کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے؟۔۔سیدہ ہما شیرازی

’’یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے، رواں دواں زندگی رُک گئی ہے۔ کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی۔ نجانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے، ابھی تو کوئی اُمید نظر نہیں آرہی۔‘‘طارق عزیز

ٹیلی ویژن کی دنیا پر غالب رہنے والا عزیز جو دیکھتے دیکھتے سب کو اتنا عزیز ہو گیا کہ  لوگوں نے اپنے اندر طارق عزیز کو بسا لیا۔ آج اُن کے جانے کے بعد کئی لوگوں کا بچپن ویران ہو گیا۔

ریڈیو پاکستان سے اپنی فنی و ادبی خدمات کا سلسلہ شروع کرنے والے بہترین انسان صداکار ، ہدایتکار، اداکار، شاعر ، ادیب ،سیاستدان، میزبان ، ملٹی ٹیلنٹڈ لیجنڈاور عہد ساز ” طارق عزیز” کی موت نے بھی اِس بات پر مُہر ثبت کر ڈالی کہ۔۔
” بےشک ہم “حسین ترین” امیر ترین” ذہین ترین “ اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالآخر مر ہی جائیں گے ۔

طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کے  آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستانی 1947ء میں  ہجرت کرکے پاکستان   آئے۔ آپکے والد صاحب پاکستان بننے سے دس سال پہلے سے اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔ایسے باپ کا بیٹا ہی اپنا کل سرمایہ مرنے کے بعد ریاست پاکستان کو دینے کی وصیت کر سکتا ہے۔ طارق عزیز کا بچپن ساہیوال میں گزرا جبکہ ابتدائی تعلیم بھی ساہیوال سے ہی حاصل کی۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔تاہم 1975ء میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا دونوں ایک دوسرے کا ایسا تعارف بنے آج بھی انکا ساتھ اتنا ہی مضبوط نظر آتا ہے۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اس کےبعد اسے بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

طارق عزیز ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک انسان تھے انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967ء) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔

انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔
طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ 1980 کے عشرے میں کراچی میں اپنے طویل قیام کے دوران جناب طارق عزیز نے دو رسالے بھی شائع کیے تھے: ’’پندرہویں صدی‘‘ اور ’’بچوں کا رسالہ‘‘ جو بہت معیاری اور خاصے کامیاب ہونے کے باوجود بھی چند سال سے زیادہ نہ چل سکے، جس کی وجہ اشاعت (پبلشنگ) کے امور سے جناب طارق عزیز کی عدم واقفیت تھی۔

یہ زمانہ وہ تھا کہ جب پی ٹی وی کراچی سے ’’نیلام گھر‘‘ نشر ہوا کرتا تھا ان دونوں جرائد کی ناکامی، بندش اور مالی نقصان پر طارق عزیز مرحوم بہت دل برداشتہ ہوئے۔
طارق عزیز میر کے اس شعر کی خوبصورت تشریح ثابت ہوئے
؎میرےسلیقے سے، میری نبھی محبت میں،
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا۔۔

اور پھر کامیابیوں نے ایسے گلے لگایا کہ یہ ساتھ موت کو بھی شکست دے گیا ۔

کہتے ہیں انسان سب سے بہتر اظہار اپنی مادری زبان میں کر سکتا ہے۔اور اس بات کی سند ہمیں طارق صاحب کے ہاں ملتی ہے
ان کی کتاب” ہمزاد دا دکھ” میں سے اتنخاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون سی اوہ تے کون سا میں
سارے رنگ خیالاں دے
اِک دُوجے نوں دس نئیں سکدے
قِصے عجب ملالاں دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہولی ہولی بُھل جاواں گے
اِک دُوجے دیاں شکلاں وی
ہولی ہولی سِکھ جاواں گے
زندہ رہن دیاں عقلاں وی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دُور پرے اسماناں تے
رب سچے دا ناں
ہیٹھاں ایس جہان وِچ
بس اِک ماں اِی ماں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا سادہ و آسان ، شُستہ اندازِ بیان، ایسی سہل اور خوبصورت پنجابی میں گہری باتیں جو دل کو چُھو جائیں یہ ہر دل عزیز کا ہی فن ہو سکتا ہے۔
نیلام گھر کی سیڑھیوں کو برق رفتاری سے طے کرتا ہوا طارق عزیز اور ہوا میں ہاتھ بلند کر کے پاکستان کو ہمیشہ زندہ باد کہنے اور کرنے والا یہ شخص ہمیشہ کے لئے پائندہ باد ہو گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے؟۔۔سیدہ ہما شیرازی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *