کتابی آدمی ،آصف فرخّی۔۔فرحان جمالویؔ

کبھی کبھی کسی شخص سے ہماری پہلی ملاقات اُس کی موت کی خبر ملنے پر ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی ٹوٹا ہوا تعلق مرنے والے کے ساتھ زندہ ہوجاتا ہے۔ کم ہی ایسا ہوتا ہوگا کہ سو سال پہلے مرا شخص اِس دور میں آکر کسی سے آپ کا تعلق بنا دے۔ مجھے اور آصف فرخّی کو فرانز کافکا نے ملایا۔ وہ خانقاہِ کافکا کے پرانے مُرید تھے اور میں باہر سیڑھیوں پر بیٹھا اندر جھانکا کرتا ۔ اُن کے قلم نے خواب دیکھا کہ کراچی کا سمندر غائب ہو گیا ہے۔ میرے قلم نے خواب دیکھا کہ کافکا نے پراگ کے پُل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی۔ دسمبر 2017 میں چیک ریپابلیک کی زیارت کا شرف حاصل ہوا تو چاندنی رات میں پراگ کے چارلس برج پر دیوتاوٴں کے قد آور مجسوں کے درمیان کافکا کی روح کو اکڑوں بیٹھے دیکھا۔ ٹورسٹ گائیڈ نے انکشاف کیا کہ اِن دیوتاوٴں میں سے کسی کو بھی چھو کر دعا کرو تو قسمت میں دوسری بار پراگ کی حاضری لکھ دی جاتی ہے۔ میں، بت شکنی کرتے ہوئے، مُرشد کو چھونے کی گستاخی کر بیٹھا۔ پراگ، صبح کی پہلی کرن سے پہلے، چھوڑنا پڑا۔

تعزیت لکھتے ہوئے تعزیت لکھنے والے کو خود نمائی کا خدشہ رہتا ہے۔ مجھے بھی اِس تیز دھار تلوار پر چل کر گزرنا ہے۔ جوتے پہنا رہوں اِسی میں عافیت ہے ورنہ بعد میں آصف صاحب سے جوتے بھی پڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ کی نفیس شخصیت اور لطیف مزاجی سے ایسی توقع نہیں۔

ترجمہ کرتے کرتے ترجمہ کرنے والا فنا ہو جاتا ہے۔ کاغذ، قلم، دوات ، چائے کا کپ ، سگریٹ ، لائٹر ، ایش ٹرے سب تحلیل ہوجاتے ہیں۔ خالی کمرے کے فرش پر مرشد کی کتاب باقی رہ جاتی ہے۔ کتاب کے وجود سے ایک آواز اُٹھتی ہے۔ ایسی ہی ایک آواز کو کان لگا کر سنا اور لفظوں میں قید کر دیا۔ کہیں سے ایک اور آواز آئی کہ جدید افسانوں کا عالمی مقابلہ ہورہا ہے ۔ شرکت کے لیے آخری تین گھنٹے باقی رہ گئےہیں۔ افسانے پر نظر دوڑائی تو گیلی سیاہی سے بلب کی روشنی منعکس ہوئی اور آنکھوں کی پتلیوں کو چیرتی ہوئی دماغ کے اسٹرائیٹم (Striatum) میں [جہاں فیصلے ہوتے ہیں] داخل ہوگئی۔

تین ہفتوں بعد پولینڈ سے خبر آئی کہ آپ کا افسانہ شارٹ لسٹ ہونے والے دس بہترین افسانوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ چوتھے ہفتے بعد یہ نوید سنائی کہ آپ کا انگریزی افسانہ پانچ بہترین افسانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جسے پولش زبان میں ترجمہ کرکے انتھالوجی کی شکل میں شائع کیا جائے گا اور افسانہ نگاروں پر ایک مختصر فلم بھی بنائی جائے گی ۔ جیتنے والے ممالک میں انگلینڈ، پاکستان، پولینڈ، متحدہ امریکی ریاستیں اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ ایک صدا اور سنائی دی کہ کہانی کا اردو ترجمہ شائع کروانے کی کوشش کرو۔ گھر کی گواہی حاصل کرنے کے لیے ’دنیا زاد‘ ادبی رسالے کے مدیر ڈاکٹر آصف اسلم فرخّی سے رابطہ کیا اور عرض کیا کہ بندہ ’ کافکا رِباط‘ کے باہر کام کرنے والا ایک خاک روب ہے ۔ مرشد کے افسانے، خطوط ، ڈائریاں اور سوانح حیات کا اردو میں ترجمہ کرکے ایک کھیل لکھا اور لکھ کر رکھا ہوا ہے۔ بخشش میں مُرشد نے کچھ افسانے عطا کیے تھے جن میں سے ایک کے ذریعے ملک کا نام روشن کرنے کی اُمید ہے۔ پیر صاحب نے افسانے کا نام اور مرکزی خیال جاننا چاہا۔

’’کوما۔۔۔ایک ایسے مدہوش لکھاری کی کہانی ہے جو اپنی تحریروں میں کوما لگانے سے گریز کرتا ہے ۔ اُس کے خیال میں کوما دو لفظوں کو جدا کرتا ہے، جوڑتا نہیں۔راوی نے بچپن میں اپنے ماں باپ کے درمیان ہمیشہ ایک کوما حائل دیکھا۔۔۔ لہٰذا افسانہ لکھتے وقت ایک بھی کوما استعمال نہیں کیا گیا۔‘‘ آصف صاحب سُن کر محظوظ ہوئے مگر پڑھے بغیر متاثر نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی افسانے کے ساتھ اپنا دوسرا کام بھی بھیجیے۔میں نے ’کوما‘ کے ساتھ مرشد کےفن و زندگی پر لکھا اردو کھیل ’کافکا‘ اور ایک تازہ نظم ’کتابی آدمی‘ بھیج دی۔

بعد مغرب آصف فرخّی صاحب کا فون آیا ۔ کافی دیر تک کتابی آدمی پر بات کرتے رہے جبکہ میں افسانے پر اُن کی تنقیدی رائے جاننا چاہتا تھا۔فرمانے لگے کہ یہ جو کتابی آدمی ہے، یہ میں ہوں۔ اِس نظم میں آپ نے میری پوری شخصیت کو سمو دیا ہے۔ میں نے عرض کیا افسانے کا کچھ ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے افسانہ بہت ایبسٹریکٹ ہے۔ کوئی دوسرا رائٹر ترجمہ کرے توشاید انصاف نہ کر سکے گا۔ اِس لیے آپ خود اِسے اردو میں ترجمہ کیجئے ۔ بات سمجھ میں آگئی اور میں نے حامی بھر لی۔ نظم کی پزیرائی کا شکریہ ادا کرنا بھول گیا۔ چند روز بعد خیال آیا تو فون کر کے اعتراف کیا کہ یہ ابھی ’ورک اِن پروگریس‘ ہے۔ نظم کے کلائمکس میں کچھ کمی ہے۔ کہنے لگے ایسا مت سوچئے ،نظم مکمل ہے۔ میں نے پھر بھی اصلاح کی درخواست کی تو خانقاہی لہجے میں سبق پڑھایا کہ تنقید کے تمام اصول انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور نئے انسان پرانے اصولوں سے آگے کے رموز متعارف کرواسکتے ہیں۔ خانقاہ کی دیوار سے کان لگا کر لاشعور نے یہ سبق شاید پہلےبھی سنا ہوا تھا لیکن تب ’تمنا کا دوسرا قدم‘ کھلی آنکھ سے دکھائی نہیں دیا تھا۔ شاید اِسی لیےوہ بات دماغ کے ’ فرنٹل لوب‘ سے [جہاں منطق کی میزان ہے] ٹکرا کر دُور جا نکلی۔ تاھم ڈاکٹر صاحب نے جس طرح کتابی آدمی کی ’اونر شِپ‘ لی اُس کے بعد قلم کی سیاہی سوکھ گئی۔

قریب ایک ماہ بعد کوما کا اردو ترجمہ ڈاکٹر فرخّی کو پیش کیا تو انھوں نے پڑھتے ہی یہ تنقیدی نکتہ اُٹھایا کہ تحریر میں موجود تمام فارسی اضافت اور تراکیب کی جگہ اردو تراکیب استعمال کیجئے۔ جو مثالیں دیں وہ تو یاد نہیں لیکن غالباً کچھ اس طرح سمجھایا کہ سکونِ قلب کی جگہ دل کا سکون اور قابلِ تعریف کی جگہ تعریف کے قابل ہونا چاہیے ۔ میں چونکہ نثر میں ردھم کا قائل ہوں اِس لیے جرات کرکے اختلاف کر بیٹھا کہ اضافت ختم کر کے اردو تو خالص ہو جائے گی لیکن شاید جملوں سے نغمگی جاتی رہے گی۔ پھر بھی میں کوشش کروں گا۔ کوشش تو کی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب افسوس اور ندامت ہے کہ میں دنیا زاد کے لیے کچھ لکھ نہ سکا۔

کوما اور کتابی آدمی کو بعد میں اقبال نظر صاحب نے اپنے ادبی رسالے ’کولاژ‘ میں شائع کیا۔ لیکن آج میں آفیشلی اِس نظم کو محترم آصف فرخّی کے نام سے منسوب کر نا چاہتا ہوں۔ یہ نظم جب کبھی پڑھی یا لکھی جائے گی تو آپ سے منتسب کی جائے گی:

کتابی آدمی
(ڈاکٹر آصف فرخّی کے نام)
فرحان جمالویؔ

میرے دوستوں کے حلقے میں
ایک دوست ایسا ہے
عجیب شخص ہے وہ
شہرِ تہذیب سے کوسوں دُور
ایک فرضی جزیرے پر
تنہا رہتا ہے۔

لفظ اوڑھتا ہے
معنی گنگناتا ہے
کرو کوئی بات سیدھی سی
تو کتابوں کے گھنے جنگل میں
دلائل کے منہ زور گھوڑوں پر
بٹھا کے
چاروں سَمت دوڑاتا ہے
تھکا دیتا ہے وہ
راہ بھٹکاتا ہے۔

عجیب شخص ہے وہ
سوال طرح طرح کے
پرندوں کی شکل میں اُس کے
ذہن پر اُترتے ہیں
سکون چُگتے ہیں ۔۔۔اور
آنکھوں کی کنڈالیوں میں بھرے
نیند کے تالاب سے اپنی
پیاس بجھاتے ہیں۔

سوال کیوں نہ اُتریں؟
ذہن کی بنجر زمیں پر وہ
تفکر کے ہل چلاتا ہے
حرف اُگاتا ہے
معنی گنگناتا ہے۔

عجیب شخص ہے وہ
باتوں کے مدو جزر میں
اُمید کی ٹوٹی ہوئی کشتی
ڈولتی رہتی ہے
مگر وہ خود پسند دیوتا
میرے سامنے بیٹھا
تخیل کے لمبے ہاتھوں سے
علم کے سمندر میں
سچ ڈھونڈتا رہتا ہے
ارمان پگھل جاتے ہیں
اور وہ
خلا میں گھورتا رہتا ہے۔

عجیب شخص ہے وہ
لفظ اوڑھتا ہے
معنی گنگناتا ہے
عورت بھی
ایک انمول حقیقت ہے
اور وہ
کتابوں سے
عشق لڑاتا ہے!

دس سال گزر گئے اوراب آصف صاحب کے وصال کے بعد یہ بات کھلی کہ نظم کا وہ سیکنڈ لاسٹ بند اُن کے لیے اتنا اہم کیوں رہا ہوگا۔

آپ کے یوں اچانک بچھڑ جانے پر خرم سہیل نے ڈان نیوز کے لیے ایک خوبصورت یادگاری مضمون لکھا (بچھڑنے کا موسم اور ڈاکٹر آصف فرخّی) اور اشارہ دیا کہ آپ نے ’’اپنی نجی زندگی کے ایک انتہائی نوعیت کے واقع کو دل سے لگا لیا، جس کی وجہ سے صحت گرتی چلی گئ اور آخر کار یہی صدمہ جان لیوا ثابت ہوا۔‘‘ میں نے خرم سے فون پر وجہ دریافت کی تو یہ جان کر بہت دُکھ ہوا کہ آپ کی اہلیہ نے اپنے ساتھ بچیوں اور باپ کے درمیان بھی پے در پے ’کومے‘ لگا دیے تھے ۔۔۔

رشتوں کی روانی خون کی روانی سے زیادہ اہم ہوتی ہے، یہ بات ذہن میں رکھ کر بچھڑنا چاہیے۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی شخص سے ہماری اعلانیہ آخری ملاقات، اُس شخص کے لیے موت کی شروعات ثابت ہوسکتی ہے۔

آج دس سال بعد کتابی آدمی کے کلائمکس کو چھیڑا تو ایک لفظ نے دونوں ہاتھ اوپراُٹھا کے خود کو رضاکارانہ طور پر جلا نظم کر دیا۔ لفظ ’سمندر‘ سکینڈ لاسٹ بند میں دو بار استعمال ہوا تھا جس کی جگہ اب ’مدو جزر‘ نے سنبھال لی ہے۔ نظم بدر ہونے والا سمندر ،شاید آصف فرخّی کے افسانوی ’’سمندر‘‘ کے ساتھ کہیں غائب ہو گیا ہے۔۔۔ اب وہاں ریت ہی ریت ہے اور ہوائیں نوحہ کناں ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *