شہر (11)۔۔وہاراامباکر

“میں اس لئے دور تک دیکھ سکا ہوں کیونکہ میں دیووں کے کاندھوں پر کھڑا تھا”۔ یہ الفاظ نیوٹن کے 1676 کے لکھے خط میں ہیں۔ یہاں پر دیو سے مراد ان کی خود رابرٹ ہُک اور ڈیکارٹ جیسے نابغے تھے۔ (ان کی ہّک سے رقابت بعد میں شروع ہوئی)۔ نیوٹن کو اپنے سے پہلے آنے والوں کے خیالات سے یقیناً فائدہ ہوا۔ یہاں تک کہ اس جملے کی اپنی تشکیل میں بھی۔ 1621 میں ویکار رابرٹ برٹن لکھتے ہیں۔ “اگر ایک بونا ایک دیو کے کاندھے پر کھڑا ہو تو بونا دیو کے مقابلے میں زیادہ دور تک دیکھ سکے گا”۔ جارج ہربرٹ نے 1651 میں لکھا کہ “اگر ایک بونے کو دیو سے زیادہ دور تک دیکھنا ہو تو وہ دیو کے کندھے پر سوار ہو جائے”۔ 1659 میں ولیم ہکس نے لکھا، “ایک پگمی ایک دیو کے کندھے پر ہو تو زیادہ دور تک دیکھ سکنے والا پگمی ہو گا”۔ سترہویں صدی میں بونے اور دیو کی یہ تشبیہہ انٹلکچوئل کارناموں کے لئے ایک عام رائج تصور تھا۔ الفاظ اور خیالات کا اظہار ایک کلچر کے بہاوٗ کا حصہ ہے۔

اگرچہ نیوٹن اور دوسرے اپنے سے بالکل پچھلے والوں کی بات کر رہے ہوں گے لیکن ان کے خیالات کے پیچھے ہزاروں سال کا سفر تھا۔ آج اگر ہم خود کو علم کے حوالے سے ایڈوانسڈ سمجھتے ہیں تو یہ ان حیران کن ایجادات کے بل بوتے پر ہے جو نیولیتھک دور کی آبادیوں میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ہم ان سے زیادہ دور تک اس لئے نہیں دیکھ سکتے کہ ہم اونچے قد والے دیو ہیں۔ تجریدی علم اور ذہنی ٹیکنالوجی، جو ان قدیم تہذیبوں سے ایجاد ہوتی رہی ہیں، ان کا کائنات کے بارے میں ہمارے آج کے خیالات تشکیل دینے میں اہم کردار ہے اور ہماری اس صلاحیت کے بارے میں بھی جو ان خیالات کو explore کرتی ہے۔

ابتدائی شہر اچانک ہی نہیں اگ آئے۔ ایسا نہیں تھا کہ خانہ بدوش گروہوں نے ایک روز اکٹھے بیٹھے کا سوچا اور پھر شہر بن گئے اور اس میں سموسے اور چکن ڈرم سٹک بکنے لگیں۔ یہ ایک تدریجی سفر تھا۔ زرعی زندگی جڑ پکڑ گئی۔ لائف سٹائل تبدیل ہوا اور یہ صدیوں کا وقت ہے جب یہ رفتہ رفتہ تبدیلی آئی ہے۔ اس لئے اگرچہ یہ تفریق مبہم ہے لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتدائی شہر قریب قرب چھ ہزار سال پہلے نمودار ہوئے۔

ان ابتدائی شہروں میں ایک بہت اہم شہر اوروک تھا جو موجودہ عراق میں بصرہ سے جنوب مشرق میں ہے۔ یہ رہنے کے لئے آسان جگہ نہیں لیکن اس کا جغرافیہ اچھا ہے۔ دریائے فرات اور دجلہ کی نشیبی زمین کا سنگم ہے جس سے زرخیز میدان بنتا ہے۔ اس کو میسوپوٹیمیا کہا جاتا ہے جو قدیم یونانی میں “دریاوٗں کے بیچ” کو کہتے ہیں۔ ابتدائی بستیاں دریا کے قریب گاوٗں تھے۔ نو ہزار سال قبل زراعت کرنے والوں نے یہاں پر نہریں نکالیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے لئے بند بنائے جن سے دریا کی پہنچ میں اضافہ ہوا اور خوراک کی پیداوار کی زمین میں بھی اور ان جدتوں نے شہر بسانا ممکن کیا۔

آبپاشی آسان نہیں ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے کبھی گڑھا کھودا یا نہیں لیکن میں ایسا کر چکا ہوں۔ یہ اپنے باغ میں پانی کا چھڑکاوٗ کرنے کے لئے سپرنکلر نصب کرنے کی کوشش تھی۔ پہلا حصہ آسانی سے ہو گیا۔ یہ بیلچہ خریدنے کا مرحلہ تھا۔ دوسرا شروع ہوتے ہی جب یہ سخت زمین سے ٹکرایا تو ہمت ہار دی اور کسی کو بلوانا پڑا جس کے پاس ایندھن سے چلنے والا کھدائی کرنے والا اوزار تھا۔ آج کے شہروں کا دارومدار قسم قسم کی کھدائی پر ہے اور ہم میں سے کم ہی کوئی اس کو سراہنے کے لئے وقت لگاتا ہے۔ لیکن قدیم مشرقِ قریب کی نہریں جو میلوں لمبی ہیں اور پچھتر فٹ چوڑی ہیں اور ان کو ابتدائی قسم کے اوزاروں سے کھودا کیا ہے۔ کسی بھی قسم کی مشین کے بغیر اور یہ قدیم دنیا کا شاہکار ہیں۔

دریا کے قدرتی راستے سے کھدائی کر کے دریا کو کھیتوں کی طرف لانا ۔۔۔ اس کام میں سینکڑوں یا ہزاروں مزدور، پلان کرنے والے، سپروائزر درکار تھے۔ اس کے لئے تنظیم کی ضرورت تھی۔ محنت کے اشتراک کی ضرورت تھی۔ جس سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکے۔ اور یہ محنت سوشل نوع ہی کر سکتی ہے۔ وہ جو آنے والے کل کا تصور کر سکے، اس چیز کا تصور کہ آج کی محنت کل رنگ لائے گی اور اس کے لئے مل کر کام کر سکے۔

یہ محنت رنگ لائی۔ اضافی خوراک اور قرار والی زندگی کا مطلب یہ نکلا کہ خاندان زیادہ بڑھ سکتے تھے۔ بچوں کی طرف توجہ دی جا سکتی تھی۔ کمزوروں کی اموات روکی جا سکتی تھیں۔ چھ ہزار سال قبل آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ گاوٗں قصبے بنے، قصبے شہر اور شہر بڑے ہونے لگے۔

ان ابتدائی شہروں میں اوروک ایک کامیاب ترین شہر تھا جو خلیجِ فارس کے دلدلی علاقے سے کچھ دور بنایا گیا۔ یہ اس علاقے اور اس دور کی کسی بھی بستی سے زیادہ آبادی والی جگہ تھی۔ اگرچہ آبادی کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن باقیات کے سٹرکچرز سے جو تخمینہ لگایا گیا ہے، اس کے مطابق شاید پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک اس کی آبادی رہی ہو۔ یہ چیتل ہوئیک سے دس گنا بڑا تھا۔ آج کے حساب سے تو یہ اتنا بڑا نہیں لیکن یہ اپنے وقتوں کا ٹوکیو یا لندن تھا۔

یہاں رہنے والے بیج کا ہل استعمال کرتے تھے۔ یہ اوزار استعمال کرنا مشکل ہے۔ اس سے ہل چلانے کے ساتھ ساتھ ہی بیج گرائے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے دلدلیں خشک کیں اور سینکڑوں شاخوں والی نہریں کھودیں۔ اس آبپاشی والی زمین پر اناج اور پھل اگائے گئے جس میں جو، گندم اور کھجوریں تھیں۔ یہ گدھے، مویشی، بھیڑیں پالتے تھے۔ مچھلیاں اور مرغابیاں دلدلی علاقے سے پکڑتے تھے اور دریا سے کچھوے لیتے تھے۔ بکری اور بھینس کو دودھ کے لئے اور جو کو مشروب کے لئے استعمال کرتے تھے۔

یہ اہم کیوں ہے؟ اس لئے کہ یہ سپیشلائز ہونے والے پیشوں کا بتاتا ہے۔ اور یہ بہت ضروری ہے تا کہ میٹیریل، کیمیکل کی اور پودوں اور جانوروں کی گہری سمجھ حاصل کی جا سکے۔ خوراک کے لئے کسان، مچھیرے اور شکاری تھے۔ ہنر جزوقتی شروع ہو کر کل وقتی بن گئے۔ نانبائی، مشروب ساز آ گئے۔ ریسٹورنٹ بھی۔ اکٹھے ہونے کی جگہیں بھی۔ ہمیں ورکشاپ کی باقیات میں پگھلی دھات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھات ساز بھی تھے۔ کمہار بھی باقاعدہ پیشہ بن چکا تھا۔ ایک ہی طرح کے ہزاروں پیالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سٹینڈرڈ سائز میں بڑی تعداد میں انہیں بنایا گیا تھا۔ یہ اس وقت کے سرامک کی مرکزی پروڈکشن فیکٹری تھی۔

کچھ نے اپنی توانائی کپڑوں کی طرف صرف کی۔ بُنائی کرنے والے، جن کے آرٹ ورک ہمیں ملے ہیں۔ اون کی بنی ٹیکسٹائل ملی ہے۔ جانوروں کی باقیات بتاتی ہیں کہ بھیڑوں کی تعداد بکریوں سے زیادہ تھی۔ اور ان کی ہڈیوں کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بھیڑوں کو زیادہ عمر میں جا کر ذبح کیا جاتا تھا۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو گوشت کے لئے نہیں بلکہ اون کے لئے پالا جا رہا ہو گا۔ (گوشت کے لئے پالا جانے والا جلد ذبح کر دیا جاتا ہے)۔

اور یہ اس سپیشلائزیشن نے یہ ممکن کیا یہ علم بہت تیزی سے آگے بڑھ سکے۔ یہ عملی نالج تھا جو کئی بار رسومات کے جال سے الجھا ہوا تھا۔ اون بننے والے کے طریقوں پر نیچر جریدے کے لئے پیپر تو نہیں لکھے جا رہے تھے لیکن یہی سائنسی علم کا بیج تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *