ڈسٹ بِن۔۔ربیعہ سلیم مرزا

کبھی آپ نے لال چہرے والی لڑکی دیکھی ہے؟

دہکی ہوئی لال سرخ، جس کے گال چھونے سے خون پھوٹ پڑنے کا ڈر ہو ۔
میں نے دیکھی ہے ۔!
“وہ بھی اپنے گھر میں ،اپنے کمرے میں ”
وہ میرے کپڑے پہنے، میرے ہی بیڈ پہ ترچھی لیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔
واش روم سے پانی گرنےکی آواز آ رہی تھی ۔آن لائن منگوایا میرا برانڈڈ سوٹ اسکے جسم پہ کچھ ڈھیلا سالگ رہا تھا۔مجھے دیکھ کر اسکی نیلگوں آنکھوں کا رنگ بدل گیا ۔
کمرہ میرے دل کی طرح بے ترتیب سا ہورہاتھا۔۔
سنگھار میز کے آئینے میں ہم دونوں کے عکس ،دو مختلف کہانیاں سنا رہے تھے ۔
میں نے حیرت کا بس ایک لمحہ بھگتا اور الٹے قدموں باہرآتےہوئے دروازہ بندکردیا۔۔۔

نجانے کیوں مجھے اسکی بیڈروم میں موجودگی پہ حیرت نہیں ہوئی ۔غصہ بھی نہیں آیا ۔بس سینے میں کچھ تڑخ سا گیا ۔
سن ہوتے پیروں سے میں صوفے پہ ڈھےگئی، جسم سے روح سرک رہی تھی ۔
“کیا مجھے چیخ چیخ کر رونا ہے؟”یہ احمقانہ سوال میں نے خود سے ہی پوچھ لیا ۔
” نہیں، میں اتنی کمزور نہیں ہوں ۔”
دل میں اٹھتے ہول ذرا تھمے ہی تھے کہ احمر کی سٹپٹائی آواز سنائی دی۔
“تم کب آئیں؟ تمہیں تو کل آنا تھا نا”؟
میں نے اس کو غور سے دیکھا،نظر اسکے جسم کو کھوجتی ،چہرے پہ پھسلتی اسکی آ نکھوں تک آکر رک گئی ۔
“وہ نہایا ہوابھی، کتنا میلا لگ رہا تھا ”
“یہ کون ہے ؟ ” میں نے کمرے کی طرف دیکھ کر کہا ۔
“ارے، وہ،وہ مجھے سڑک پہ ملی تھی۔اتنا لال چہرہ دیکھا تو سوچا بہترین سبجیکٹ ہے ۔مانگنے والی ہے ۔۔۔
اتنی شاندار تصویریں شوٹ ہوئی ہیں کہ حیران رہ جاؤ گی۔
فوٹوگرافی کا جنون اس کے لہجے میں بول رہا تھا ۔
“وہ مانگنے والی ہے یا تم ؟ میرے کپڑے میرا میک اپ استعمال کرواکے تم اس کی تصویریں کھینچ رہے تھے ؟”
اس کے پروفیشن اور جنون کو سوچ کر مجھے لڑنے کیلئے کچھ نہیں سوجھا .
“یار، وہ سوٹ تم پہ تنگ تھا، اسکے میلے کپڑے دیکھ کر میں نے تمہارا سوٹ پہننے کو دے دیا، اور میک اپ تو تمہیں پتہ ہے، شوٹ کی ضرورت ہے۔میں نے خود بس ہلکا سا اس کی آنکھوں پہ ٹچ لگایا ہے “وہ اپنی رو میں بتا رہا تھا ۔
کاش میں عام عورتوں کی طرح چیخ چیخ کر روتی ،فوٹو گرافر کی بیوی ہونا کم اذیت ناک تھا، جب وہ اسکرین پہ لڑکیوں کے خدوخال دکھا دکھا کر سمجھاتا کہ کس زاوئے سے دیکھنے والوں کی سوچوں کے راستے بدلتے ہیں لائٹ اور شیڈز سے کس طرح قوسوں میں قزح اترتی ہے ۔”
گزشتہ آٹھ برسوں میں کتنے مناظر عکس در عکس کھلنے لگے۔
“تم اس گڑوی والی کو گھر کیوں لائے “؟میں پھر ٹوٹ گئی، پھر چیخ اٹھی
“وہ۔بس جانے لگی ہے۔مجھے اپنی ماں کی قسم ،ایسا ویسا کچھ نہیں جو تم سوچ رہی ہو ،بس تصویریں کھینچی ہیں”

وہ میرے چیخنے سے گھبرا گیا ۔مجھے بھی لگا کہ اونچی آواز بداعتمادی کی علامت ہے ۔احمر بس فوٹو گرافر ہے ۔
“اور سارا میرا ہے ۔”
اور ہم پڑھی لکھی عورتوں کا تو یہ بھی المیہ ہے کہ ہم ایسی کسی آگہی کی دلدل میں نہیں اترناچاہتیں ،جو رشتوں کو کھا جائے ۔
اب میں کیا کروں؟ ایک ہی سوال میرے گرد سانپ کی طرح لپٹا تھا، اعتبار، انا، غیرت، خود داری سب داؤ پہ لگ چکی تھی۔مجھے لگ رہا تھاکہ کچھ ایسا ویسا ہواتومیں کیا کرسکتی ہوں، اس سلگتے تُونبےکی دھیمی دھیمی لو پہ تمام عمر سلگنا پڑے گا
مائیں شادی سےپہلے، بیٹیوں کےدل کوسنبھالنے کے سو سر بند کرتی ہیں، کہ سنبھل جاؤ، کسی کی محبت تمہاری منتظر ہے۔لیکن زندگی کے ایسے موڑ سے نمٹنے کے بارے ميں کوئی گر کیوں نہیں بتاتیں
“اس نے جو کچھ بھی استعمال کیا ہے، سب اسے دیدو، اسے ابھی نکالو “۔ایک لمحے کو احمر کےچہرےکارنگ بدلا۔
میرے رنگ بدلتے۔چہرے کو دیکھ احمر ہاتھ جوڑ کر قدموں میں بیٹھ گیا۔
“میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں ۔وہ تو بس ۔۔۔۔۔
آرٹسٹ ہوں نا، اس وجہ سے۔۔۔رنگ کی کشش سے یہاں لے آیا
میں نے سوچا، “چہرہ اتنا لال ہے تو باقی۔۔۔۔۔۔۔، بس۔
میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا، قسم لے لو۔”
پھر وہ چلی گئی ۔احمر کو بھی تین روزکیلئے جیوگرافک چینل والوں کے ساتھ جانا تھا ۔
وہ بھی پیکنگ کرکے چلا گیا ۔خالی گھر اور میرا کمرہ ۔
۔مجھے اپنے ہی بستر پہ بیٹھتے پتا نہیں کیوں گھن آ رہی تھی، یقین تھاکہ اسکے لبوں کوکسی نے نہیں چوما ہو گا۔یہ بانہوں کے حصار، کسی کے گردنہیں لپٹےہوں گے،
“مجھے یہ سب بھول جانا تھا”
اعتبار اور بے اعتباری کے باٹ میں، اعتبار کا پلڑا ہمیشہ جھکتا ہے۔تمام رات، سوچوں کے ہنڈولے میں ہلکورے لیتے گزر گئی۔تنہائی نے مجھے اس بات کا احساس دلایا کہ تنہا ہونا ,کتنا اکیلاہونے جیسا ہوتا ہے ۔۔۔

میں نے اچھا کیا ۔،کچھ بھی تو نہیں تھا ۔۔

اگلے دن چھٹی تھی، میں نے واشنگ مشین سنبھال لی اور راشدہ کو آتے ہی صفائی پہ لگادیا ۔
پندرہ منٹ بعد ہی وہ بڑبڑاتی ہوئی آئی اور کہنے لگی
“باجی جی، کتنی دفعہ کہا ہے یہ کنڈوم ڈسٹ بن میں نہ پھینکا کریں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *