خندہ ہائے زن۔۔سلیم مرزا

فاخرہ نورین کی وہ کتاب ہے جو سلیم غزنوی کو سترہ بار مانگنے کے بعد ملی ۔دودن تو ٹی سی ایس والے کتاب لے کر مجھے ڈھونڈتے رہے اور میں ان کے ڈیلیوری بوائے کو ۔
آپ کو تو پتہ ہی ہے پاکستان میں نارمل ڈیلیوری کا رواج ہی نہیں ہے ۔
آخرکار ” سیزرئین ” جتنی تکلیف اٹھانے کے بعد کتاب مل ہی گئی ۔
فاخرہ میری پسندیدہ مزاح نگار ہے۔
اگر اور بھی کسی کی ھے تو وہ نیچے بیٹھ جائے ۔
فاخرہ آج کل حکومت کی “کٹا پال “سکیم کے تحت اپنے سسرال والوں کے “اینمل فارم ” میں ہے،اور اپنے شوہر کیساتھ ہیر رانجھے کا کیا نیا باب لکھ رہی ہے ۔
خندہ ہائے زن تب لکھی گئی جب فاخرہ کہیں بھی لکھنے کو تیار نہیں تھی ۔چنانچہ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ھے کہ اس نے مزاح کی پرانی روایات کو کہیں بھی نہیں لکھا۔
اور ایک ایسے اسلوب کی بنیاد رکھی ،جس کا فقرہ سمجھ آنے کے بعد قاری کے منہ سے بیساختہ نکلتا ہے ۔
او تہاڈی بھین دی سری ۔۔۔۔
کتاب کے نام سے مجھے بھی گمان تھا کہ زنانیوں  کی نفسیات پہ سیانی نے کچھ سیانت دکھائی ہوگی ۔
لیکن پڑھا (پڑھی نہیں )تو اندازہ ہوا کہ فاخرہ مردانے میں بیٹھ کر لکھتی ہے ۔وہ عورت ہوتے ہوئے بھی بکروں کو قربانی کیلئے فربہ کرنے کے فن سے آشنا ہے ۔
کتاب کے شروع میں انتہائی سنجیدہ علماء جن میں ڈاکٹر صلاح الدین دروویش، سعود عثمانی نے اتنے خوبصورت پیرائے میں فاخرہ کی تعریف کی ہے کہ کتاب پڑھنے کی ضرورت ہی نہ رہتی ۔دیباچہ لکھنے والوں نے ایک ایک پیرا گراف میں اتنی مشاقی سے فاخرہ کے فنی اور اور ادبی انداز پہ روشنی ڈالی تھی مجھے خود ایسے لگا کہ مجھے فاخرہ کو پڑھنے سے پہلے پڑھنا سیکھنا ہوگا۔
کتاب ٹھپ کے رکھ دی ۔
سوچا، اگر دسویں کے پرچے میں بھی آگئی تو پینتیس نمبروں سے دیباچوں میں تو پاس ہوہی جاؤں گا ۔
پھر کچھ دنوں سے فاخرہ نے جس انداز کا مزاح لکھا اسے پڑھ کر کتاب کو دوبارہ کھولا تو احساس ہوا کہ اس وقت پڑھ لیتا تو آج کم ازکم مزاح میں بی اے تو کر ہی چکا ہوتا۔
فاخرہ بیساختہ لکھتی ہے اور بامحاورہ کترتی ہے ۔اس کی تیکھی صورت سے اندازہ ہو نہ ہو مگر قینچی پہ لکھے باب سے پتہ چلتا ہے کہ قینچی خواتین کی غیرنصابی سرگرمیوں کیلئے کتنی معاون ہے ۔”ایڈورڈ سیزر ہینڈ “نامی فلم جوانی میں دیکھی تھی،اس کا ہاتھ چلتا تھا ۔
فاخرہ کا ذہن قینچی کی طرح چلتا ہے ۔
ایک مزاح نگار ہونے کے باوجود بھی مجھے اس کے فقروں کے ساتھ دوڑنا بہت مشکل لگا ۔
اکثر پیرا گراف پہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا مطلب وہی ہے جو میں  سمجھا ہوں ؟
کئی بار اپنے شناختی کارڈ پہ تاریخ پیدائش دیکھی ۔بیگم سے پوچھا ، کہ میں سیانا  ہوگیا ہوں کہ “گلاں ای بنیاں نیں “؟
وہ شرمائی ، تو اگلا پیرا گراف پڑھنا شروع کیا ۔
چربی کے باب میں اس نے موٹاپے اور چربی کو یکجان کرکے ، ان کی جنیاتی ماں بہن گھول کر ،جو دیسی صابن بنایا ہے ۔اس سے طنزیہ تحریروں کیلئے اس کا سگھڑاپا صاف نظر آتا ہے۔
اب قاری پہ منحصر ہے کہ وہ کتنے ادبی ذوق کا حامل یا حاملہ ہے۔
جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا ،سیکھنے کو بہت کچھ ملا ۔
فاخرہ لکھتی نہیں ہے ۔وہ چٹکیوں میں منظر تخلیق کرتی ہے ۔پھر چٹکیوں میں غائب کر دیتی ہے ۔وہ آپ کو لاری اڈے لیجا کر بسوں کی ہڑتال کرواسکتی ہے ۔
وہ ایک جادوگرنی ہے ۔جسے لفظوں کی الٹ پلٹ کا فن آتا ہے ۔وہ لفظوں کے سحر کو برتنا جانتی ہے ۔دوسری شادی کے خواہشمند پہلی بیوی کے سامنے بیٹھ کر اس  کتاب کا مضمون “اپنی دم پہ پاؤں ” پورا ہفتہ پڑھیں ۔

فاخرہ کی تحریریں کسی حد کی تابع نہیں ۔وہ کرشن چندر کے افسانے کو چھو کر منٹو کو چھیڑ کر گزر جاتی ہے ۔ ایسےہی جیسے پیکو کرواتی خاتون ٹائم پاس کرنے کو ساتھ والی دکان سے لیلن کے تین سوٹ نکلوا کر دیکھ لے ۔
مجھے ہمیشہ فاخرہ سے جلن ہوتی ہے کہ میں ایسا کیوں نہیں لکھ سکتا ۔پھر خیال آتا ہے کہ جوانی میں کرنے والے کام بڑھاپے میں نہیں ہوسکتے ۔مزاح ایک شریر سی مسکراہٹ کا نام ہے اور شرارتیں جوانوں کو ہی زیب دیتی ہیں ۔

خندہ ہائے زن ،مزاح کی جوانی ہے ۔بزرگ حضرات اپنی عمر کا لحاظ کریں اور اسے پڑھنے سے گریز کریں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *