سوچ بدلو خوش رہو۔۔عدیل احمد

SHOPPING
SHOPPING

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا راز کسی نہ کسی حد تک اس قوم کی سوچ میں چھپا ہوتا ہے ۔سوچ اور عقل کی بنیاد پر ہی توایک انسان دوسرے انسان سے سبقت لے جاتا ہے ۔سوچ ہی تو انسان کے اندر نئے نئے سوالات پیدا کرتی ہے اور پھر انسان اسی سوچ کی بنیاد پر ان سوالات کے جوابات تلاش کرتا ہے اور ترقی کرتا جاتا ہے۔

اگر ہم لوگ اپنے معاملات کو اپنے جذبات سے ہٹ کر اپنی عقل و شعور کے ساتھ حل کرنا شروع کر دے تو اس ملک پاکستان سے بے شمار برائیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔اور آج کے معاشرے میں سب سے بڑی برائی چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنا ہے۔ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو ہم ہمیشہ کی طرح اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئےاور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔اور جتنی آواز ہم اپنے جذبات کےذریعے اٹھاتے ہیں دو تین دن بعد اس آواز کا نام و نشاں تک اس دنیا سے مٹ جاتا ہے ۔ہم سالوں سے اس روایت کو برقراررکھتے آئے ہیں اور شاید آئندہ آنے والے سالوں میں بھی یہی  سب کچھ کریں ، کیونکہ ہم نے کبھی سنجیدہ ہو کر اور اپنی عقل و شعورکو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے جیسے واقعات کا کوئی مستقل حل ہی نہیں ڈھونڈا۔حل ڈھونڈنا تو بہت دور کی بات ہم نے کبھی کوشش بھی نہیں کی ۔

آج دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم آج بھی اپنی عقل کو اپنے جذبات پر حاوی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ہماری جذباتی حرکتوں کی وجہ سے تو یہ واقعات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ مجرم کو بھی معلوم ہے کہ انہوں نے بس جذباتی ہونا ہے اور ہم بچ جائیں  گے ۔

SHOPPING

مگر اب میرے خیال سے وہ وقت آ چکا ہے جب ہمیں سوچ بدلنی ہی پڑے گی ۔اب جذبات سے ہٹ کر عقل سے فیصلے کر کےان برائیوں کو ختم کرنا ہوگا ۔کیونکہ اگر انہیں آج نہ روکا گیا تو کل کو یہی  لوگ ہماری ماوَں ،بہنوں،بیٹیوں کی عزت پامال کر دیں گے ۔اب اگر ہم صحیح معنوں میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو عملی اور عقلی طور پر کچھ کر دکھانا  ہوگا ۔کیونکہ سوچ نہیں بدلیں گے تو کچھ نہیں بدلے گا !

SHOPPING
SALE OFFER

Adeel Ahmed 11
Adeel Ahmed 11
حق کی تلاش میں نکلا مسافر، سچ بات کہنے سے ناڈرنے والا،،، حق کے لیے آواز اٹھانے والا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *