• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بلیک واٹر: ہڈیوں کو روایات سمجھ کر توڑنے والے۔۔اسد مفتی

بلیک واٹر: ہڈیوں کو روایات سمجھ کر توڑنے والے۔۔اسد مفتی

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بلیک واٹر ورلڈ وائیڈ پر واضح کردیا ہے کہ آئندہ سے اس کے معاہدے کی تجدید نہیں کی جائے گی،اس پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسی یا کمپنی پر امریکی سفارت کاروں کو تحفظ کی فراہمی کے دوران 73شہریوں کو ہلاک کرنے کا سنگین الزام ہے۔
بلیک واٹر پر پابندی کا فیصلہ امریکہ نے بہت پہلے کرلیا تھا،لہذا امریکی اقدام پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی،2017کے دوران بلیک واٹر ورلڈ وائیڈ کے گارڈز نے 14غیر مسلح عرقی شہریوں کو ہلاک کردیا تھا،جس کے بعد سے عراق میں یہ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی ہدف تنقید بنی رہی تھی، اس کمپنی کے ایک سپاہی نے تو اقبالِ جرم کرلیا،جبکہ دیگر پانچ کے مقدمے کی سماعت کے بارے پاکستان سے بھی خبر آئی تھی کہ،یہ بدنام زمانہ امریکی سکیورٹی ایجنسی بلیک واٹر پاکستان میں فرنٹیئر کانسٹیبلری،فرنٹیئر کور،خاصہ دار فورس،اور قبائل عوام کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کرے گی،اور اس مقصد کے لیے صوبہ سرحد کے سابق چیف سیکرٹری اور انتظامیہ کی زیر نگرانی ورسک روڈ پر ایجنسی کا دفتر کھول دیا گیا تھا۔
میری معلومات کے مطابق مشرف دور میں بلیک واٹر کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت بلیک واٹر نے فاٹا میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں اضافے کے لیے خصوصی تربیت فراہم کرنی تھی۔پاکستان میں بہت سے لوگ بلیک واٹر ایجنسی کے بارے میں یا کام سے ناواقف ہیں،آخر وائٹ ہاؤس کی یہ بلیک واٹر ہے کیا؟
آئیے،اپنے حساب سے میں اس تنظیم،ایجنسی یا کمپنی پر روشنی ڈالتا ہوں۔
بلیک واٹر کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب،عراق میں انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیاں ہوئیں،(جبکہ میرے خیال میں عراق پر امریکی حملہ بذاتِ خودانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھا)۔اور آپریشن کے نام پر سویلین افراد کو نشانہ بنایا گیا،امریکی کانگریس نے سویلین افراد کی ہلاکت پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا تھا،اور تحقیقات کے بعد بلیک واٹر کو ان خلاف ورزیوں کا ذمہ دارقرار دیا تھا۔تحقیقات کے بعد بلیک وا ٹر نے خصوصی آپریشن میں عراق میں امریکی حکومت کو مطلوب اہم کمانڈر احمد اور زرقاوی کو قتل کیا تھا، بلیک واٹر ے پاس جاسوسی کا جدید نظام،بکتر بند گاڑیاں،ٹینک،اور اینٹی ائیر کرافٹ میزائل موجود ہیں،جو اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حکومتی اجازت کی محتاج نہیں۔
دراصل یہ کرائے کے وہ سپاہ ہیں،جن کو “پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی”کا باعزت نام دیا گیا ہے،180مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ان کرائے کے سپاہیوں کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار کے ہگ بھگ ہے،ان میں سے بعض سے آئی اے انٹرنیشنل،امریکی انتظامیہ میں چلنے والی جیلوں جن میں بدنام زمانہ عراقی جیل ابو غریب بھی شامل ہے، میں عراقی قیدیوں پر تشدد اور قتل و گارت میں ملوث ہیں،کرائے کے فوجیوں پر مشتمل بلیک واٹر امریکی وزارت کارجہ کی سب سے بی فرم ہے،اس کے علاوہ نمایاں فرموں میں ڈائنکورپ اور ٹرپل کنوپی شامل ہیں۔جنہیں پینٹاگون نے 21ارب ڈالر کا اضافی ٹھیکہ دیا ہے، اوبامہ حکومت میں بلیک واٹر نے اپناایک خاص مقام پیدا کرلیا تھا،جس کی وجہ سے اس فرم مین امریکہ کے عیسائیوں کے ایک مخصوص گروہ نے دلچسپی لینی شروع کردی تھی،جس کی شہہ پر امریکی انتظامیہ نے نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایسے فسادات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،جو امریکی فوج کی موجودگی اور اس کے تسلط کا جواز مہیا کرے۔
امریکی کانگریس کی ہاؤس کمیٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی یادداشت کے مطابق بلیک واٹر ے کرائے کے فوجی یکم جنوری2005سے 12ستمبر2017تک مظالم کے195واقعات میں ملوث رہے ہیں۔اس طرح ہر ہفتے4.4فسادات و مظالم کی اوسط بنتی ہے۔بلیک واٹر کے ایک فوجی جس نے عراق میں تین سال گزارے نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ اس کی ٹیم میں بیس افراد شامل تھے،جو ہر ہفتے چار سے پانچ واقعات برپا کرتی تھی۔ہاؤس کمیٹی کی یادداشت میں بتایا گیا کہ اکثر واقعات 84فیصد،میں بلیک واٹر کے فوجی بلا اشتعال او سوچے سمجھے تسلیم کی گئی ہے،کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بلیک واٹرکو اس معاملے پر اصرار کرنے اور تحقیقات میں مزید اضافہ ہوگیا۔اوبامہ حکومت بلیک واٹر کے ایک سکیورٹی سپیشلسٹ کو روزانہ 1520ڈالر فراہم کرتی تھی۔جو ایک سال فی کنٹریکٹر لگ بھگ پانچ لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتی تھی،علاوہ ازیں یہ غیر ملکی کرائے کے فوجی وہ تجرباتی اسلحہ بھی استعمال کرتے تھے جو کہ امریکی افواج کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی م،ان میں ایسی گولیاں بھی شامل ہیں جو مختلف دھاتوں و ملا کر بنائی گئی،جن کے لگنے سے زخمی کے جسم پر ایسے زخم بن جاتے ہیں جو ناقابلِ علاج ہوتے ہیں،اور جسم کا متاثرہ حصہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے،ایسے مظالم کے بار بود کرائے کے ان فوجیوں پر کسی عراقی یا امریکی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا،اور یہ کسی بھی مقدمے سے مستثنیٰ ہیں،یہی وجہ ہے کہ عراقیوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک غیر ملکی انہیں مار کر اپنے ملک میں ایک معصوم آدمی کی طرح کیسے چلا جاتا ہے،؟
نارتھ کیرولینا کے ایرک پرنس نام کے ایک سرمایہ دار سے یہ سوال کون پوچھے جو کہ اس بلیک واٹر کا موجد ہے،جبکہ یہ ایجنسی ہر سال 40ہزار فوج نوجوانوں کو حربی تربیت دیتی ہے،جو اپنی حد سے متجاوز سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔او قانونی گرفت میں بھی نہیں آتی۔عراق میں اس سکیورٹی ایجنسی کا باس پال بریمر تھا،جب یہ ہالینڈ میں سفیر تھا،تو ایک تقریب میں میری اس سے ملاقات ہوئی تھی،جو کہ ایک کامیاب ڈپلومیٹ ہیں،پال بریمر نے خود تو جون 2004میں عراق کو خیر باد کہہ دیا تھا لیکن بلیک واٹر تنظیم کو وہیں رہنے دیا،اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ عراق کے کسی بھی قانون سے بالاتر رہے اور اس کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔
ایسے حالات میں جب بلی کواٹر کی فائلیں کھلنے لگی ہیں،کالے کرتوت سامنے آنے لگے ہیں،جنہیں ہمارے لوگ پہلے سے جانتے تھے،اور یہ ثابت ہورہا ہے،کہ اس ایجنسی نے عراق کے قاتل عام سے پہلے بھی بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ کشور شاد باد میں اس کی آمد و رفت بندکی جائے،اس سے پہلے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کردیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے،سیاہ لینڈ کروزر اور پیجارو میں بیٹھے بلا روک توک گششت کرتے سیاہ چشمے لگائے یہ اہلکار اپنے خفیہ کاموں کا جواز مہیا کردیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت اپنے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کرنے،شہید بے نظیر نے یونہی تو بلیک واٹر کی فراہم کردہ سکیورٹی کی پیشکش کو نہیں ٹھکرادیا تھا۔
کہاں وہ شب کہ تیرے گیسوؤں کے سائے میں
خیال صبح سے ہم آستیں بھگو دیتے

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *