لداخ اور مسئلہ کشمیر۔۔کاکازئی عامر

لداخ موجودہ کشمیر کا حصہ ہے۔ یہ علاقہ 1834 سے پہلے تبت کے کنٹرول میں تھا۔ 1834 میں سکھ فوجی زوار اور سنگھ نے قبضہ کر کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے کشمیر کا حصہ بنا دیا۔ یاد رہے کہ 1947 میں پاکستانی لڑتے ہوۓ لداخ تک بھی پہنچ گئے  تھے، مگر بعد میں مہاراجہ کی درخواست پر انڈین فوجی  آپریشن سے ان کا خاتمہ کیاگیا۔ 1949 میں چین نے لداخ کے ایک علاقے اکسائی چن پر قبضہ کیا۔ جس پر انڈیا چین کی 1962 میں لڑائی بھی ہوئی تھی۔ (ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ چین کے سفیر نے  آدھی رات کو ایوب خان کے سیکریٹری قدرت اللہ شہاب صاحب  کے  ذریعے   ایوب خان کو چینی وزیراعظم چواین لائی کا پیغام پہنچایا  تھا  کہ موقع  اچھا ہے ، پاکستان کشمیر  کی طرف سے حملہ کر  کےقبضہ کر لے، مگر ایوب  خان یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ چو این لائی کو کہو کہ فوجی حملے کو بچوں کا کھیل مت سمجھو۔  جنرل ایوب نے امریکہ اور انگلینڈ کے ڈر سے انکار کر دیا تھا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکہ امداد بند کر دے گا)۔
نہرو نے 1961 میں اپنے ڈیفنس منسٹر کو یہ بتایا کہ اسے بہت ہی بارسوخ  ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اگر انڈیا چین پر حملہ کر کے اپنا علاقہ واپس لے تو جواب میں چین کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ انڈین  آرمی چیف تھاپر نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ انڈیا کے پاس ایک تو ضروری ہتھیار ، اسلحہ و بارود نہیں ہے، بلکہ دوسری طرف پاکستان کی طرف کے کشمیر سے بھی حملے  کا خطرہ ہے۔ انڈیا دو طرف سے نہیں لڑ سکتا۔ مگر نہرو بضد تھا کہ نہیں، تیاری کرو۔ سب کچھ ہو جاۓ گا۔ اس کے بعد انڈیا نے پوری ایک ڈویژن  پاکستان بارڈر سے ہٹا کر چینی بارڈر کے ساتھ لگا دی۔ اس جنگ کے لیے اسلحہ امریکہ نے پاکستان کو بتائے  بغیر دیا تھا۔
مصنف:عامر کاکازئی
اب اتے ہیں پاکستان کی طرف کہ  آخر نہرو کو ایسی کیا گارنٹی ملی تھی، اور کس نے دی تھی کہ پاکستان حملہ نہیں کرے گا۔
تاریخ سے ہمیں دو باتوں کا پتہ چلتا ہے:
جونہی انڈیا چین کی لڑائی شروع ہوئی شاہ ایران نے ایوب خان کو ایک خط لکھا کہ سرخ خطرے سے لڑنے کے لیے پاکستان کو چاہیے کہ انڈیا کا ساتھ دے اور اپنے فوجی چین سے لڑنے کے لیے بھیجے۔

گو کہ ایوب خان نے یہ بات نہیں مانی مگر غیرجانب دار رہ کر اس نے انڈیا کی بالواسطہ مدد کی۔ اس خط کی ایک کاپی نہرو کو بھی شاہ ایران نے بھیجی تھی۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد شاستری نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اپنا فوجی چین کے ساتھ لڑنے بھیج دیتا تو “اگر وہ کشمیر بھی مانگتا تو نہ  کرنا مشکل ہوتا۔”

(تاریخ سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نہرو نے 1948 میں جنگ نہ  کرنے کا ایک ایگریمنٹ پیش کیا جسے لیاقت علی خان نے ٹھکرا دیا تھا، پھر اپریل 24, 1959 کو ایوب خان نے نہرو کو کیمیونزم کے خلاف ایک مشترکہ ڈیفنس ایگریمنٹ کی پیشکش کی، اس بار نہرو نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔)
اس جنگ سے پہلے، امریکی صدر کینیڈی نے ایوب خان کو فون کر کے کہا کہ اس جنگ سے غیر جانب دار رہنا، ہم (امریکی) جنگ کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل کروا دیں گے۔ انگلینڈ کے وزیراعظم ہیرلڈ میکملین نے فون کر کے ایوب خان کو باقائدہ دھمکی دی کہ انڈیا چین کی جنگ سے دور رہنا، ورنہ پاکستان کو ہم بھی ایک حملہ آور ملک سمجھیں گے۔ اور وہ اس دنیا میں تنہا رہ جاۓ گا۔ دونوں نے ایوب خان کو یہ یقین دلایا کہ جنگ کے بعد انڈیا پر پریشر ڈال کر کشمیر پاکستان کو لے دیں گے، مگر جب جنگ ختم ہوئی، ایوب خان نے دونوں لیڈروں کو ان کا وعدہ یاد دلوایا تو دونوں بولے کہ انڈیا کے ہارنے کی وجہ سے نہرو کی اپنے ملک میں سیاسی پوزیشن بہت خراب ہوئی ہے اس لیے نہرو پر کشمیر کے حل کے لیے پریشر ڈالنا مناسب نہیں اور نہ ہی نہرو یہ کر سکے گا۔ (شاید اسی غصّے  میں ایوب خان نے 1965 میں  آپریشن جبرالٹر کیا اور دونوں ملکوں کی جنگ ہوئی)
انڈیا اس جنگ کے  ذریعے اکسائی چن کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام رہا۔ انڈیا کو اس مہم جوئی کا بھاری جانی اور فوجی نقصان اُٹھانا پڑا۔ لداخ کے ایک حصہ کارگل پر بھی جنرل پرویز مشرف کی حماقت کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا میں 1999 میں لڑائی ہو چکی ہے، صرف ایک پاکستانی جنرل کی بُری پلانگ اور حماقت کی وجہ سے پاکستان کی قیمتی فوجی جانیں قربان ہوئیں۔
لداخ کے دو ڈسٹرکٹ ہیں، کارگل اور لیہا، تقریباً تین لاکھ کی  آبادی ہے۔لیہا ڈسٹرکٹ میں انڈس، شیوک اور نُبرا کا علاقہ ہے، جبکہ کارگل میں سورو، دراس اور زینسکار کا علاقہ شامل ہے۔ اکتوبر  2019 میں لداخ کو کشمیر سے الگ کر کے انڈیا کی ایک یونین ٹیریٹوری کا درجہ دے دیا گیا۔ لداخ میں مسلم ( شیعہ فرقہ) تقریباً %46 , بدھسٹ %39 اور ہندو %12 ہیں۔ ان کی زبان کو لداغی کہا جاتا ہے جو کہ تبتین زبان کی ایک شاخ ہے۔ لداخ میں تقریباً %62 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ لداخی دیکھنے میں چینی نسل یعنی چپٹے ناک اور سرخ و سفید رنگت کے مالک ہوتے ہیں۔
کشمیر پر 1947 سے ہی تین ملکوں، انڈیا، پاکستان اور چین کا قبضہ اور لڑائی ہے۔ لداخ کو تبت کا جُز سمجھتے ہوۓ، چین اس علاقےکو اپنا حصہ تصور کرتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو اس وقت کشمیر پر دو ملکوں انڈیا اور چین کا قبضہ ہے۔ اب اگر چین پورا کشمیر یا اس کا کوئی حصہ بذریعہ طاقت یا کسی باہمی  ایگریمنٹ کے لے لیتا ہے تو دو سوال اُٹھتے ہے کہ کیا چین وہ علاقہ انڈیا سے لے کر ہمیں دے دے گا؟ اگر ہاں تو ہمارے بھنگڑے ڈالنے بنتے ہیں۔ اگر نہیں تو کیا ہم ہمیشہ کی طرح بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کارول ادا کرتے رہیں گے؟
دوسرا سوال ، اگر چین گرین سگنل دیدے تو کیا پاکستان 1962 جیسا جواب دے گا یا پھر اس بار چین کے گرین سگنل کو خوش آمدید کہے گا؟
ان دو سوالات کے جواب اپ خود تلاش کیجیے۔
وہ ہزار دشمن جاں سہی مجھے پھر بھی غیر عزیز ہے
جسے خاک پا تری چھو گئی وہ برا بھی ہو تو برا نہیں
اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتب سے مدد لی گئی ہے۔
Beyond the Lines: An Autobiography by Kuldip Nayar
India-Pakistan in War and Peace. By J.N. Dixit
JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War by Bruce Riedel
Understanding kashmir and kashmiris by Christopher senedden

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *