آ تیرا ڈی این اے کراوں: انعام رانا

بھائی غیور خان میرے دوست ہیں، دوست کیا ہمزاد ہیں۔ فیس بک لوگ کہتے ہیں کہ ایک دھوکہ ہے سراب ہے مگر یہیں سے وہ  مجھے وہ تعلق ملے جو سرمایہ حیات بن چکے۔ غیور خان عرف علی بابا حال فارغ جہلوی کا عالم یہ ہے کہ لگتا ہے پیدائش سے ایک تعلق ہے جو نول سے بندھا ہے۔ شادی کی تو بھائی غیور میرے بیسٹ مین تھے، اگرچہ جب بھی ان سے لطائف ہی سرزد ہوے۔ میرے گھر سے محبت ایسی کہ اک دن میری والدہ کیلئیے وہ سوٹ لئیے آن بیٹھے جو انھوں نے اپنی جنت مکانی والدہ کیلئیے خریدا تھا مگر اس سے قبل کہ انکو دے پاتے وہ سفر آخر پہ روانہ ہوئیں۔ ہم نے تو بس یہی دیکھا کہ ہماری ماں انکو بیٹے کی مانند سینے سے لگائے رو رہی ہیں اور وہ بیٹا بن کر ان سے چمٹے ہوے ہیں۔ اب اس محبت کا صلہ خدا دے تو دے ہمارے بس سے تو باہر ہے۔

اس تمام تر محبت کے باوجود بھائی غیور کے شر سے اللہ بچائے۔ ایسی ایسی درفنطنی لاتے ہیں کہ لوگوں کا حسب نسب سوال پہ آ جاتا ہے۔ بھائی غیور لندن  میں سرکاری افسر ہیں  اور انکے زیادہ تر احباب غیر دیسی ہیں۔ ایسی ہی اک خاتون تھیں جو مذہبا یہودی تھیں اور خاندان مذہبی بلکہ والد اور دیگر کئی رشتہ دار ربی تھے۔ قسمت کی ماری بھاری غیور کے مکر کا شکار ہوئی اور ڈی این اے کرا بیٹھی۔ معلوم ہوا کہ فقط دو فیصد یہودی ہے اور باقی تمام تر اقوام عالم کا مجموعہ۔ بیچاری کو عاق نامے کا سامنا کرنا پڑا  اور اسرائیل داخلہ پر پابندی کہ خاندان کی مذہبی پیشوائی خطرے میں آ گئی۔ بھائی غیور کہ فطرتا “شر العالمین “ ہیں، سو انکا یہ شر فقط یہودن تک ہی کیوں رہتا۔ ایک سید دوست تھا جو ایک معروف پیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ بھائی غیور نے اس پہ دو سال محنت کی۔ آخر اک دن وہ بیچارہ اپنا ڈی این اے کرا بیٹھا۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر نسل اسکے جینیاتی کوڈ میں موجود ہے مگر نہیں ہے تو عرب جین۔ بیچارے کو اس راز کے اخفا پر خاندان سے بے دخلی تو برداشت کرنا ہی پڑی جان کے لالے بھی پڑ گئے کہ خاندان کئی سو سال سے ایک معروف گدی سنبھالے ہوے تھا اور دعوی تھا کہ بس عرب شریف سے اگر کوئی اصلی سید آیا ہے تو یہی خاندان ہے۔ اللہ اللہ ، ویسے شرپسند دوستو سے بھی خدا محفوظ رکھے جو خاندانوں کا صدیوں سے قائم بھرم بھی تڑواتے ہیں اور معیشیت پہ بھی چوٹ کرتے ہیں۔

محترم صفدر نواز زیدی ہمارے مہربان ہیں۔ ہالینڈ میں مقیم زیدی اردو کے معروف ادیب اور “بھاگ بھری” جیسے جدید ناول کے مصنف ہیں۔ اب مصنف اور وہ بھی یورپ مکانی ہیں تو کچھ تو گل کھلنا تھا۔ جانے کیا سوجھی کہ ڈی این اے کروا آئے۔ بھئی کیا بہادر آدمی ہے۔ نتیجہ آیا تو معلوم ہوا کہ سادات امروہہ کے سپوت میں نوے فیصد جین “مقامی” ہیں، یعنی عرب شریف کا کنکشن بس اتنا ہی تھا جتنا ہماری حکومت کا عقل اور گڈ گورنس سے۔ ہئے ناخلف اولاد کیسے صدیوں سے قائم بھرم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑتی ہے، شاید اسی لئیے بزرگ اولاد کو بیجا آزادی نہیں دیتے تھے کہ کہیں نسب پہ سوال ہی نا اٹھا سے۔

ہمارے برصغیر میں اسلام آیا تو جاتی کا نظام عروج پہ تھا۔ اب اک تو اس چھوت چھات والے معاشرے میں جب تک آپ اشراف نا ہوں آپ کی بات کون سنے؟ دوجا خود کو “عام عوام سے بلند” بھی رکھنا تھا کہ اتھارٹی قائم رہے اور مذہب سے وابستہ اتھارٹی سے زیادہ مضبوط قائم کیا ہو؟ چنانچہ جو آیا وہ سید تھا یعنی عرب شریف کا اشراف۔ امویوں نے بنو ہاشم پہ ستم اختیار کیا تو وہ اس سرزمین پہ پناہ گیر ہوے۔ پھر فاطمیوں کی حکومت ختم ہوئی تو صوفیا کا سلسلہ بطور ایک سیاست اپنایا گیا اور برصغیر کے کونے کونے میں دربار اور خانقاہیں قائم ہو گئیں۔ اب ان نیک بزرگوں کی تبلیغ سے جو مسلمان ہوے انکی اکثریت تھی بچھڑی جاتیوں کی جنکو اسلام کا مساوات کے پیغام بہت بھایا۔ بھیا عجب دھرم ہے کہ تم جو بھی ہو مقرب وہ ہے جو متقی ہے۔ مگر جو دھرم بھرشت کر کے مسلمان ہوے تو معلوم ہوا یہاں بھی براہمن بیٹھے ہیں اور انکے آگے سیس نوائے بنا کوئی چارہ نہیں۔ یکدم ان جاتیوں نے وہ رستہ اختیار کیا جو عملی تھا۔ علاقہ بدلو تو جاتی کون جانے ہے سو یا تو سب سید ہو گئے ، خان یا راجپوت کہ سماج میں پرانے اور نئے میں یہی سب سے اہم تھے، مذہبی اور سیاسی بنیاد پر۔ چنانچہ یہاں ہر تیسرا بندہ یا سید ہے یا راجپوت یا خان۔

اسلام جو مساوات اور تقوی کا پیغام لے کر اٹھا تھا، افسوس وہ جلد ہی کھو گیا۔ عرب عصبیت لوٹ آئی اور اسی عصبیت نے عرب سامراج کی بنیاد رکھی۔ جہاں جہاں اسلام پھیلا، پیغام مساوات سب سے بڑا پہلو بن کر سامنے آیا مگر جلد ہی یہاں بھی وہی عصبیت سامنے آئی۔ چنانچہ وہ لوگ جو چھوت چھات سے جان بچانے کو اس دھرم میں آئے تھے اب “قرابت دار” بننے پہ مجبور ہوے۔ کچھ نے راجپوت بننا پسند کیا کہ اک تو مقامی جاتی تھی دوجا اپنے تفاخر میں ان عرب پناہ گیروں کو بھی خاطر میں نا لاتی تھی۔ گو آج اسلام کے چودہ سو برس اور برصغیر میں اسلام کے حسین پیغام کو بارہ سو برس سے زائد ہو گئے، مگر یہ رویہ قائم ہے۔ وہ مذہب جو ذات لے تفاخر کو ختم کر کے ہر عصبیت کو دور کرنے آیا تھا، اسی مذہب میں “اونچی جآتی .” کا کرو فر قائم ہے۔ عصبیتوں نے کئی جگہ تو اسلام کو فقط فیملی کلب بنا دیا ہے تو کئی جگہ فقط قریش کلب۔ رہا تقوی، تو اسکا ذمہ ان پہ ہے جو اسلام کو سب کا دین سمجھ کر آئے تھے۔

راجپوتوں کو ہی لیجئیے۔ کوئی چندر بنسی ہے تو کوئی سورج بنسی۔ مطلب کوئی سورج سے جنما کوئی چاند سے تو کوئی آگ سے،برہما کے ان تجربات کی تائید اگرچہ سائنس نے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ مگر صاحب تفاخر کے آگے سائنس کیا بیچتی ہے۔ ہم اعلی نسب ہیں اور باقی اقوام کمتر۔ بلکہ کئی لوگ جو جاتی نظام کی تائید میں کتے کے نسلی ہونے کی دلیل بھی لاتے ہیں، لائیے صاحب اب اگر آپ نے انسان کو کتے سے ہی ملانا ہے تو ضرور لائیے۔ یہی تفاخر و تکبر اور اسکی بنیاد پہ دوجوں کو کمتر سمجھنے کا رویہ آپ کو افغان، بلوچ، گجر، اعوان سب ہی میں ملے گا۔ اپنی قوم یا ذات ،جو کبھی ایک پیشہ تھی اور اسکی بنیاد پہ آپکی شناخت بنی، سے پیار کرنا یا اس سے جڑنا قطعا برا نہیں ہے۔ یہ شناختیں ہیں اور بس شناخت ہی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر اس شناخت کی بنیاد پہ آپ انسان کی پروفائلنگ شروع کر دیں، سٹیریو ٹائپس بنائیں، خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھیں تو یہ تعصب ہے، نسل پرستی ہے اور دور اب وہ آ گیا کہ یہ روئیے اپ کو فقط لطیفہ ہی بنائیں گے۔ ایک آدم و حوا سے جنم لینے والی نسل انسانی کسی نا کسی طور ایک دوجے سے منسلک ہے اور مشترکہ جینز کی حامل ہے۔ فخر فقط انسان کی خدمت و مساوات میں ہے جو وحدانیت کا مطمع نظر ہے۔

سو صاحبو اگر کوئی شاہ صاحب، کوئی رانا صاحب، کوئی خان صاحب آپ کو بہت زیادہ اچھلتے محسوس ہوں تو ان کو عام دعوت دیجئیے کہ “آ تیرا ڈی این اے کراواں”۔
نوٹ: مصنف کو ایسا جملہ کہنا آداب کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ شکریہ

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *