عورتوں کے حقوق،کلچر اور مذہبی طبقہ۔۔انعام الرؤف

جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں  وہ مسلمان  معاشرے کی  خواتین کو حاصل کیوں نہیں؟ تو اس پر مذہبی لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ کلچر کی وجہ سے ہے۔سوال یہ ہے اگر یہ مسئلہ کلچر کی وجہ سے ہے تو ہمارے یہ علماء اس  کلچر پر تنقید کیوں نہیں کرتے،جس کی وجہ سے عورت اپنے حقوق سے محروم ہے؟دن رات مغرب پر تنقید کرنے والے کہ مغرب نے عورت کو آزادی کے نام پر نسوانیت کو ختم کر دیا،شمع محفل بنایا وغیرہ وغیرہ والوں سے جب سوال پوچھا جاتا ہے تو روایات اور کلچر کے سر ڈال دیتے ہیں،بھائی اگر عورتیں کلچر کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم ہیں ، تو کلچر کو موضوع بحث بنانا چاہیے نہ کہ مغرب کو۔یہ الگ بات ہے جب آپ پوچھیں  گے کہ وہ کونسا  کلچر ہے تو ان کے پاس کوئی معقول جواب موجود نہیں ہوگابلکہ یہ رویہ دیکھنے کو ملے گا کہ اسلام کے نام پر ہر اس روایت کو تحفظ دیں گے جو عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ ہوگی۔

دوسرے پہلو سے دیکھیے،کیا عورتوں کے  مسجد آنے پر  مکروہ تحریمی کا فتویٰ  دینا کلچر کا مسئلہ ہے یا مذہبی؟ مولانا مودودی کو پارلیمنٹ کو قواموں کہہ کر عورتوں کو اس کا رکن بننے کو ناجائز قرار دینا مذہبی مسئلہ ہے یا کلچر کا؟کیا عورتوں کو تمام حقوق سے محروم کر کے گھر میں قید کرنے والوں کو یہ کہہ کر جواز پیدا کرنا کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے اور عورت کامعنی ہی چھپی ہوئی چیز،یہ مذہبی مسئلہ ہے یا کلچر کا؟۔چادر اور چاردیواری کا جواز پیدا کرکے عورتوں کے معاشرتی کردار کو ختم کرنا مذہبی مسئلہ ہے یا کلچر کا؟ بازاروں میں بے پردہ گھومنے والی عورتیں کا  مسجد میں نہ آنے کی وجہ کلچر ہے یا مذہبی؟اس لیے یہ کہنا باعث تعجب ہے کہ کلچر کی وجہ سے خواتین  اپنے حقوق سے محروم ہیں۔اگر کلچر عورتوں کے حقوق کے لیے رکاوٹ ہوتا  تو آج پاکستانی معاشرے میں خواتین  کو جو حقوق ملے ہیں یعنی عورت (بے نظیر) کا وزیر اعظم ہونا،خواتین  کی آرمی میں شمولیت،کھیلوں میں شمولیت،میڈیا پر کام کرنا،مخلوط تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنا،مخلوط ملازمت،دکانوں میں کام کرنا،گاڑی چلانا،بغیر محرم کے سفر کرنا،بیرون  ملک تعلیم کے لیے اکیلا جانا،کیا یہ آزادیاں یا حقوق صحیح ہیں یا غلط سے قطع نظر کیا کلچر نے نہیں دیا ہے؟آخر ان آزادیوں کے لیے یہ کلچر رکاوٹ کیوں نہیں بنتا؟
خواتین  کے حقوق غصب ہونے کو کلچر کے اوپر ڈالنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں ان کو ملنے والے حقوق بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلچر کا حصہ ہیں ۔اگر مذہب کی وجہ سے ہوتے تو یہ حقوق مذہب کے نمائندہ گروہ اور طبقہ کے خواتیں کو ملتے۔کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ عوام کے مقابلے میں علماء اور دیندار گھرانوں کے خواتیں تعلیم سے لے کر دوسرے حقوق تک زیادہ محروم ہیں؟کیا ہمارے علماء اور مذہبی تحریکوں سے وابستہ افراد عورتوں کو وہ حقوق دیتے ہیں جو انھیں اسلام دیتا ہے یا اپنے مظالم کو کلچر کے نام پر جواز دیتے ہیں؟
جب ایک بزرگ عالم دین سے پوچھا کہ آپ نے عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ کلچر کو قرار دیا ہے اس کی کوئی مثال ؟اس پر کہا کہ خواتین کو مسجد جانے سے روکنا۔ میں نے پوچھا کہ اس پر تو علماء کے فتوی ہیں ۔اس پر بزرگ نے کہا کہ علماء بھی کلچر کے پیداوار ہیں ۔حد ادب کی وجہ سے یہ نہیں پوچھا کہ اہل حدیث علماء حمایت کرتے ہیں کیا کلچر ان پر اثر انداز نہیں ہوتا؟
عورتوں کے حقوق کو کلچر کے اوپر ڈالنے والے ہمارے یہ مہربان اس وقت تک خاموش ہوتے ہیں جب تک حکومت یا مغرب زدہ طبقہ ان کے خلاف کوئی اقدام نہ اٹھائے۔ان کی طرف سے جب اواز اٹھے گی تب مذہبی طبقہ کہیں گے کہ یہ اسلام کے خلاف مغرب زدہ طبقہ کا سازش ہیں،بھائی ان کلچر کے خلاف بولنا اسلام کے خلاف اعلاں جنگ کیسا ہو؟جن کلچروں کی وجہ سے عورت اپنے حقوق سے محروم ہیں۔
یہاں اس پہلو سے بھی غور کریں کہ اسلام میں عورتوں کے جو حقوق مغرب پر تنقید کرتے ہوئے یا موازنہ کرتے ہوئے بیاں کیا جاتا ہے وہ اسلام کی ایسی تعبیر ہے جس پر مسلمانوں کا کوئی مسلک عمل پیرا نہیں۔اسلام کی سیدھی قرآن وحدیث سے یا مختلف مسلک کی اجزا کو ملا کرایک ایسی تعبیر پیش کی جاتی ہے جو عملا اس کرہ ارض پر موجود نہیں۔ایسی تعبیر کو کوئی بھی مذہبی شخص جب اپنی مسلک کی نظر سے دیکھتا ہے تو وہ اس کو خواہشات کی اطاعت یا مغرب سے مرعوب نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی تعبیر چونکہ کسی بھی گروہ میں موجود نہیں تو ایسی صورت میں جب آپ چوچھیں گے کہ آپ کے بیاں کردہ حقوق سے مسلم معاشرے کے خواتیں محروم کیوں ہیں؟تو جواب آئے گا کلچر کی وجہ سے۔
اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھے کہ ہمارے علماء جاہلیت کی ایک ایسی مفہوم بیان کرتے ہیں اور قبل از اسلام دور کا ایسا نقشہ کھنچا جاتا ہے کہ جاہلیت صرف قبل از اسلام کے ساتھ خاص ہوتا ہے حلانکہ جاہلیت کا درست مفہوم معلوم ہوتو ہمارا معاشرہ بھی جاہلیت کا معاشرہ ہے اور ہمیں اس کے لیے قبل از اسلام سے مثال لانے ضرورت نہیں۔آخر ایسا کونسا ظلم ہے جو ہمارے معاشرے میں موجود نہیں؟تمام ظالمانہ رسوم کو قبل از اسلام یا دوسرے تہذیبوں سے منسوب کرکے پھر اسلام میں دیے گئے حقوق بیاں کرکے ہر تقریر یا کتاب کو ختم کیا جاتا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلماں خواتیں کو اسلام کے دئے گئے سارے حقوق ملتے ہیں اس کی وجہ یہ کہ مسلم معاشرے کے عورت کے مسائل سرے سے بیاں نہیں ہوتے۔اس لیے یہ موضوع ہمارے مذہبی کتابوں میں سرے سے غائب ہیں کہ مسلمانوں کے تاریخ میں یا موجودہ دور میں عورتوں کو ان کے وہ حقوق کتنے ملے جو اسلام انہیں دیتا ہے؟یا دوسرے الفاظ میں مسلمانوں نے عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور اس کے کیا وجوہات تھے؟
مصر کے معروف عالم شیخ محمد غزالی فرماتے ہیں,, جب طہ حسیں نے یونیورسٹی میں طالبات کا داخلہ دیا تو دینداروں نے اسے حرام قرار دیا بلکہ لڑکیوں کے لیے خاص اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم مصر پر برطانیہ کے قبضہ کے بعد شروع ہوئی،کہ اس وقت کے رائج روایات اسلام کے نام پر عورت پر جہالت تھوپتی تھیں،، صفحہ نمبر۲۳ کتاب عورتوں کے بارے میں راہ اعتدال۔۔
۹۵۹۱ میں جب چترال میں پہلی مرتبہ زنانہ پرئمری سکول بنا ایک صاحب اپنا واقعہ سناتے ہے؛؛ جب میں نے اپنی بیٹی کو زنانہ پرائمری سکول میں داخل کیا تو محلے کے پیش امام کو پتہ چل گیا انہوں نے عورتوں کی تعلیم کفر کہ کر مجھے آیندہ اپنے اقتدا ء میں نماز ادا نہ کرنے کا حکم دیا،کتاب چترال میں تعلیم نسواں صفحہ نمبر ۵۳۔ منظور احمد۔
یہ 1959کی بات نہیں ہے بلکہ دو سال پہلے سیرت کے ایک پروگرام میں ایک عالم نے عورتوں کی تعلیم کے خلاف ایک گھنٹہ تقریر کی اور آخر میں پوچھا کہ عورت کو ان پڑھ ہونا چاہیے یا تعلیم یافتہ؟ اس پر حاضریں مجلس نے کہا ان پڑھ۔تو مولوی صاحب نے تقریر ختم کی کیونکہ جو سمجھانا تھا وہ لوگ سمجھ گئے تھے۔سوال یہ ہے کہ اسلام کے کسی دوسرے حکم کے بارے میں مولوی صاحب بر سر ممبر اس انداز سے بات کر سکتے ہے؟
اب بات یہ ہے کہ ہمارے مذہبی لوگ ہر مسئلہ کو کلچر کے اوپر ڈالتے ہیں،جس کا نہ کوئی وجود ہے،نہ کلچر کہیں لکھی ہوئی موجود ہے،نہ اس کا دفاع کرنے والا کوئی موجود ہے،اس لیے اپنے غلطیوں کو بھی کلچر کے اوپر ڈال کو فارغ ہو جاتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ جب میں نے مذہبی طبقہ سے جب بھی پوچھا کہ جن کلچروں کو تم عورتوں کے حقوق میں رکاوٹ کہتے ہو کیا کسی نے آج تک ان کے خلاف اسلامی نقطہ نظر سے ان پر بحث کی ، تاکہ کلچر اور مذہب کے فرق واضح ہونے کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر بھی کام ہوتا۔اس سوال کے جواب کا آج تک منتظر ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے یہ جدید مصلحین کا خیال ہے کہ عورتوں کی حقوق سے محرومی کی وجہ مقامی روایات اور کلچر ہیں جبکہ رویتی علماءجن کی دینی تعبیرکو مقامی کلچر کا نام دیا جاتاہے وہ جدید مصلحین کومغربی کلچر سےمتاثر شدہ قرار دیتے ہیں۔اب اللہ جانے کون کس سے متاثر ہیں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عورتوں کے حقوق،کلچر اور مذہبی طبقہ۔۔انعام الرؤف

  1. Well said Linguistics says that meaning is generated through personal experiences of people. As we are receiving the religion through person to person and culture to culture hence many cultural and personal interpretations are added unconsciously .It needs a keen observation and research to seperate both culture Islam and personal mindset. Any how it was a good argument

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *