عقل کے اندھے، ٹرین اور کتے

عقل کے اندھے، ٹرین اور کتے
ثنا اللہ احسن
آج لودھراں میں ٹرین نے ایک چنگچی کوکو ٹکر ماردی جو کہ اسکول کے بچوں کو لے کر جارہا تھا۔ ، حادثے کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت نو معصوم بچے جاں بحق اورکچھ زخمی ہوگئے-
اب آئیے زرا تجزیہ کیجئے کہ یہ حادثہ اس لئے پیش آیا کہ پھاٹک موجود نہ تھا۔ جب ڈرائیور کھلے پھاٹک پر پہنچا اور لائن کو عبور کرنا چاہا تو ٹرین کوئ راکٹ نہ تھی کہ چشمزدن میں نمودار ہو کر رکشے کو اڑا گئ پتہ چلتا ہے کہ ٹرین کتنا قریب تھی اور ڈرائیور سمیت چنگچی میں سوار تمام افراد اس دیوہیکل انجن کو اللہ کی عطا کردہ اپنی دو دو آنکھوں سے چشم دید بمشکل دوسومیٹر دور سے آتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اب پھاٹک نہ تھا تو کیا ڈرائیور کی عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت گھاس چرنےگئی تھی۔ کیا یہ بیل گائے مویشی ہیں کہ جن کو روکنے کے لئے باڑھ بنائی جاتی ہے؟ ٹرین کو اتنا قریب دیکھنے کے باوجود ایسی کیا جلدی تھی کہ رکشہ کو پٹری پر اتار دیا اور ابھی رکشہ نکلنے نہ پائی تھی کہ گاڑی سر پر پہنچ گئ!! آٹھ معصوم بچے جان سے گئے اور خود ڈرائیور بھی ھلاک ہو گیا۔ مجھے ڈرئیور سے قطعی ہمدردی نہیں بلکہ میں اسےآٹھ معصوم بچوں کا قاتل قرار دیتا ہوں ۔ آٹھ افراد کے گھرانے اپنی آنکھوں کے تاروں سے محروم ہو گئے صرف اور صرف جہالت اور عاقبت نااندیشی کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ نہ جانے اس قوم کو کس بات کی جلدی ہے؟؟؟
آپ کو ایک واقعہ بلکہ چشم دید منظر بتاتا ہوں۔ آپ نے اکثر گلی محلے کے آوارہ کتوں کو دیکھا ہوگا۔ بتائیے ان کی اوسط عمر کیا ہوتی ہوگی؟ شاید دو یا زیادہ سے زیادہ تین سال۔ ایک کتے کا پلا ایک سال میں مکمل جوان اور بالغ کتا بن جاتا ہے۔ انہی گلی محلوں میں دو تین سال کی زندگی گزار کر یا تو طبعی موت مر جاتے ہیں یا کسی حادثے کا شکار یا پھر میٹروپولیٹن کارپوریشن والوں کی کتا مار مہم میں مارے جاتے ہیں۔ کراچی میں بہت چوڑے چوڑے دو سو اور تین سو فیٹ چوڑے دو رویہ روڈ ہیں۔ ایک روڈ پر یکطرفہ ٹریفک چلتی ہے ۔ دو روڈ کے درمیان گرین بیلٹ ہوتی ہے۔ میں نے دو کتوں کو دیکھا۔ وہ سڑک عبور کرنا چاہ رہے تھے۔ دونوں سڑک کے کنارے کھڑے اپنے دائیں جانب سے آنے والے ٹریفک کو دیکھ رہے تھے۔ کوئ دو منٹ انتہائ صبر سے انتظار کرنے کے بعد جیسے ہی ٹریفک کی روانی میں خلل آیا اور روڈ صاف ہوا دوبوں نے بھاگتے ہوئے روڈ کراس کر لیا اور گرین بیلٹ کے کنارے پر آ کر رک گئے۔ اب وہ بڑے آرام سے بائیں جانب سے آنے والے ٹریفک کو دیکھ رہے تھے اور روڈ صاف ہونے پر اسی طرح بھاگتے ہوئے سڑک عبور کی اور گلیوں میں گم ہوگئے۔ یہ عمل وہ دن میں شاید کئی مرتبہ کرتے ہونگے۔ میں نے بڑی دلچسپی اور حیرت سے یہ نظارہ دیکھا اور بے ساختہ میرے منہ سے سبحان اللہ کے الفاظ نکلے کہ اس معبود حقیقی نے اس جانور کو بھی کیسی عقل کیسا شعور بخشا ہے۔۔۔ کتے جیسی کمتر جانور ہستی بھی بمشکل ایک سال کی عمر میں اپنے ماحول کے مطابق یہ سب سیکھ جاتی ہے۔ وہ الل ٹپ بھاگتے ہوئے سڑک عبور نہیں کرتے بلکہ ان ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہیں جو ان کو کسی نے نہیں سکھائے لیکن ان کی دو آنکھیں اور ننھا سا دماغ بھی اتنا شعور رکھتا ہے۔ یہاں اس اشرف المخلوقات کو عقل و شعور ہونے کے باوجود ڈنڈے اور پھاٹک لگائے جاتے ہیں کہ یہ بیچارہ اتنا شعور بھی نہیں رکھتا کہ اگر سامنے سے پٹری پر ٹرین آرہی ہے تو اپنی گاڑی کو پٹری پر نہ ڈالے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پٹری پر ٹرین اور اس کی گڑگڑاہٹ تو دو کلو میٹر دور سے آتی ہوئ نظر آجاتی ہے۔ مزید ستم یہ کہ ہمارے لوگ ہمارے پیارے پرجوش پاکستانی بغیر سوچے سمجھے اور یہ سب دیکھتے ہوئے بھی کی قصور سراسر ڈرائیور کا تھا کے باوجود حسب معمول مشتعل ہو مورد الزام محکمہ ریلوے کو ٹھہراتے ہیں کہ پھاٹک کیوں نہ لکایا؟ کہ کیا ریلوے حکام کو خبر نہ تھی کہ ہماری پبلک بسیں بے چارے نابینا اور فاترالعقل ڈرائیور چلاتے ہیں! بے شک قصور محکمہ ریلوے کا بھی ہے لیکن اس سے زیادہ قصور ڈرائیور کا ہے جو دن میں دسیوں بار اس لائن سے گزرتا ہوگا۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *