کچھ زوال، کچھ عروج (23)۔۔وہارا امباکر

سمندر، مقناطیس، موسم، بیماریاں، میٹیریل، روشنی ۔۔۔ آج ہم عام دنیا کے درجنوں موضوعات کو پڑھتے ہیں اور اس نالج سے بے حد عملی فائدہ بھی لیا ہے۔ ایسے غیرمعمولی استعمال جن کا چند صدیوں پہلے سوچا نہیں جا سکتا تھا۔

آج دنیا کے تمام سائنسدانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جدید نیچرل سائنس کا بنیادی میٹافزیکل آئیڈیا یہ ہے کہ نیچر اصولوں کے تحت کام کرتی ہے۔ اس میٹافزیکل خیال کی قبولیت یونان میں طالیس، فیثاغورث، ارسطو کے وقت سے ہی مل گئی تھی۔ البتہ، یہاں سے گلیلیو اور نیوٹن تک پہنچے میں دو ہزار سال لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روم نے 146 قبلِ مسیح میں یونان کو فتح کیا اور 64 قبلِ مسیح میں میسوپوٹیمیا کو۔ روم کا عروج فلسفے، ریاضی اور سائنس کا زوال ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رومی کلچر تجسس پسندی کا نہیں بلکہ عملیت پسندی کا تھا۔ رومی حکمران سسیرو کا ایک قول، “یونانی جیومیٹر کو عزت دیتے تھے۔ ان کے لئے یہ ریاضی کی اعلیٰ ترقی کی علامت تھی۔ ہم نے یہ بات قائم کر لی ہے کہ اس فن کی حد پیمائش اور گنتی تک کی ہے”۔ رومن ری پبلک کے ایک ہزار سال اور اس کے بعد آنے والی رومن ایمپائر میں رومیوں نے تعمیرات اور انجینرنگ کے شاندار پراجیکٹ کئے لیکن ہمیں کوئی رومی فلسفی یا ریاضی دان نہیں ملتا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ریاضی، فلسفے اور سائنس کی ڈویلپمنٹ کا کس قدر گہرا تعلق کلچرل اقدار سے ہے۔

روم میں سائنس کے لئے موافق ماحول نہیں تھا۔ مغربی رومن ایمپائر کے تحلیل ہو جانے کے بعد سن 476 میں حالات مزید خراب ہو گئے۔ خیالات کا گلا گھونٹ دینے والا فیوڈل نظام آ گیا۔ نیچر سے سوال کرنا ایک فضول کاوش قرار پائی۔ مغربی دنیا میں یونانیوں کی انٹلکچوئل وراثت ضائع ہو گئی۔ یورپ اس دور میں داخل ہو گیا جسے آج “تاریک دور” کہا جاتا ہے۔ یہ فکر کی روایات کے چراغ گُل ہو جانے کی تاریکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوش قسمتی یہ رہی کہ یہ وہ وقت تھا جب عرب دنیا کے حکمران طبقے کو یونانی علم میں قدر نظر آئی۔ امیر عرب سرپرست یونانی سائنس کو عربی میں لے جانے کے لئے فنڈ کرنے لگے۔ اور نہ صرف اسے محفوظ اور عام کیا بلکہ اگلے سینکڑوں برسوں میں اسلامی دنیا کے سائنسدانوں نے آسٹرونومی، ریاضی، میڈیسن، پریکٹیکل آپٹکس جیسے شعبوں میں بہت ترقی کی اور جلد ان یورپیوں سے آگے نکل گئے، جن کی انٹلکچوئل روایات مردہ ہو چکی تھیں۔

اسلامک گولڈن ایج کا کوئی ایک مرکز نہیں تھا۔ عباسیوں کا بغداد، فاطمیوں کا قاہرہ، امویوں کا قرطبہ، خوارزمیوں کا گرگانج، اپنے اپنے وقتوں میں ابھرتے اور ڈوبتے رہے۔ آٹھویں صدی کے جابر بن حیان سے پندرہویں صدی کے الکاشی کے بیچ الکندی، الخوارزمی، ابنِ سینا، ابن الہیثم، ابنِ رشد، البیرونی اور بہت سے جیسے عظیم مفکر آتے رہے۔

تیرہویں اور چودہویں صدی یورپ کی بیداری کا وقت تھا۔ اور اتفاق سے یہی وہ وقت تھا جب اسلامی دنیا میں سائنس بہت تیزی سے انحطاط کا شکار ہوئی تھی۔ اس کی ایک نہیں، کئی وجوہات تھیں۔ قدامت پسند فورسز نے علم کو مفید (نافع) اور غیرمفید (غیرنافع) میں تقسیم کر کے غیرمفید کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ یہ وہی فکر تھی جو رومن سلطنت کی تھی اور “جو عملی نہیں، وہ بے کار ہے” کا منتر تھا۔ فطرت کے کام کرنے کے طریقے کا سراغ لگائے جانے کی روایت پس منظر میں چلی گئی۔

فکر کو پنپنے کے لئے سوسائٹی کو سرکاری یا پرائیویٹ کسی بھی طریقے سے اس کی سرپرستی کرنا ہوتی ہے۔ اسلامک دنیا بیرونی حملوں کا شکار تھی جس میں چنگیز خان، صلیبی جنگیں، ہونے والی اندرونی تلخ فرقہ وارانہ جنگیں اور مختلف علاقوں کے آپس میں سخت جھگڑے شامل تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا جو ذرائع آرٹ اور سائنس پر استعمال ہو سکتے تھے، وہ گھوڑوں اور تلواروں کی طرف چلے گئے۔ بقا کی جنگ نے حصولِ علم کی کاوش ختم کر دی۔

ایک اور مسئلہ یہ تھا کہ وہ فکر در آئی جو سائنس کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ تعلیمی نظام کی کشمکش میں کئی جگہوں پر یہ والی سوچ غالب آ گئی۔ اور اس میں فلسفہ اور سائنس پیچھے رہ گئے۔ یہ مضامین تعلیمی اداروں سے بے دخل ہو گئے۔ باقاعدہ ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بہت شاندار سائنسی دماغوں کا ایک دوسرے سے رابطہ نہ رہا جس نے سائنسی تربیت اور ریسرچ کی سپیشلائیزڈ تربیت میں بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی۔

سائنسدان اکیلے نہیں کام کرتے۔ کر ہی نہیں سکتے۔ عظیم ترین سائنسدان بھی اپنے شعبوں میں ایک دوسرے کے کام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنے ہم عصروں سے رابطہ، فکری مباحث، خیالات کا تبادلہ اور اس سب کی حوصلہ افزائی کا کلچر۔ خیالات کے زرِ گل کا یہ تبادلہ نئے پھول کھلاتا ہے۔ فکری تنقید کی آزادی کے بغیر ایسے خیالات کا جڑ پکڑ لینا اور خودرو جھاڑیوں کے طرح بڑھتے چلے جانا، جن کا کوئی جواز نہ ہو آسان ہو جاتا ہے۔ سائنسدان، فلسفی، مفکر انہی روایتی خیالات کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ یہ اکا دکا لوگ نہیں کر سکتے۔ اس کے لئے ایک کریٹیکل ماس کی ضرورت ہے۔

صدیوں تک موافق رہنے والے یہی حالات تھے جو اسلامی دنیا کا خاصہ رہے تھے۔ انہی نے دنیا کے بڑے علاقوں پر اپنی کلچرل برتری منوائی تھی۔ ویسے ہی جیسے سکندرِاعظم کی فتوحات محض عسکری فتوحات نہیں تھی، یونانی روایات کی کلچرل فتح بھی تھی۔ اس سے زیادہ بڑی کلچرل فتوحات ہمیں اس دور میں نظر آتی ہی۔ لیکن پھر کئی وجوہات کے سبب یہ ختم ہوتے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور شاندار تہذیب چین کی تھی۔ اور ایسی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہاں پر سائنسی انقلاب یورپ سے پہلے نہ آتا۔ چین میں ہائی مڈل ایج میں دس کروڑ سے زیادہ آبادی تھی جو یورپ سے دگنی تھی۔ علاقے میں سیاسی استحکام بھی تھا۔ لیکن یہاں پر تعلیمی نظام سائنسی فکر کی ترویج کے حوالے سے ناکارہ رہا۔ پڑھنے لکھنے اور اخلاقی تربیت پر بہت زور تو رہا لیکن تخلیقی صلاحیت اور innovation پر بالکل بھی نہیں۔ منگ سلطنت کے 1368 میں آغاز سے انیسویں صدی کے آخر تک کلچرل حالات ایسے ہی رہے۔ ٹیکنالوجی میں تو ترقی ہوتی رہی۔ سائنس میں تقریباً نہیں۔ فکری جمود کو چیلنج کرنے والے مفکر جو سوچ کے نئے زاویے متعارف کروا سکیں، ہمیں چین میں اس دور میں مفقود نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی سخت حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ علم کو آگے بڑھانے کے لئے ڈیٹا کا استعمال منع تھا۔

جبکہ اس وقت میں انڈیا میں قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ کا مقصد ذات پات کے سسٹم کے ذریعے معاشرے کو مستحکم رکھنے پر تھا اور وہ اس میں کامیاب رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر کوئی گیارہویں صدی کی دنیا کو دیکھ کر پیشگوئی کرتا کہ کونسا علاقہ دنیا کو آنے والی صدیوں پر غالب رہے گا اور کہاں سے نکلنے والی فکر دنیا بھر میں پھیلے گی تو عرب یا چین کا کہتا یا پھر انڈیا کا۔ اور ان علاقوں میں کئی دوسرے شعبوں کے عظیم مفکر پیدا ہوئے لیکن وہ سائنسدان جنہوں نے جدید سائنس تخلیق کی؟ یہ اس علاقے میں ہوا جہاں کا اس وقت کوئی بھی اندازہ بھی نہ لگا سکتا۔

یہ دنیا کا پسماندہ خطہ تھا جو اپنی طویل جنگوں، جابرانہ فیوڈل نظام اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ یوریشیا کے مغرب میں یورپ، جہاں پر جدید سائنس کی پیدائش ہوئی۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *