جنھیں ہم محاورتاً گدھا کہتے ہیں، امید ہے گدھوں کو مزید چار چاند لگ جائیں گے۔

آپ حقیقی گدھوں کو چاہے کتنا بھی سدھار لیں وہ گدھے ہی رہیں گے چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، لیکن جنہیں ہم محاورتاً گدھا کہتے ہیں انھیں سدھارنا بھی کوئی زیادہ آسان نہیں،مجھ سے میرے دوست نے پوچھا پاکستان میں گدھوں کی تعداد کتنی ہے؟ میں نے ترنت جواب دیا 22 کروڑ، اس نے مجھے غور سے دیکھا اور دوبارہ مخاطب ہوا، بھیا پاکستان کی آبادی نہیں پوچھ رہا گدھوں کا پوچھ رہا ہوں،
میں نے کہا کوئی زیادہ فرق نہیں بات ایک ہی ہے، ہمارے یہاں گدھوں کو بہت زیادہ گدھا سمجھا جاتا ہے میرا مطلب ہے ہمارے یہاں گدھے کی کوئی اوقات نہیں بلکہ اس کو بہت نچلے درجے کا جانور سمجھا جاتا ہے اور ہر وقت انسانوں کو اس سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

مجھے اچھے سے یاد ہے اب سے کچھ عرصے قبل اس گدھے نما جانور کو لوگ فالتو سمجھتے تھے اور یہ ہر جگہ منڈلاتے نظر آتے تھے انھیں کوئی بھی اپنانے کے لئیے تیار نہیں تھا، لیکن اب کچھ عرصہ ہوا یہ جانور اب پالتو کہلانے لگا ہے اب یہ آپ کو جہاں بھی کسی گلی کوچے میں اٹھکھیلیاں کرتا ہوا نظر آئے سمجھ لو یہ کسی شرفو، کالو کا گدھا ہے۔

اب لوگ اس جانور سے اپنا روزگار وابستہ کیے بیٹھے ہیں، اب یہ گدھا فالتو نہیں پالتو ہے اور نایاب بھی، اب لوگ اسے پیسے میں خریدتے ہیں اور اک اچھا تگڑا گدھا ہزاروں روپے میں خریدا جاتا ہے لیکن رہتا پھر بھی گدھا ہے۔

میں نے تحریر میں جابجا گدھے ہی گدھے بھر دئیے  ہیں ،کیا کرتا گدھے کا متبادل گدھا ہی تھا، اگر قاری گدھوں سے بور ہونے لگیں  تو وہ گدھوں کو آپ جناب کہہ کر پڑھ سکتے ہیں ۔

SHOPPING

ویسے ہم اس جانور کو بہت ہلکا لیتے ہیں لیکن اس پر وزن بہت لادتے ہیں، گدھا واحد جانور ہے جسے زبان زد عام ہر جگہ انسانوں پر لاگو کیا جاتا ہے، آفس میں ماتحت اپنے چپڑاسی کو، گھر میں ماں اپنے بیٹے کو، مالک اپنے نوکر کو، اور پاکستان کے حکمران اپنی عوام کو گدھا کہتے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے ہم گدھوں کے عہد میں ہی جی رہے ہیں ۔

SHOPPING

Avatar
عبدالروف
گرتے پڑتے میٹرک کی ، اس کے بعد اردو سے شوق پیدا ہوا، پھر اک بلا سے واسطہ پڑا، اور اب تک لڑ رہے ہیں اس بلا سے، اور لکھتے بھی ہیں ،سعاد ت حسن منٹو کی روح اکثر چھیڑ کر چلی جاتی ہے،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *