• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پہلی جنگ عظیم(چھٹی قسط) وردون، سوم اور ڈیڈلاک کا خاتمہ۔۔۔۔آصف خان بنگش

پہلی جنگ عظیم(چھٹی قسط) وردون، سوم اور ڈیڈلاک کا خاتمہ۔۔۔۔آصف خان بنگش

وردون، سوم اور ڈیڈلاک کا خاتمہ (Verdun, Somme and breaking of the deadlock)

پہلی جنگ عظیم کا ذکر خندقوں کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ اس جنگ کا خیال آتے ہی جو چیز پہلے ذہن میں آتی ہے وہ خون آلود خندقیں ہیں۔ مشرقی محاذ کے برعکس مغرب میں جنگ خندقوں میں لڑی گئی۔ اتحادیوں کی طرف سے جرمن پیش قدمی دریائے مارن کے کنارے رکنے کے بعد جرمن اونچی زمین پر مورچہ زن ہو گئے تھے اور فرانس نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 500 میل لمبی خدقیں جو چینل سے سویٹزرلینڈ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسکا مقصد کم افراد کے ساتھ دشمن کی پیش قدمی کو روک کر افرادی قوت دوسرے محاذ پر منتقل کرنا تھی۔ ڈیڈلاک توڑنے کا مطلب اقدامی کاروائی تھی لیکن ان خندقوں پر حملہ کرنے سے زیادہ آسان ان کا دفاع کرنا تھا۔ تمام تر خاک و خون اور خوفناکیوں کے باوجود خندقوں نے جانیں بچائیں۔ یہ خندقیں خوف و تعفن سے بھرپور، لاشوں سے لدی ہوئی ضرور تھیں لیکن جہاں مشین گنیں آگ برساتیں اور شیلنگ سے تباہی برپا تھی وہاں یہ محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ خطرہ تب تھا جب آپ اسے چھوڑ کر باہر نکلیں۔ لیکن جرنیل جانتے تھے کہ جنگیں خندقوں میں بیٹھ کر نہیں جیتی جاسکتیں۔ جلدی یا بدیر ان خندقوں سے نکلنا تھا اور اسکا مطلب تھا بھاری جانی نقصان۔ یہ جرنیل حقیقت سے واقف تھے اور ان میں اچھے جرنیلوں کی تعداد برے جرنیلوں سے زیادہ تھی یہی وجہ تھی کہ جرمنی نے جنگ میں 71 جرنیل ہارے، فرانس نے 55 اور 78 برطانوی جرنیل لقمہ اجل بنے۔

جرمنی نے وردون (Verdun) کے مقام پر ڈیڈلاک توڑنے کی کوشش کی۔ یہ قلعہ نما شہر 19 قلعوں سے محفوظ کیا گیا تھا لیکن جنگ میں رفتہ رفتہ فرانس نے یہاں سے توپیں وغیرہ دوسرے محاذ پر منتقل کیں جس سے شہر کی حفاظت میں کمی آئی تھی۔ ایک فرانسیسی کرنل نے حکومت کو آگاہ کیا کہ افرادی قوت کی کمی سے حالت نازک ہو سکتی ہے اگر کوئی بڑا حملہ  اگلی صفوں کو چیر کر آگے بڑھتا ہے تو دوسری صفیں اسے نہیں روک پائیں گی۔ 21 فروری 1916 کو 1 لاکھ جرمن فضائی برتری کے ساتھ توپوں کی گھن گرج میں آگے بڑھے۔ جرمن فوج نے اس دن قریب 10 لاکھ گولے داغے۔ جرمن فوج کے کچھ دستے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں آگے جاتے، دائیں بائیں بھاگتے ہوئے جگہ بناتے، وہ نئے ہتھیاروں سے لیس تھے جس میں مارٹر، گرینیڈ اور فلیم تھروور (Flame Thrower) شامل تھے۔ ان دستوں کو طوفانی سپاہی (Storm Troopers) کہا گیا۔ یہ آگے بڑھتے دشمن پر آگ برساتے جاتے۔ وردون بیسویں صدی کی اہم ترین لڑائیوں میں سے تھی۔ اس میں حصہ لینے والوں میں ایک جوان لفٹین پالس (Lieutenant Paulus) جو دوسری جنگ عظیم میں جرنیل تھے اور انہوں نے ہی سٹالن گراڈ کا محاصرہ کیا۔ 25 سالہ چارلس ڈی گال (Charles de Gaulle) بھی وہاں تھا، زخمی حالت میں قیدی بنایا گیا جو مستقبل میں فرانس کا حکمران بننے والا تھا۔ تین دن کی لڑائی کے بعد جرمن فوج نے (Douamont) پر قبضہ کر لیا یہ وردون کا ایک اہم قلعہ تھا۔ جرمنی میں جشن کا سماع تھا۔ فرانس کے لیئے وردون کا دفاع ہر قیمت پر  ضروری تھا، فرانس کی سلامتی داؤ  پر لگ گئی تھی۔

وردون کے نئے کمانڈر جرنل فلپ پیٹین (General Philippe Petain) نے سپاہیوں میں نئی روح پھونکی، لیکن وہ سپاہیوں کی جان کے بارے میں فکرمند رہنے والے جرنیل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 25 سال بعد انہوں نے ہٹلر کے سامنے سرنڈر کیا تا کہ وردون جیسے خون خرابے سے بچا جا سکے۔ 1915 میں اتحادیوں نےجرمنی کی طاقت کو تقسیم کیا روس کے مشرق میں حملے کی وجہ سے جرمنی کو کچھ فوج وہاں بھیجنی پڑی۔ جون کے مہینے میں فرانس نے جوابی وار کیا اور بھاری نقصان کے بعد جرمنی کو واپس دھکیل کر وردون کو گرنے سے بچا لیا تھا۔ یہ وردون ہی تھا جس نے فرانس میں ایک نئی روح پھونکی اور 1870 میں جرمنی کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ دوبارہ ایک قوم بن کر ابھری۔ فرانس نے وردون کی لڑائی سے کافی کچھ سیکھا لیکن اسے قریب 3 لاکھ جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ جرمنی کا نقصان اس سے بھی زیادہ ہوا تھا لیکن جرمنی چونکہ کمزور اتحادیوں کی وجہ سے اکیلا لڑ رہا تھا اس لئے وہ اس پیمانے پر نقصان برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اور یہی وجہ اسے اگلے 2 سالوں تک کوئی بڑا حملہ کرنے سے روکے رہا۔

500 میل کے اگلے مورچوں میں زندگی ہمیشہ ایک جیسے نہیں تھی۔ اتنا عرصہ ایک دوسرے پر گولے برسانے کے بعد کہیں فوجیوں میں جیو اور جینے دو کی مثالیں بھی موجود تھیں۔ وہ اب جنگ کے عادی ہوگئے تھے۔ کبھی وہ خندقوں سے باہر آکر دھوپ میں لیٹ جاتے۔ کبھی وہ اگلے مورچوں پر پیانو بجاتے۔ ایک فوجی لکھتا ہے کہ ہمارے سیکٹر میں جنگ الگ ہے ہم کبھی فٹ بال بھی کھیلتے ہیں، یا لانگ جمپ یا پھر دوڑ لگاتے ہیں۔ انعام میں ایک چاکلیٹ ہوتی ہے۔ کبھی کبھار دشمن پر گولہ باری ہوتی ہے لیکن اگر ہم دشمن کو راشن سے محروم کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ بھی ایسا کرے گا اس لئے ہم جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم اکثر دشمن کی پوزیشن پر کھانا پکتے وقت آگ اور دھواں دیکھتے ہیں لیکن ہم کھانے میں رکاوٹ نہیں ڈالتے۔ ایک بار تو دشمن کا ایک سپاہی کھانا کھانے ہمارے پاس آگیا۔ کبھی ہمارے افسر ہمیں دشمن پر بم برسانے کو کہتے ہم اس سے خوش نہ ہوتے تو ہم پہلے سے سیٹی بجا کر دشمن کو آگاہ کرتے کہ وہ خود کو محفوظ کر لیں۔ لیکن یہ معاملہ وہاں ہوتا جہاں سپاہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ورنہ دوسرے سیکٹرز میں جنگ پورے آب و تاب سے جاری رہتی۔ ہائی کمان کو اس جیو اور جینے دو سے سخت کوفت ہوتی اور وہ چھاپے مارتے، سزائیں دیتے روزانہ رپورٹ طلب کرتے یہاں تک کہ پٹرولنگ افسر غلط رپورٹ بھیجنے لگے۔ ایک رات ایک پٹرولنگ پارٹی پر حملہ ہوا ایک کارپورل کی ٹانگ اڑ گئی۔ وہ خوشی مناتا ہوا واپس آیا کہ شکر ہے میں اس لمحے کا 18 ماہ سے انتظار کر رہا تھا اب میں واپس گھر جا سکوں گا۔

جیو اور جینے دو کی پالیسی ہر جگہ کارگر نہیں تھی ، کبھی شیلنگ میں کسی ساتھی کی موت جوانوں پر جنون طاری کرتی ۔ کبھی وہ دشمن پر دھاوا بولتے اور دشمن کو آ لیتے، پھر رحم کی بھیک مانگنے والوں کو بھی گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا۔ کبھی انہیں بندی بنا کر انہیں پروپیگنڈہ ویڈیوز میں استعمال کیا جاتا۔ جنگ کا سپاہیوں کے گھر والوں پر بھی اثر تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ جنگ سے واپسی ہوگی بھی یا نہیں۔ قیدیوں کی بھی یہی مشکل تھی۔ ایک سپاہی کی بیوی اسے لکھتی ہے کہ تمھیں دو سال ہو چکے گئے ہوئے، اب میری خواہشات پھر سے جنم لینے لگی ہیں۔ اگر تم واپس نہ آئے تو مجھے مجبور اًٍ نہیں کہیں اور سے پورا کرنا پڑے گا۔ آخر انسان لکڑی کا تو نہیں بنا ہوا۔ جہاں کچھ کا صبر جواب دے گیا تھا وہیں کچھ ایسی خواتین بھی تھیں جو انتظار کر رہی تھیں۔ ایک جرمن اپنے شوہر کو لکھتی ہے کہ دل میں کبھی خیال مت لانا کہ تم اپنے پیچھے کسی بے وفا کو چھوڑ گئے ہو۔ گھر والوں کے خطوط سپاہیوں کا حوصلہ تھے۔

1916 میں ہونے والی خوفناک لڑائی سوم (Somme) میں لڑی گئی۔ جنرل رالنسن (General Sir Henry Rawlinson) نے اسے ایک اہم پیش رفت کہا جو کہ افراد سے زیادہ اسلحہ کے زور پر لڑی گئی۔ فرانسیسی اس میں آگے تھے لیکن وردون پر ٹکر کے بعد برطانیہ کو اسکا زور سہنا پڑا۔ سر ڈگلس ہیگ پر کچھ کر گزرنے کا دباؤ تھا۔ جب 24 جون کو برطانوی توپوں نے سوم پر بمباری شروع کی تو 160 میل دور لندن میں کھڑکیاں لرزنے لگیں۔ لیکن 7 دن کی بمباری کے بعد بھی جرمن توپیں خاموش ہوئیں نہ ان کا دفاع کمزور ہوا۔ جہاں فرانس کی فوج کچھ بمباری کے بعد سپاہی آگے بھیجتی جو آگے پوزیشنز کوسلامت حالت میں پا لیتیں وہاں برطانوی اتنی آگ برساتے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا۔ 1 جولائی کو فرانس کے بہت کم نقصان کے بعد اپنے تمام اہداف پا لئے جبکہ برطانیہ 57،470 جانیں گنوا کر بھی کچھ نہ حاصل کر سکا۔ یہ برطانیہ کی تاریخ میں ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔ جہاں جرمن فوج اپنے ماہر جنگجوں پر انحصار کر رہی تھی برطانوی تکنیکی جنگ کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن سوم میں اس سب کے لئے دیر ہو گئی تھی۔

جنرل ہیگ نے اس لڑائی کے لئے ذمہ داری قبول کی جہاں اہداف کے حصول میں ناکامی ہوئی اور دونوں اطراف قریب 5 لاکھ افراد جان سے گئے۔ اب کمبرائے (Cambrai) میں برطانیہ نے پہلی بار ٹینکوں کا استعمال کیا۔ ٹینکوں کو ہموار سخت زمین کی ضرورت تھی، اب توپخانہ زمین نہیں کھود رہا تھا۔ 300 ٹینک اگلی صفوں کو چیرتے ہوئے جرمن خندقوں تک پہنچ گئے۔ ٹینک ایک کمال کی ایجاد تھی جو جانیں گنوائے بغیر حرکت کرتے اور دشمن کو آ لیتے۔ جرمن 5 میل تک پسپا ہو گئے تھے اور پہلی بار اتحادی آگے بڑھ رہے تھے اور ان کی توپیں حرکت کر رہی تھیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اب کے برطانیہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جیسے وردون کی وجہ سے جرمنی میں خوشی منائی گئی تھی۔ کچھ گاؤں اب بھی جرمن کے قبضہ میں تھے۔ فلسقیریز (Flesquieres) ان میں سے ایک تھا۔ جہاں ایک توپ ٹینک کے خلاف استعمال کے لئے بنائی گئی تھی۔ اس نے پہلی بار ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اس گاؤں میں جرمنوں نے 32 ٹینک تباہ کئے۔ بہت سے ٹینک طوفانی دستوں نے ناکارہ بنا دیئے تھے۔ جرمن لاریوں میں اینٹی ائرکرافٹ گنز لگا کر ٹینکوں کا نشانہ بنایا۔ ایک ہی ہفتے میں جرمنوں نے فضائیہ اور طوفانی دستوں کے ساتھ تمام کھویا ہوا علاقہ واپس لے لیا تھا۔

اگلی قسط میں جٹلینڈ (Jutland) میں جرمن اور برطانوی نیوی کا ٹاکرہ، جاسوسی کی تاریک دنیا اور امریکہ کی جنگ میں آمد کا احوال

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *